Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آخر ہم کب تک قطار میں ٹھہریں گے ؟

آخر ہم کب تک قطار میں ٹھہریں گے ؟

ونپرتی میں بینکوں کے چکر کاٹنے کیلئے مجبور عوام کا استفسار
ونپرتی۔/18ڈسمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی حکومت کے 500اور 1000 کی نوٹوں پر پابندی لگائے ہوئے دیڑھ ماہ کے قریب کا عرصہ ہورہا ہے لیکن ابھی تک عوام کو قطار میں ٹھہر کر روپیوں کو اے ٹی ایم اور بینکوں سے حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ونپرتی میں ایس بی ایچ اور ایس بی آئی بینکوں کے سامنے صبح 8 بجے سے عوام قطار میں ٹھہررہے ہیں۔ بینک کھلنے سے پہلے سینکڑوں کی تعداد میں عوام قطار میں ٹھہررہے ہیں اور عوام حکومت سے استفسار کررہے ہیں کہ آخرکب تک ہم قطار میں ٹھہریں، بینک میں صرف ایک فرد کو صرف 4000 روپئے دے رہے ہیں ملازمین صبح کے اوقات میں پیسوں کے حصول کیلئے چھٹی لگارہے ہیں اور کئی ملازمین اپنی ملازمت سے فراغت کے بعد رات 11بجے تک اے ٹی ایم کے پاس قطار میں ٹھہر رہے ہیں۔ اے ٹی ایم کے روبرو رات کے اوقات میں لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں ، ونپرتی ضلع ہیڈ کوارٹر میں صرف 3 اے ٹی ایم ہی میں رقم دستیاب ہورہی ہے وہ بھی صبح کچھ رقم اور شام میں کچھ رقم رکھی جارہی ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ گھنٹوں قطار میں ٹھہرنے کے بعد جب اے ٹی ایم میں داخلہ کا وقت آتا ہے تو اے ٹی ایم میں روپئے ختم ہوجارہے ہیں جس سے مایوس ہوکر واپس ہونا پڑ رہا ہے، دوپہر کے بعد بینکوں میں نو کیاش کا بورڈ آویزاں کیا جارہا ہے جس سے کھاتہ داروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ریاستی حکومت کیاش لیس کے نام پر عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے شعور بیداری مہم شروع کی ہے۔ ونپرتی ضلع کلکٹر شویتا مہنتی بھی ونپرتی میں کیاش لیس کیلئے اقدامات کررہی ہیں اس سلسلہ میں اب تک ونپرتی میں 3 پروگراموں کا انعقاد عمل میں لاکر عوام میں شعور بیدار کیا جارہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کیش لیس جب ہی قابو میںآسکتا ہے کہ سب کے پاس کارڈ ہو اور دکاندار کے پاس مشین ہو۔ لیکن ونپرتی کے تمام دکانات میں بہت کم جگہ مشین ہیں۔ نوٹ بندی سے کاروبار 50فیصد سے زیادہ گراوٹ ہونے پر تاجرین پریشان ہیں۔ نمائندہ سیاست نے ایک تاجر سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملازمین کو تنخواہ دینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ عوام کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت بلیک منی کو ختم کرنا تھا تو پہلے نئے کرنسی کو نکال کر بعد میں پرانے کرنسی پر پابندی عائد کرنا تھا۔ نوٹ بندی کے بعد دن بہ دن ونپرتی میں سڑکیں سنسان نظر آرہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT