Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / آدتیہ ناتھ نے تاج محل کے باہر جھاڑو لگائی ‘ مغل شاہکار کا نظارہ

آدتیہ ناتھ نے تاج محل کے باہر جھاڑو لگائی ‘ مغل شاہکار کا نظارہ

پارٹی قائدین کے متنازعہ ریمارکس کا اثر زائل کرنے کی کوشش۔ بیرونی سیاحوں کے ساتھ چیف منسٹر کی تصویر کشی
آگرہ 26 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے آج تاج محل کے باہر سڑک پر جھاڑو لگائی اور پھر مغلیہ دور کی اس یادگار کے اندر بھی گئے ۔ یہ در اصل ہندوستانی ثقافتی ورثہ کے تعلق سے ان کی پارٹی کے کچھ قائدین کی جانب سے کئے گئے متنازعہ ریمارکس کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش تھی ۔ آدتیہ ناتھ کے اس دورہ کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی تھی ۔ وہ بی جے پی کے پہلے چیف منسٹر ہیں جنہوں نے تاج محل کا دورہ کیا ہو۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جبکہ کچھ ہی دن قبل پارٹکی قائدین اور وزرا نے محبت کی اس یادگار کے خلاف کچھ اشتعال انگیز ریمارکس کئے تھے ۔ آدتیہ ناتھ کئی سکیوریٹی اہلکاروں اور عہدیداروں کے علاوہ پارٹی حامیوں کے ساتھ تاج محل گئے اور انہوں نے تاج کامپلکس میں تقریبا نصف گھنٹہ گذارا ۔ انہوں نے بیرونی سیاحوں کے ساتھ کچھ تصاویر بھی بنوائیں اور ان سے بات چیت کی ۔ جب وہ تاج محل جانے والے راستے پر ریاستی وزیر سیاحت ریٹا بہوگنا جوشی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے بھارت ماتا کی جئے اور آدتیہ ناتھ کی تائید میں نعرے لگائے جا رہے تھے ۔ وہ مغربی باب الداخلہ سے اندر داخل ہوئے جہاں انہوں نے روڈ پر سینئر قائدین کے ساتھ جھاڑو لگائی تھی اور پھر وہ مشرقی گیٹ سے باہر نکل گئے ۔ یہاں سے وہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ایک پریزینٹیشن کا جائزہ لینے سیدھے محکمہ سیاحت کی ایک ہوٹل پہونچے ۔ چہرے پر نقاب لگائے ‘ ہاتھوں میں زرد دستانے پہنے اور ہاتھ میں جھاڑو لئے آدتیہ ناتھ تقریبا 500 بی جے پی کارکنوں کے ساتھ پارکنگ علاقہ میں جھاڑو لگائی ۔

ان میں کچھ ارکان اسمبلی بھی تھے ۔ یہ عمل انہوں نے سوچھ بھارت مشن کے سلسلہ میں کیا ۔ آدتیہ ناتھ آج صبح آگرہ شہر پہونچے تھے جہاں ان کی سکیوریٹی کیلئے تقریبا 14,000 پولیس اہلکاروں کو متعین کیا گیا تھا ۔ ریاست میں ایک تنازعہ اس وقت پیدا ہوگیا تھا جب محکمہ سیاحت کے ایک کتابچہ میں ریاست کے تفریحی مراکز میں تاج محل کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم نے تاج محل کو ہندوستانی ثقافت پر ایک دھبا قرار دیا تھا جبکہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ونئے کٹیار نے اسے ایک شیو مندر قرار دیا تھا ۔ اس کے بعد ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے تاج محل کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ یہ دورہ خود آدتیہ ناتھ کے ریمارکس سے اختلاف میں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے گذشتہ سال بہار میں ایک ریلی کے دوران کہا تھا کہ تاج محل ہندوستانی ثقافت کی علامت نہیں ہے اور جو بیرونی مہمان ہندوستان آتے ہیں انہیں تاج محل کا نمونہ پیش کرنے کی بجائے گیتا دی جانی چاہئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت چیف منسٹر تاج محل کے اندر تھے اس وقت ان کے پارٹی کے رکن اسمبلی نارتھ آگرہ میڈیا سے کہہ رہے تھے کہ مغلوں نے تاج محل بنانے سے قبل یہاں ایک مندر کو منہدم کردیا تھا ۔ رکن اسمبلی جگن پرساد گارگ نے کہا کہ کئی مورخین کا ماننا ہے کہ مغلوں نے یہاں تاج محل کی تعمیر سے قبل ایک مندر کو منہدم کیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ چیف منسٹر نے تاج کے شہر آگرہ کی ترقی کیلئے370 کروڑ کے ایک پراجیکٹ کا اعلان کیا ہے ۔ سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ چیف منسٹر آگرہ میں کئی ترقیاتی پراجیکٹس کا افتتاح کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT