Tuesday , October 23 2018
Home / مضامین / آج کے سیاست داں بڑھ گئے سائے ، گھٹ گئے انساں

آج کے سیاست داں بڑھ گئے سائے ، گھٹ گئے انساں

غضنفر علی خاں
سیاست تو پہلے بھی ہوا کرتی تھی آج بھی ہوتی ہے ۔ آئندہ بھی ہوتی رہے گی لیکن ان میں بہت فرق ہوگیا ہے ۔ موجودہ دور میں سیاست صرف اقتدار کے لئے ہوتی ہے جبکہ ماضی میں ملک و قوم کے لئے ہوتی تھی ۔ ماضی میں سیاستداں صرف وطن عزیز کی فکر میں مبتلا رہتے تھے ۔ آج کے سیاست داں صرف جنگ زرگری کے لئے کام کرتے ہیں۔ خاص طورپر اس وقت جو حکومت مودی جی کی ہے اُس نے تو اقتدار کو اپنا مقصد بنالیا ہے ۔ان کے کوئی اصول نہیں ہیں ، اُن کے کچھ اقدار نہیں ہے ۔ یہ قائم بذالذت ہیں۔ ہم ایسے دور میں آگئے ہیں کہ سیاست کو ایک نفع بخش تجارت بنالیا گیا ہے ۔ ہر انتخاب روپئے پیسے اور پارٹیوں یا پھر امیدواروں کے زور بازو پر لڑے جاتے ہیں ۔ روپیہ پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے۔ ہر پارٹی کے امیدوار دل کھول کر دولت لٹاتے ہیں گویا یہ خرچ ان کی سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ سرمایہ لگانے کے بعد سے فائدہ اٹھانا ہی ان کی پہلی ترجیح ہوگئی ہے۔

کسی کو وطن اور اس کے عوام کی ضرورت یا فکر نہیں رہی۔ ایک آگ ہے کہ ہر طرف ہر پارٹی میں دہک رہی ہے اور ہم بیچارے عوام اس دہکتی آگ میں جل کر بھسم ہورہے ہیں ۔ بے اصول اور اعلیٰ شریفانہ اقدار سے یکسر عاری اس سیاست نے تمام اصول توڑ دیئے ہیں ۔ اقتدار کو مضبوط کرنے اس کو دایمیت دینے کیلئے دستور ، قانون ، روایات کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ ہر ریاست میں اپنی پارٹی کی حکومت تشکیل دینے کیلئے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اب دہلی کی بات لیجئے جہاں قانون اور دستور کے مطابق کجریوال کی عام آدمی پارٹی کی وہ حکومت ہے جس نے قطعی بلکہ ظالمانہ اکثریت brute majority حاصل کرکے اقتدار سنبھالا ہے ۔ ایک ایسے زمانہ میں جبکہ ملک بھر میں بی جے پی کا پرچم بلند ہورہا ہے دہلی اسمبلی میں (جو 70 ارکن پر مشتمل ہے ) عام آدمی پارٹی نے 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے 2014 ء میں یہ ثابت کردیا ہے کہ بی جے پی پارٹی یا مودی ۔ امیت جوڑی ہرگز ناقابل شکست نہیں ہے ۔ بس یہی بات مودی ۔ امیت شاہ کوناگوار گذری ۔ ایسی ناگواری کے مرکز کی بی جے پی حکومت اس کی (کجریوال سرکار کی) دشمن ہوگئی ۔ کبھی چیف منسٹر اروند کجریوال کے دفتر پر دہلی پولیس مرکز کے اشارے پر دھاوا بول دیتی ہے کبھی آدھی رات کو سیول ایڈمنسٹریشن کے سربراہ یعنی دہلی کے چیف سکریٹری اُن کے گھر پہ چھاپہ مارتے ہیں اور آسانی سے معائنہ کرنے کی اجازت دینے یا چیف سکریٹری سے حسب قانون تعاون کرنے کے بجائے چیف سکریٹری سے عام آدمی پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی ان سے ہاتھا پائی کرتے ہیں ۔ اب انصاف کی بات تو ہے کہ چیف سکریٹری کو وزیراعلیٰ کجریوال کو اطلاع دینی چاہئے تھی کہ ان کے گھر پر دھاوا ہونے والا ہے اور عام آدمی کے ارکان اسمبلی کو ان کے عہدے اور فریضہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے تھا ۔

اگر کچھ اصول ہوتے تو یہ بات صحیح ہوتی لیکن ایسے دور میں ہوس اقتدار میں مبتلاء بی جے پی کی مودی حکومت کو کیا کہئے کہ وہ ہرقیمت پر کجریوال حکومت کو کسی نہ کسی بہانے سے ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اب بتائیے کہ کیا کوئی پارٹی جمہوری اصولوں اور دستوری تقاضوں کو پورا کررہی ہے ۔ گوا ، منی پور میں بی جے پی کو یہاں ہوئے حالیہ چناؤ میں اکثریت نہیں ملی تھی لیکن توڑ جوڑ کرکے بی جے پی نے اقتدار حاصل کرلیا ۔ یہاں بھی کسی اصول کسی ضابطہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ ہو یہ رہا ہے کہ آج کی سیاست میں محض اتفاق سے بڑے سوچ بڑے ذہن و فکر کو کبھی تنگ خیال نہیں بنایا جاسکتا ۔ ٹھیک اسی طرح سے کسی چھوٹے ذہن کو بڑا بنانے کیلئے اس میں وسعت پیدا نہیں کی جاسکتی ۔ چھوٹے لوگ حالات کی وجہ سے بڑے ہوجاتے ہیں،جو آج کل ہورہا ہے اور وہ جن کے ذہن وسیع ہیں وہ سیاست سے کنارہ کش ہوتے جارہے ہیں ۔ اچھے انسان کے قد گھٹ رہے ہیں اور وہ لوگ جو درازقامت ہوتے ہیں جن کے اپنے اصول ہوتے ہیں وہ ان چھوٹوں کے سامنے اور بھی چھوٹے ہوتے جارہے ہیں ۔ منتخبہ حکومتوں کو گرانا کسی بھی جمہوریت میں گوارا نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسی حکومتوں کو صرف انتخابات جیت کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور یہ بات آج کے چھوٹے قد کے بڑے سیاستداں نہیں سمجھتے ۔ ہم نے کئی جمہوری روایات کو ختم کیا ہے اس کا رتی برابر بھی احساس نہیں رہا ۔ ایک دور تھا جبکہ ہمارے بزرگ سیاستداں حدرجہ دیانتدار اور اصول پسند ہوا کرتے تھے کیونکہ وہ زرگیری کی جنگ نہیں لڑا کرتے تھے وہ تو ملک کی آزادی کی جنگ میں ہی حصہ لیتے تھے ۔ ان کی وضع قطع ان کا رہن سہن ، ان کے لباس سبھی کچھ ہم عام ہندوستانی جیسا ہوا کرتا تھا لیکن اب تو سیاستداں ، ارکان اسمبلی و پارلیمان عوام سے اتنے دور ہوگئے ہیں کہ وہ خود مراعات کے حامل درجہ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کی حیثیت ان کے کارناموں سے نہیں ناپی تولی جاتی بلکہ اُن کی دولت اُن کا منصب متعین کرتا ہے ۔

آج کے وزیراعظم مودی اپنے جسم پر 15 لاکھ کالباس پہنتے ہیں جبکہ ماضی بلکہ ماضی قریب تک ہمارے لیڈر کھدّر پوشی پر اکتفاء کرتے تھے ۔ ان کے پاس ایک کار خریدنے کو تک پیسے نہیں ہوتے تھے جبکہ آج کے سیاستدانوں کے پاس کاروں کا ایک قافلہ ہواکرتا ہے۔ ان کاروں میں نہ صرف وہ بلکہ ان کی اولاد بھی سڑکوں پر گھوما پھرا کرتے ہیں اور راستہ میں آنے والے معصوم اسکول کے 9 بچوں کو کچل کر مقام واردات سے فرار ہوجاتے ہیں ۔ یہ بالکل تازہ واقعہ ہے جو بہار میں وقوع پذیر ہوا ۔ کھدر پوشی کا دور ختم ہوگیا اب تو ملک کے وزیراعظم کسی شو بوائے کی طرح لاکھوں روپیوں کاسوٹ زیب تن کرکے باقاعدہ میڈیا کے ساتھ فوٹو سیشن کرتے ہیں ۔ ذاتی کار خریدنے کے معاملہ پر یاد آیا کہ ملک کے سابق وزیراعظم آنجہانی لال بہادر شاستری بڑی مشکل سے پنجاب نیشنل بینک سے قرض لیکر ایک فیٹ Fiatکار خریدی تھی ۔ آج اس نام کی کار میں بیٹھنا بھی کسی سیاستداں کو گوارا نہیں ہے۔ یہ قرض پر لی ہوئی کار کی آنجہانی شاستری اپنی زندگی میں قیمت چکا نہ سکے تھے کہ اچانک تاشقند میں ہند۔پاک بات چیت میں قلب پر حملہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی بیوہ نے اپنی پنشن سے اقساط کی صورت میں قرض چکایا ۔ آج کے سیاست اور آج کے مرکزی اور ریاستی وزراء یہ سن کر حیران ہوجائیں گے کہ سابقہ وزیر اعظم شاستری کی موت کے بعد صرف ایک ہزار روپئے بطور پنشن یاوظیفہ ان کی بیوہ کو ملا کرتے تھے اور اس چھوٹی سی رقم میں سے للیتا شاستری کار کے قرض کی ادائیگی کرتی رہیں ۔ یہ اگلے وقتوں کے لوگ ہیں انھیں کچھ نہ کہئے ،یہ لوگ اپنی ذات میں ہی ایک انجمن تھے ۔ ایک کتاب ’’تذکرہ آزاد میں ‘‘ جو مولانا آزاد کے پرسنل سکریٹری مولوی عبدالرزاق ملیح آبادی نے لکھی تھی ایک واقعہ مولانا مرحوم کی زندگی کا لکھا ہے کہ اچانک مولانا کے گھر بشمول مولانا محمد علی جوہر ، مولانا محمد علی شوکت کچھ اور ممتاز لیڈر دوپہر کے وقت وارد ہوئے ۔ ان کی ضیافت کے لئے مولانا آزاد کو کچھ اشیاء خوردونوش بازار سے اُدھار منگوانے پڑے تھے کیونکہ مولانا آزاد کے پاس اس وقت پیسے نہیں تھے یہ وہ لوگ تھے جو آج کے سیاستدانوں کیلئے مثال ہیں لیکن کون فقیری کی زندگی گذارے ۔ آج چند ایک استثنائی شکلوں کے علاوہ ہر سیاست داں کروڑپتی ، ارب پتی نہیں تو لکھ پتی ضرور ہے ۔ ایک بار کسی غیرآباد علاقہ میں مولانا آزاد اور دیگر لیڈر پنڈت جواہرلال نہرو کے ساتھ بھوک سے بے حال ہورہے تھے ۔ ایک پھیری والا اپنی ٹوکری میں امرود ( جام ) لیکر گذرا ، مولانا اور پنڈت نہرو نے اپنی جیب ٹٹولی اور جو کچھ نکل سکا اس سے امرود خریدکر اپنی بھوک مٹائی کیونکہ وہ دیانتدار سیاستداں تھے اور صرف سیاستداں ہی نہیں حدردجہ وطن پرست تھے ۔

1990ء کے دہے میں جب جئے پرکاش نارائن کی قیادت میں اپو۔یشن جماعتوں نے جنتا پارٹی بناکر شاندار انداز میں اقتدار حاصل کیا تھااس وقت کسی نے آنجہانی جئے پرکاش نارائن سے کہا تھا کہ ’’آپ چنبل وادی کے ڈاکوں میں کسی ایک کو پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے سفارش کیوں نہیں کرتے ‘‘ چونکہ ہتھیار ترک کرنے پر ڈاکوں کو آمادہ کرنے کے معاملہ میں آنجہانی جئے پرکاش کا بھی بہت دخل رہا تھا تو آنجہانی جئے پرکاش نارائن نے جواب میں کہا تھا کہ ’’اب تو یہ ڈاکو سدھر گئے ہیں تم کیوں دوبارہ ان کو پارلیمان میں بھجواکر پھر وہی لوٹ مار سکھانا چاہتے ہو ‘‘ ۔ اب آپ خود سوچ لیجئے کہ انھوں نے جس اندیشے کااظہار کیا تھا وہ آج کتنی بڑی صداقت بن گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT