Saturday , December 16 2017
Home / سیاسیات / آدھار بل میں راجیہ سبھا کی ترمیمات مسترد

آدھار بل میں راجیہ سبھا کی ترمیمات مسترد

مرکزی وزیر فینانس کا بیان ، مودی حکومت راجیہ سبھا کی تحقیر کررہی ہے ، کانگریس کا الزام
نئی دہلی ۔ /18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کی جانب سے ایوان بالا کی ترمیمات کو مسترد کردینے کو جائز قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ اگر تبدیلیوں کو قبول کرلیا جائے جو آدھار بل کیلئے راجیہ سبھا کی جانب سے پیش کی گئی ہیں تو قواعد کی ادائیگیوں ، غیردستوری ہوسکتی ہیں ۔ ترمیمات کو قبول کرنے کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر حق خلوت میں ناجائز اور غیرقانونی دراندازی ہوگی اور ایک آڈیٹر کو انسداد بدعنوانی اختیارات جیسے قومی صیانت کے مسائل کی نگرانی حاصل ہوجائیں گے ۔ یہ کوتاہیاں آدھار قانون کو غیردستوری بنادیں گی ۔ واضح طور پر لوک سبھا میں ان تجاویز سے اتفاق نہیں کیا اور ان کے نکتہ نظر میں لوک سبھا کا موقف بالکل درست ہے ۔ لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کے نصف اول میں چہارشنبہ کے دن راجیہ سبھا کے فیصلہ کا آدھار بل 2016 ء کے بارے میں انتظار کیا اور اس کے بعد تیزی سے اس قانون میں ترمیمات کی تجاویز کو مسترد کردیا ۔ راجیہ سبھا کی جانب سے اس قانون میں ترمیمات جہاں برسراقتدار این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ کانگریسی ارکان بشمول جئے رام رمیش کی جانب سے پیش کی گیئں تھیں ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ اس قانون سازی کا مقصد رعایتوں کو بہتر بنانا اور فوائد کو انوکھے شناختی نمبر کے ذریعہ مستحقین تک پہونچانا ہے ۔ اس کی دفعات سخت ٹھوس ہیں اور طریقہ کار کے اعتبار سے کسی کی بھی نجی زندگی کا تحفظ کرتی ہیں ۔ قومی صیانت واحد بنیاد ہے

جس کی وجہ سے بااختیار اتھاریٹی بائیو میٹرک معلومات میں جو آدھار میں موجود ہیں شرکت کرسکتی ہیں ۔ ترمیمات کے ذریعہ اس شرط کی جگہ ایک غیر واضح اور لچک دار عوامی ہنگامی صورتحال یا عوامی تحفظ کا مفاد جیسے الفاظ شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آدھار کی معلومات کس طرح عوامی ہنگامی صورتحال یا عوامی تحفظ کیلئے استعمال کی جائیں گی ۔ جیٹلی نے کہا کہ ترمیمات کی قبولیت کے نتیجہ میں یہ ممکن تھا کہ کسی کی بھی نجی زندگی میں قومی سلامتی کے بہانے ناجائز اور غیرقانونی دراندازی کی جاتی ۔ کانگریس نے آج بی جے پی زیرقیادت مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ راجیہ سبھا کی مکمل طورپر تحقیر کررہی ہے اور منی بل کو آدھار بل کی آڑ میں منظور کروا رہی ہے ۔ کانگریس نے آج نشاندہی کی کہ اس مسئلہ کو دیگر مسائل کی طرح عدالتوں میں چیلنج کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے ۔ حکومت راجیہ سبھا کے فیصلوں کو کالعدم کرکے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتی ہے ۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا ہندوستانی جمہوریت کے رتھ کے دو پہیے ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک پہیہ نہیں دوڑا تو اس سے جمہوریت متاثر ہوگی۔ کانگریس کے ترجمان جئے رام رمیش نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی ۔ انھوں نے زور دیا کہ دستور کی دفعہ 110 میں جو گنجائشیں فراہم کی گئیں ہیں اُن کے بموجب راجیہ سبھا کی پانچ سفارشات کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے جس کا حکومت استحصال کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT