Sunday , June 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / آدمی کی نیت نیک ہونی چاہئے

آدمی کی نیت نیک ہونی چاہئے

شیطان کی ایجنسی نفس نے لے رکھی ہے۔ شیطان ایسے سارے کام اپنے اسی ایجنٹ کے ذریعہ کراتا ہے، اس کی چالوں کو سمجھنے کے لئے بڑی دقت نظر کی ضرورت ہے۔ حضرت ابوبکر دقاق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اپنے اخلاص پر نظر رکھنا، مخلص کے لئے نقصاندہ ہے۔ جب اللہ تعالی کسی بندے کے اخلاص کو خالص بنانا چاہتا ہے تو اس کے اخلاص سے ’’اخلاص کو دیکھنا‘‘ نک

شیطان کی ایجنسی نفس نے لے رکھی ہے۔ شیطان ایسے سارے کام اپنے اسی ایجنٹ کے ذریعہ کراتا ہے، اس کی چالوں کو سمجھنے کے لئے بڑی دقت نظر کی ضرورت ہے۔ حضرت ابوبکر دقاق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اپنے اخلاص پر نظر رکھنا، مخلص کے لئے نقصاندہ ہے۔ جب اللہ تعالی کسی بندے کے اخلاص کو خالص بنانا چاہتا ہے تو اس کے اخلاص سے ’’اخلاص کو دیکھنا‘‘ نکال دیتا ہے۔ لہذا اب وہ مخلِص نہیں بلکہ مخلَص ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا چنیدہ۔ حضرت مکحول رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’جب کوئی چالیس دن تک اخلاص پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے حکمت کے چشمے پھوٹ کر زبان پر جاری ہو جاتے ہیں‘‘ اور حضرت ابوسلیمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’جب بندے میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے تو وسوسوں کی کثرت اور ریا ختم ہو جاتی ہے‘‘۔
اخلاص نیت ہی کی خاطر ہمارے اکثر محدثین اپنی حدیث کی کتابوں کا آغاز ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ والی حدیث سے کرتے ہیں، تاکہ شعوری طورپر ان کو یہ احساس رہے کہ اپنی نیت کو خالص رکھنا ہے، اللہ تعالی کی رضا کے علاوہ کوئی اور چیز ان کا مقصود نہ بن جائے۔ جب محدثین کرام اور بزرگان دین ریا اور دکھاوے سے بچنے کے لئے اتنا اہتمام کرتے ہوں تو ہم جیسے ازکار رفتہ لوگوں کو اس کا کتنا اہتمام کرنا چاہئے۔ بہرحال شیطان کے حربوں سے بچنا چاہئے، کیونکہ یہ اکثر ہماری نیتوں کو فاسد کرکے ہمارے اعمال کو غارت کردیتا ہے۔ مگر ایسا بھی نہ ہو کہ ہم مخلوق ہی کی طرف متوجہ ہو جائیں، یہ بھی شیطان کی ایک چال ہوتی ہے کہ ریا کا احساس اتنا زیادہ پیدا کردیتا ہے کہ آدمی بس اسی کی طرف متوجہ ہوکر رہ جاتا ہے کہ میرا عمل کسی ریا کی زد میں نہ آجائے، اس طرح اس کی توجہ مخلوق کی طرف ہو جاتی ہے۔ اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے تو اپنے شیطان سے کہہ دو کہ ’’اب تو جتنا چاہے وسوسہ ڈالتا رہ، میں اپنا کام کئے جاؤں گا‘‘۔ پھر مخلوق کی طرف سے اپنا خیال ہٹالیں، رفتہ رفتہ ریا دُور ہوکر اخلاص آجائے گا۔ بس کام میں لگے رہنا چاہئے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ریا ہمیشہ نہیں رہتی، بالآخر تبدیل ہوکر اخلاص بن جاتی ہے اور اخلاص ہی قرب کا موجب ہوتا ہے‘‘۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’آدمی مخلص اس وقت ہوتا ہے، جب اس کی کیفیت شیرخوار بچے کی سی ہو جائے کہ وہ مخلص سے بے نیاز ہوکر ماں کا دودھ پیتا رہتا ہے،

اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کون اسے دیکھ رہا ہے اور کون نہیں دیکھا رہا ہے۔ کون اس کی تعریف کر رہا ہے اور کون مذمت‘‘۔ حضرت معروف کرخی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’جو شخص نیک اعمال ثواب کی نیت سے کرے، وہ سوداگر ہے اور جو نیک اعمال جنت کی طمع اور دوزخ کے خوف سے کرے وہ غلام ہے، کیونکہ غلام خوف اور لالچ ہی سے کام کرتے ہیں اور جو رضائے الہٰی کے لئے عمل کرے، اس کا شمار احرار اور کاملین میں ہوتا ہے، جو ایک اعلیٰ مرتبہ ہے‘‘۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’آدمی کی نیت نیک ہونی چاہئے، کیونکہ مخلوق کی نظر عمل پر ہوتی ہے اور خالق کی نظر نیت پر‘‘۔ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دِلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے‘‘۔
ریا سے بچنے کے اہتمام میں زیادہ مبتلا کرکے بھی شیطان مخلوق کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔

یہ بڑا موذی دشمن ہے، اس کی چالوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں بڑا عالم فاضل ہوں، شیطان کا داؤ مجھ پر نہیں چل سکتا۔ جو آدمی جس لائن کا ہے، اس کو یہ موذی اسی کی لائن سے مارتا ہے۔ ایک صاحب عبادت گزار تھے، رات رات بھر جاگ کر نوافل ادا کرتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ نماز فجر کے بعد ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آئینہ بھی دیکھ لیا کرتے تھے اور ایک لمحہ کے لئے یہ خیال فرماتے تھے کہ ’’چہرہ پر نور کتنا آیا ہے‘‘۔ ایک روز وہ اسی طرح آئینہ دیکھ رہے تھے، عین اسی وقت کھڑکی سے باہر ان کی نظر پڑھی تو دیکھا کہ شیطان جلدی جلدی کہیں جا رہا ہے۔ انھوں نے پوچھا ’’ارے ملعون! کہاں جا رہا ہے؟‘‘۔ بولا: ’’فلاں شخص کو بہکانے جا رہا ہوں‘‘۔ انھوں نے از راہ فخر فرمایا: ’’اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا ہے، میرے پاس آنے کی تیری ہمت نہیں ہوتی!‘‘۔ شیطان نے مسکراکر کہا: ’’حضرت! پھر آپ کو ہر روز یہ آئینہ کون دکھا رہا ہے؟‘‘۔ یعنی شیطان ہر ایک کو ایک ہی طریقہ سے نہیں بہکاتا، اس کی بے شمار چالیں ہوتی ہیں اور ہر چال بڑی باریک ہوتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے دقتِ نظر کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک میں ہے کہ اس نے اللہ تعالی سے کہہ دیا ہے: ’’میں تیرے بندوں میں ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔ میں انھیں بہکاؤں گا، میں انھیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا‘‘۔ اور اللہ تعالی نے بھی ہمیں واضح طورپر بتادیا ہے کہ ’’وہ لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور انھیں امید دلاتا ہے‘‘۔ لہذا اللہ تعالی کے حق ’’دین خالص‘‘ کی ادائی کے لئے ہم کو اپنی نیتوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے اور قیامت کے دن ان نیتوں کی بھی جانچ پڑتال ہوگی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’(انسان) کیا اس وقت کو نہیں جانتا، جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے جانچ پڑتال کے لئے نکالا جائے گا اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے بھی نکالا جائے گا‘‘۔ یعنی حشر کے دن قبروں سے صرف مردے ہی نہیں نکالے جائیں گے، بلکہ سینوں سے نیتوں اور ارادے بھی نکالے جائیں گے، اس لئے اپنی نیتوں اور ارادوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے، انھیں بگڑنے نہیں دینا چاہئے، کیونکہ اس منزل میں پھسلا ہوا شخص دھوبی کا کتا بن کر رہ جاتا ہے، یعنی گھر کا نہ گھاٹ کا، اعمال میں مشقت بھی اٹھائی اور اجر بھی نہ مل سکا۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں صدقات اور خیرات کرنے والے دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک وہ لوگ جو دنیا کو دکھانے کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اگرچہ وہ اللہ ہی کی راہ میں ہو۔ دوسرے وہ لوگ ہیں، جو صرف اور صرف اللہ کی رضا ڈھونڈتے ہوئے اخلاص نیت کے ساتھ اپنا مال غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ان دونوں کے عمل بظاہر یکساں ہیں اور ان دونوں میں بظاہر کوئی فرق بھی نظر نہیں آتا، مگر چوں کہ نیتوں میں اختلاف ہے، اس لئے نتائج دونوں کے محتلف ہوں گے، ایک کا عمل باعث رحمت ہے اور دوسرے کا باعث زحمت۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’جیسے وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی ایک چٹان ہے، جس پر مٹی آگئی ہو، پھر اس پر موسلا دھار بارش ہو جائے جو اس مٹی کو بالکل صاف کردے، تو ایسے ریاکار لوگ اپنی کمائی کا کچھ پھل حاصل نہ کرسکیں گے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۲۶۴) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT