آدھار ڈیٹا چوری پر ایک کروڑ روپئے کا جرمانہ، ہیکنگ پر10سال کی قید

حکومت آدھار کے ڈیٹا چرانے پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ اور ڈیٹا کی ہیکنگ پر10 سال کے سخت قید کی سزا دینے کا قانونی التزام کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ بینک اکاؤنٹس اور موبائل فون کے سم کارڈ خریدنے کے لئے اس کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کے واسطے بھی متعلقہ قوانین میں ترمیم کرے گی۔ اعلی سطحی ذرائع کے مطابق حکومت اس کے لئے ٹیلیگراف ایکٹ، منی لانڈرنگ انسداد قانون اور آدھار ایکٹ میں ترمیم کرے گی۔ اس سلسلہ میں بل پارلیمنٹ کے موجودہ سرمائی اجلاس میں لائے جانے کا امکان ہے۔ ان بلوں کے مسودوں کو آج یہاں مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی۔

ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے آدھار کے سلسلہ میں اپنے کچھ خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اسی کے مطابق حکومت نے کچھ قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ التزام کے بعد سم کارڈ خریدنے کے لئے آدھار كے وائی سي لیا جائے گا۔ آدھار نمبر کے عام ہونے کی شکایات پر ایک نیا ڈجیٹائزڈ توثیقی پلیٹ فارم بنایا جائے گا جس سے آدھار کے کیو آرکوڈ سے توثیق کیا جائے گا۔ اس سے آدھار نمبر بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ذرائع کے مطابق بچوں کے آدھار کارڈ بنانے میں ماں باپ کی اجازت کی ضرورت ہو گی۔ بچہ بالغ ہونے پر اپنا فیصلہ لے سکتا ہے۔ حکومت قومی مفاد میں حکومت کے کسی موضوع میں آدھار کا ڈیٹا کا اشتراک کر سکے گی۔ آدھار ڈیٹا کی چوری کو لے کر سول تنازع میں جرمانے کی رقم ایک کروڑ روپے کی جائے گی، جبکہ آدھار ڈیٹا کے اہم مراکز پر ہیکنگ کرنے والے مجرموں کو دس سال کے سخت قید کی سزا کا بھی التزام کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT