Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / آدھار تفصیلات کا افشاء: حکومت آزادی صحافت کی پابند:روی شنکر پرساد

آدھار تفصیلات کا افشاء: حکومت آزادی صحافت کی پابند:روی شنکر پرساد

روزنامہ ٹریبیون اور رپورٹر کیخلاف ایف آئی آر پر ایڈیٹرس گلڈ کا شدید ردعمل

نئی دہلی ۔ 8 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) آدھار تفصیلات کے افشاء سے متعلق ایک اخباری اطلاع پر حکام کی طرف سے کی گئی کارروائی پر تنقیدوں کے درمیان وزیر قانون و انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے آج کہا کہ حکومت آزادی صحافت کی پابند ہے اور ’’نامعلوم ‘‘ اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں۔ پرساد نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’حکومت ہندوستان کی ترقی کیلئے آدھار کے تقدس اور تحفظ کی برقراری کے ساتھ آزادی صحافت کے عزم کی پابند ہے ‘‘ ۔ آدھار تفصیلات کے افشاء سے متعلق اخباری رپورٹس کے سلسلے میں یونیک آئیڈنٹیفیکیشن اتھاریٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی ) کے عہدیداروں کی شکایت پر دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرلیا۔ آدھار تفصیلات کی رازداری سے متعلق عہدشکنی پر ایک اخبار کے رپورٹر کے نام کے ساتھ مضمون شائع کرتے ہوئے افشاء شدہ تفصیلات کا حوالہ دیا تھا ۔ ایف آئی آر درج کئے جانے کے باوجود اس اخبار نے کہا ہے کہ تحقیقاتی صحافت جاری رکھنے کیلئے وہ اپنی آزادی کا دفاع کرتے رہے گا ۔ ہندوستانی اتھاریٹی برائے منفرد شناخت ( یو آئی ڈی اے آئی ) کے ڈپٹی ڈائرکٹر بی ایم پٹنائیک نے پولیس سے کہا کہ ٹریبیون سے مواد حاصل کیا گیا تھا جو اُس نے کسی نامعلوم فروخت کنندہ کی طرف سے واٹس ایپ پر کی گی پیشکش کے بعد خریدا تھا ۔ پولیس نے اتوار کو کہا تھا کہ ہندوستان میں تیار شدہ کسی بھی آدھار نمبرس کی تفصیلات تک بلارکاوٹ رسائی دی گئی تھی ۔ پولیس نے کہاکہ 5 جنوری کو پٹنائیک سے ایک شکایت موصول ہوئی تھی اور اُسی روز ایف آئی آر درج کیا گیا ۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے اس مقدمہ سے دستبرداری کے لئے حکومت سے مداخلت کی خواہش کرتے ہوئے اس مسئلہ کی ’’غیرجانبدارانہ ‘‘ تحقیقات کروانے پر زور دیا ۔ ایڈیٹرس گلڈ نے ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یو آئی ڈی اے آی کے ڈپٹی ڈائرکٹر کی جانب سے درج کروائی جانے والی شکایت میں ٹریبیون کی رپورٹر رچنا کھائیرا کاپرساد نے کہا ہے کہ ’’یو آئی ڈی اے آئی سے میں یہ تجویز کرچکا ہوں کہ ٹریبیون اور اس کی جرنلسٹ کو حقیقی خاطیوں کے بارے میں تحقیقات کے ضمن میں پولیس کو ممکنہ مدد فراہم کرنے کی درخواست کی جائے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT