Tuesday , December 11 2018

آدھار سے عوام کے شہری حقوق کا خاتمہ

سپریم کورٹ میں درخواست گذاروں کا استدلال، قطعی سماعت کا آغاز

نئی دہلی ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آدھار کارڈ کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواستوں کی سماعت کے آغاز کے ساتھ ہی درخواست گذاروں نے آدھار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آدھار سے عوام کے شہری حقوق کا خاتمہ ہوگا۔ آدھار کیس میں قطعی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی پانچ رکنی دستوری بنچ نے آدھار کی افادیت کو چیلنج کی جانے والی درخواستوں پر بحث شروع کی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت بنچ کے سامنے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شام دیوان درخواست گذاروں کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے کہا کہ آدھار سے شہریوں کے ’’شہری حقوق‘‘ کا خاتمہ ہوگا۔ عوام کے دستور کو مملکت کے دستور میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ گذشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ کی 9 رکنی بنچ نے کہا تھا کہ دستور کے تحت بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔ کئی درخواستوں میں آدھار کی افادیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہیکہ یہ آدھار شہریوں کے رازدارانہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آدھار کی افادیت اور ڈیٹا کے امکانی افشاء سے متعلق مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ہے۔ حال ہی میں دہلی کے اخبار ٹریبیون نے آدھار معلومات کو صرف 500 روپئے کی رشوت کے ذریعہ حاصل کرنے کا انکشاف کیا تھا جس پر رپورٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس 12 ہندسی آدھار نمبر کو موبائیل فونس اور بینک اکاؤنٹس سے مربوط کرنے کے لزوم کے خلاف بھی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ حکومت نے ان خدمات سے آدھار نمبر کو مربوط کرنے کی تاریخ میں 31 مارچ تک توسیع دی ہے۔تاہم یو آئی ڈی اے چیرمین نندن نلکانی نے اس سسٹم کی مدافعت کی اور کہا کہ ہندوستان آدھار کے ساتھ ہی ایک انقلابی دور میں داخل ہوا ہے۔ آدھار کو شہریوں پر ایک الیکٹرانک ضرب قرار دیتے ہوئے سینئر وکیل نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ حکومت اس بارہ ہندسی منفرد شناختی نمبر کو بند کرتے ہوئے ایک فرد کی معلومات کو مکمل طور پر تباہ کرسکتی ہے۔ آدھار کارڈ پر کل سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ پانچ رکنی دستوری بنچ کے سامنے بحث کی گئی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت اس دستوری بنچ پر حکومت کے آدھار پروگرام کی دستوری افادیت کو چیلنج کرتے ہوئے کئی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اس بنچ میں جسٹس اے کے سکری، اے ایم کھانولکر، ڈی وائی چندرچوڑ اور اشوک بھوشن شامل ہیں۔ سینئر وکیل شام دیوان نے سوال کیا کہ آیا حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ بہبودی اسکیمات کے حقیقی مستحقین کی تعداد کتنی ہیں۔ یہ ایک کارآمد بحث ہے۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہیکہ حکومت کو یہ بھی حق حاصل نہیں ہیکہ اس نے بہبودی اسکیمات پر کروڑوں روپئے خرچ کردیئے ہیں اور اس کے فوائد ضرورتمندوں تک پہنچے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT