Friday , June 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / آخرت کے انعامات تصور سے بالاتر

آخرت کے انعامات تصور سے بالاتر

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
ایک انڈا جس کے اندر مرغی کا بچہ بن چکا ہے اور تھوڑی دیر میں وہ انڈا سے باہر آنے والا۔ اب فرض کیجئے کہ اس چھوٹے سے بچہ کے ذہن میں اگر کوئی یہ بات ڈالے کہ تم تو ایک خول کے اندر بند ہو، لیکن تھوڑی دیر میں یہ خول ٹوٹ جائے گا اور ایک دنیا تمہاری نگاہوں کے سامنے ہوگی، جس میں چھ فٹ کا انسان بھی نظر آئے گا، لوگوں کے مکانات بھی ہوں گے، پہاڑ بھی ہوں گے، درخت بھی ہوں گے، آسمان بھی ہوگا، ستارے بھی ہوں گے اور سمندر و آبشار بھی ہوں گے۔ وہ بچہ اگر اس وقت اپنے ذہن میں یہ سوچے کہ ’’اچھا میں دیکھتا ہوں کہ یہ چیزیں نظر آتی ہیں یا نہیں؟‘‘ تو اس کو انڈے کے خول میں رہتے ہوئے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ لیکن اگر وہ یقین کرلے گا تو جیسے ہی انڈے کے خول سے باہر آئے گا، وہ انسان کو بھی دیکھے گا، درختوں کو بھی دیکھے گا، مکانوں کو بھی دیکھے گا، یہاں تک کہ اس کو اپنے دشمن بلی کا بھی پتہ چل جائے گا اور اس کو ہرچیز اپنے آنکھوں کے سامنے نظر آجائے گی۔ لیکن وہی بچہ انڈے کے اندر رہ کر دیکھنا چاہے تو اسے کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ بالکل اسی طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ ہم زمین اور آسمان کے انڈے کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، ایک جنت بھی ہے اور دوزخ بھی ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی میزان عدل بھی قائم کرے گا۔

اگر ہم اس پر یقین کرلیں تو ہمارا فائدہ ہے اور اگر نہیں کریں گے تو موت کے وقت اللہ تعالی پردہ ہٹا دے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اس دن اللہ تعالی آنکھوں کے پردے کھول دے گا اور انسان اپنی آنکھوں سے آخرت کی ہر چیز کو دیکھ لے گا۔ پھر پچھتائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں نیک کام کرلئے ہوتے‘‘ (سورہ قٓ۔۲۲) لیکن اب پچھتانے اور رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بندہ یہ فریاد کرے گا کہ ’’اے اللہ! مجھے واپس (دنیا میں) بھیج دے اور ایک موقع عنایت فرما، تاکہ میں نیک بن کر زندگی گزاروں‘‘۔ اللہ تعالی فرمائے گا ’’ہرگز نہیں‘‘۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی موت کی تیاری کریں۔ اگر کوئی مرغی بلی کو آتا دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلے تو اس کی جان نہیں بچتی، اس کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں، جب بلی پہنچ کر اس کا گلا دبوچ لیتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم موت سے آنکھیں بند کرلیں گے تو ہم ملک الموت سے بچنے والے نہیں ہیں، لیکن ہماری آنکھیں اس وقت کھلیں گی، جب ملک الموت آکر ہمارا گلا دبوچیں گے اور پھر ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے دنیا کے اندر تیاری کرلی ہوتی تو آج پچھتانے کی نوبت نہ آتی۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ نیکی پر زندگی گزاریں اور آج سے ہی اس کے لئے محنت شروع کردیں۔
دنیا کے اندر خواتین اپنی زندگی کے لئے بہت سے پروگرامس تیار کرتی ہیں، کئی کئی سال اس سوچ میں لگادیتی ہیں کہ گھر ایسا ہو، کچن ایسا ہو اور لاؤنچ ایسا ہو۔ یعنی زندگی کی جو خواہشات اور سہولیات ہوتی ہیں، ان کا خیال رکھ کر کئی برسوں کے بعد ان کو مکان بنانے یا خریدنے کا موقع ملتا ہے۔ لہذا دنیا میں بھی اسی طرح انسان آخرت کو سامنے رکھ کر نیک اعمال شروع کردے، اللہ تعالی کے احکام اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرے۔

واضح رہے کہ یہ زندگی بہت تھوڑی ہے، جو مشکل میں بھی گزر جائے گی، لیکن آخرت میں اللہ کے نیک بندوں کو اتنا کچھ ملے گا، جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور کسی بشر کے دل میں جنت کا گمان تک بھی نہیں گزرا۔ اگر ہم تصور کریں تو ہم خوبصورت سے خوبصورت انسان کا تصور کرسکتے ہیں اور خوبصورت سے خوبصورت منظر کا بھی تصور کرسکتے ہیں، لیکن ہم جو کچھ سوچیں گے یہ سب چیزیں چھوٹی ہوں گی، نیچی ہوں گی اور جنت کے حسن و جمال کا معاملہ اور جنت کے اندر کی زندگی کا معاملہ ہماری سوچ سے بھی بہتر ہوگا۔
اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ میں آپ کو ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر آپ اسے کرلیں تو آپ جو بھی کہیں گے آپ کی بات پوری ہو جائے گی۔ آپ اس عمل کی تکمیل کے لئے ہر طرح کی تکالیف اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں گے، کیونکہ آپ کو ایک ایسا موقع ملنے والا ہے کہ آپ کی ہر بات پوری ہو جائے گی۔ اگر دنیا کے اندر ہر بات پوری ہونے کی خاطر ہم ہر طرح کی تکالیف اٹھا سکتے ہیں تو پھر پروردگار عالم کے اس فرمان پر یقین کیوں نہیں کرتے کہ ’’جب میرے پاس آئیں گے تو میں ان کو ایسی زندگی دوں گا، جو ان کے دل کی چاہت ہوگی اور ان کے دل کی ہر چاہت پوری کردی جائے گی‘‘ (سورہ حم السجدہ۔۳۱) تو یہ کتنے نفع کا سودا ہے کہ ہم تھوڑی سی زندگی میں اللہ رب العزت کی چاہت کو پوری کردیں اور پھر آخرت میں اللہ رب العزت ہماری چاہت کو پوری فرمائے گا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق مل جائے گی، لہذا عقلمندی اسی میں ہے کہ دنیا میں ہم اپنی آخرت کی تیاری کرلیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تم دنیا میں ایسی زندگی گزارو، جیسے کوئی پردیسی گزارتا ہے‘‘۔ ہم لوگوں سے پہلے نہ جانے کتنے لوگ آئے، جو زندگی گزارکر چلے گئے۔ آج ہم زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد ہم بھی چلے جائیں گے۔ پہلے ہمارے ماں باپ اس زمین پر مہمان تھے، وہ چلے گئے۔ اب ہم زمین پر مہمان ہیں اور ایک دن ہم بھی چلے جائیں گے۔ پھر کچھ دن کے بعد ہماری اولادیں ہوں گی، پھر ان کی اولادیں ہوں گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا، لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم ڈٹ کر نیکی کریں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر کے درمیان ہوں گی‘‘۔ پہلے زمانے میں لوگوں کی عمریں زیادہ ہوا کرتی تھی، چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے نو سو پچاس سال اپنی قوم میں تبلیغ کی اور جب زیادہ لوگ ایمان نے لائے اور آپ کو ستایا تو اس وقت انھوں نے بددعا کی اور طوفان نوح آیا۔ طوفان کے بعد بھی آپ ساٹھ سال تک زندہ رہے، گویا ایک ہزار پچاس سال کی زندگی پائی، جب کہ آج سو سال کی عمر بہت کم لوگ پاتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں نیک اعمال زیادہ سے زیادہ کرلیں، جس کا صلہ آخرت میں ہمیں ایسا حاصل ہوگا، جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT