Monday , December 11 2017
Home / جرائم و حادثات / آدھار اور پیان نمبر کی فراہمی پر کھاتوں سے رقم غائب

آدھار اور پیان نمبر کی فراہمی پر کھاتوں سے رقم غائب

سائبر جرائم کا نیا حربہ ، اجنبی فون فون کالس سے چوکنا رہنے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 20 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : سائبر کرائم مجرمین جرائم کی انجام دہی کے لیے نت نئے طریقہ اختیار کررہے ہیں اور معصوم لوگوں کے کھاتوں سے رقم غائب کررہے ہیں اب انہوں نے ایک اور نیا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ مجرمین فون کے ذریعہ رابطہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آدھار کارڈ اور پیان کارڈ تاحال آپ نے لنک نہیں کیا ہے اور وقت بھی ختم ہورہا ہے ۔ اگر آپ آدھار اور پیان لنک نہیں کریں گے تو آپ کا کھاتہ منجمد ہوجائے گا جس کی وجہ سے آپ کو دوبارہ کھاتہ کھلوانے میں دشواریاں پیش آئیں گی لہذا آپ اپنا آدھار اور پیان نمبر بتائیں تاکہ آپ کے کھاتے سے لنک کیا جاسکے ۔ کھاتہ داروں سے ان کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈس کی بھی تفصیلات حاصل کرلیتے ہیں ۔ کوکٹ پلی کے رہنے والے سافٹ ویر انجینئر راج شیکھر مادھا پور میں واقع ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں برسر خدمت ہے دو دن قبل وہ بذریعہ کیاب آفس روانگی کے دوران ایک فون کال وصول کیا اور اسی وقت انہیں اپنی آفس سے موصول ہونے والی فون کالس پر گفتگو کیا اور وہ عجلت میں تھے کہ اس دوران انہیں ایک اجنبی نے فون کر کے آدھار اور پیان لنک سے متعلق کہنے پر راج شیکھر نے تفصیلات فراہم کردیں اور بنک سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس کے ذریعہ اس نے حیدرآباد سائبر کرائم سے رجوع کیا ۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں کئی افراد کے بنک کھاتوں سے نقد رقم غائب کردی گئی ہے اور تمام متاثرین کا یہی کہنا ہے کہ صبح آفس جانے کے یا آفس کے مصروف ترین اوقات میں ایسے فون کالس وصول ہورہے ہیں ۔

سائبر آباد ، رچہ کنڈہ کمشنریٹ کے احاطوں میں روزانہ 10 افراد کو اجنبی فون کالس وصول ہورہی ہیں ۔ پولیس کی جانب سے سائبر کرائم سے متعلق وسیع پیمانہ پر عوام کو آگاہ کرنے کی وجہ سے سائبر مجرمین کی سازشیں ناکام ہورہی ہیں اور یہ مجرمین دھوکہ دہی کے نت نئے طریقے استعمال کررہے ہیں ۔ اسی وجہ سے مصروف ترین اوقات میں دھوکہ دے رہے ہیں ۔ ملازمین اور طلباء کو فون کررہے ہیں اور صبح 10 ۔ 12 بجے کے درمیان فون کالس کے ذریعہ دھوکہ دہی میں مبتلا ہورہے ہیں اور معصوم افراد کو خالی اوقات میں نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسے افراد آدھار پیان لنک سے متعلق سنتے ہی تفصیلات مجرمین کو فراہم کررہے ہیں ۔ دن بھر کی مصروفیات سے تھکے ماندے افراد شام 7 ۔ 8 بجے گھر پہونچ کر تھوڑی دیر راحت حاصل کررہے ہوتے ہیں ایسے وقت میں بھی سائبر مجرمین فون کالس کے ذریعہ دھوکہ دہی انجام دے رہے ہیں ۔ سرور نگر کا باشندہ آر ٹی سی ڈرائیور رمیش صبح تا شام سات بجے ڈیوٹی انجام دینے کے بعد رات آٹھ بجے کرسی پر بیٹھ کر راحت پا رہا تھا کہ اسی دوران اسے ایک فون کال موصول ہوئی اور فون کرنے والے اجنبی شخص نے کہا کہ جناب میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے بات کررہا ہوں ۔

آپ نے تاحال آدھار اور پیان لنک نہیں کیا ہے ۔ آپ فوری لنک کریں ورنہ آپ کا کھاتہ منجمد کردیا جائے گا ۔ اس گفتگو کو سننے کے بعد رمیش نے تمام تفصیلات فراہم کردیں اور اس اجنبی نے رمیش کے بینک کھاتہ سے 75 ہزار روپئے غائب کردئیے ۔ واضح ہو کہ سائبر مجرمین صرف صبح ہی نہیں بلکہ شام کے اوقات جب آدمی دن بھر کی مصروفیات سے تھکا ماندہ گھر لوٹتا ہے ۔ اس وقت بھی یہ مجرمین عام افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ سائبر جرائم کے ذریعہ غائب ہونے والی رقم کی بازیابی پولیس کے لیے بے حد مشکل کام ہے مجرمین کی جانب سے استعمال کئے جانے والے تمام بنک کھاتے جھارکھنڈ ، اترپردیش اور دہلی کے ہیں اور پولیس کو وہاں جاکر ان مجرمین کو گرفتار کرنا مشکل ہے ۔ اسی لیے سائبر کرائم پولیس بار بار اعلان کررہی ہے کہ ایسے اجنبی فون کالس کے ذریعہ دھوکہ بازوں کا نشانہ نہ بنیں ، واضح ہو کہ نقد یا ڈیبٹ کارڈس کے ذریعہ دھوکہ دہی ہونے پر 24 گھنٹوں کے اندر شکایت درج کرنے پر رقم واپسی ممکن ہوسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT