Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / آدھار سرکاری اسکیمات کیلئے لازمی نہیں :سپریم کورٹ

آدھار سرکاری اسکیمات کیلئے لازمی نہیں :سپریم کورٹ

مرکزی حکومت خوب تشہیر کرے ، نجی معاملات کو بنیادی حق تصور کیا جائے یا نہیں ، فیصلہ دستوری بنچ کرے گی

نئی دہلی ۔ /11 اگست (سیاست ڈاٹ کام ) آدھار کارڈ حکومت کی بہبودی اسکیمات سے استفادے کیلئے لازمی نہیں ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے آج یہ رولنگ دی اور حکام کو اسکیم کے تحت اندراج کرانے والوں کا شخصی بائیو میٹرک ڈاٹا دوسروں تک پہونچانے سے روک دیا ۔ آدھار کارڈ کی تیاری کیلئے حاصل کئے جانے والا بائیو میٹرک ڈاٹا کسی انفرادی شخص کے نجی معاملے میں مداخلت ہے یا نہیں اور نجی معاملات کا حق ایک بنیادی حق ہے یا نہیں ، اس معاملے میں فیصلہ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کرے گی ۔ جسٹس جے چلمیشور کی قیادت میں تین ججس پر مشتمل بنچ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کا بیان قلمبند کیا کہ مرکز اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے بعد اتفاق رائے کے ذریعہ ہی آدھار جاری کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ کسی انفرادی شخص کی بائیو میٹرک معلومات کو سماجی فوائد اسکیمات کے علاوہ دیگر اغراض کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ بنچ نے آج اس معاملے میں قطعی فیصلے تک مرکز کو ضروری ہدایات دیں ۔ اس بنچ میں جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس سی ناگپن بھی شامل ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئیے کہ وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بشمول ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ذریعہ اس اطلاع کی خوب تشہیر کرے کہ کسی شہری کو آدھار کارڈ حاصل کرنا لازم نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ کسی بھی طرح کے فوائد حاصل کرنے کیلئے آدھار کارڈ پیش کرنے کی بھی شرط نہیں رکھی جائے گی ۔ حکام کی جانب سے آدھار کے ذریعہ فراہم کئے جانے والے منفرد یو آئی ڈی نمبر کو  پی ڈی ایس (عوامی نظام تقسیم) اسکیم کے علاوہ  کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوشن اسکیم کیلئے بھی آدھار کارڈ استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ قبل ازیں اسی بنچ نے مرکز کی جانب سے آدھار کارڈ اسکیم کو چیالنج کرنے والی درخواستوں کو چیف جسٹس ایچ ایل دتو سے رجوع کردیا تاکہ وسیع تر دستوری بنچ تشکیل دی جاسکے جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ نجی معاملات کا حق ایک بنیادی حق ہے یا نہیں ۔ درخواست گزاروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسکیم کے تحت بائیو میٹرک معلومات حاصل کرتے ہوئے اسے ایک دوسرے تک پہونچانا نجی معاملات جیسے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے ۔عدالت کے سابقہ فیصلوں میں اس تعلق سے قطعی صراحت نہیں پائی جاتی ۔

TOPPOPULARRECENT