Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آدھار کارڈ سے ورچول کارڈ نمبر جاری کرنے کی تجویز

آدھار کارڈ سے ورچول کارڈ نمبر جاری کرنے کی تجویز

آدھار سے شہریوں کے انکشافات پر حکومت کا عدالت میں بیان
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) آدھار کے ذریعہ شہریوں کے مکمل ڈاٹا کے افشاء کی اطلاعات کے دوران حکومت نے عدالت کو اس بات سے واقف کروایا ہے کہ حکومت کی جانب سے نئے ورچوول کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ مکمل تفصیلات کا حامل نہیں ہوگا بلکہ شہری خود اپنے آدھار کارڈ کے ذریعہ اپنے ورچول کارڈ نمبر تیار کر سکتے ہیں اور ورچول کارڈ نمبر تیار ہوجانے کے بعد شہریو ںکو ہر جگہ آدھار کارڈ نمبر دینے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ ورچول کارڈ نمبر کے ذریعہ ہی تمام خدمات سے استفادہ کے متحمل قرار دیئے جا ئیں گے۔ یو آئی ڈی اے آئی کے مطابق شہریو ںکو بینک کے علاوہ دیگر خدمات کے حصول کیلئے آدھار سے مربوط کرنے کی سہولت میں 31 مارچ تک کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلہ کے ساتھ ورچول کارڈ و نمبر کی تیاری کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو کہ 16 ہندسوں پر مشتمل ہوگا۔ اس ورچول کارڈ کی تیاری کے بعد شہریوں کو اپنے 12 ہندسوں پر مشتمل آدھار نمبر کو کسی کو دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور نہ ہی کوئی اس آدھار نمبر کو دریافت کرنے کا مجاز ہوگا ۔ ورچول آئی ڈی کارڈ کی اجرائی کے عمل کے ساتھ ہی شہریوں کے بائیو میٹرک ڈاٹا تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوپائے گی بلکہ شہریوں کے ریکارڈ س کو محفوظ کیا جاسکے گا۔ یو آئی ڈی اے آئی کے مطابق ملک میں تاحال 119 کروڑ آدھار کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں اور ان آدھار کارڈس کا ریکارڈ حکومت کے پاس محفوظ ہے ۔ ورچول کارڈ کیلئے آدھار نمبر کا استعمال کرتے ہوئے یکم مارچ سے کیا جاسکتا ہے اور جون کے بعد ان ورچول کارڈس کے استعمال کو ممکن بنانے کے اقدامات بھی کئے جانے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے اس منصوبہ کا مقصد آدھار کارڈ نمبر کے ساتھ محفوظ شہریوں کی مکمل تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہناہے کہ ورچول کارڈ میں شہریوں کی صرف وہ تفصیلات موجود رہیں گی جو خدمات کے حصول کے علاوہ سرکاری اسکیمات کیلئے لازمی ہوتی ہے ۔ ورچول کارڈ کی منصوبہ بندی کیلئے حکومت نے خدمات کو آدھار سے مربوط کرنے کی مہلت میں 31مارچ 2018 تک کا اضافہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل ورچول کارڈ کی تیاری کو ممکن بنا لیا جائے گا جو کہ اسکالر شپ‘ فلاحی اسکیمات‘ بینک کھاتوں‘ موبائیل خدمات کے علاوہ رہائشی صداقتنامہ اور شناختی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔

TOPPOPULARRECENT