آدھار کارڈ شہریوں کے لیے خطرہ ، قومی سلامتی کو بھی جوکھم

سپریم کورٹ کے لیے ایک پہیلی

حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : آدھار کارڈ کو زندگی کے ہر شعبہ میں لازمی قرار دینے جہاں حکومت بے چین ہے وہیں مرکزی حکومت کی اس بے چینی پر عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ حکومت کی تمام اسکیمات سے استفادہ سے لے کر بینکنگ ، انشورنس ، اندرون و بیرون ملک سفر ، جائیدادوں کی خرید و فروخت ، دو پہیوں والی موٹر گاڑیوں سے لے کر چار پہیوں والی گاڑیوں کی معاملت ، یہاں تک کہ شادی بیاہ اور موت ہر چیز کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دئیے جانے پر عوام میں برہمی پائی جاتی ہے ۔ بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی نے تو آدھارکارڈ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ۔ جب کہ کانگریس رہنما ڈگ وجئے سنگھ کے خیال میں آدھار کارڈ نہ صرف آپ کی پرائیویسی یا ڈاٹا سیکوریٹی بلکہ دوسری چیزوں کے لیے بھی خطرہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن نریندر مودی حکومت ہر شعبہ کو آدھار سے مربوط کرنے پر بضد ہے ۔ مثال کے طور پر پہلے آدھار ، ایل پی جی کنکشن ، اس سے جڑی سبسیڈی ، نظام تقسیم عامہ ، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی ایکٹ ، پرائم منسٹر جن دھن یوجنا ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ اور نیشنل سوشیل اسسٹنٹ پروگرام جیسی 6 اسکیمات کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن اب بینک پاس بک ( بینک اور اکاونٹ کھولنے ) پیان کارڈ کے حصول ، سم کارڈ حاصل کرنے موبائل فونس ، بسوں ، ٹرینوں اور طیاروں میں ٹکٹس بک کروانے یعنی اندرون و بیرون ملک سفر ، انشورنس پالیسیوں کی خریدی ، اسکولوں و کالجس اور یونیورسٹیز میں اسکالر شپس کے حصول اموات اور پیدائش کے صداقت ناموں کے ساتھ ساتھ میریج سرٹیفیکٹس غرض ہر کام کے لیے 12 عدد آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ فونس پر بینکوں اور مواسلاتی کمپنیوں نے پچھلے چند ماہ سے صارفین کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ وہ صارفین پر اپنے سم کارڈ اور موبائل فونس کو آدھار کارڈ سے مربوط کروانے پر زور دے رہے ہیں ۔ حال ہی میں کانگریس رہنما ڈگ وجئے سنگھ نے آدھار کی بے شمار برائیاں بیان کی اور یہاں تک کہدیا کہ آدھار کارڈ سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک پہیلی بنا ہوا ہے ۔ اگر آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو آدھار ہندوستان کا گرین کارڈ ہے جو ہمارے ہندوستانی ہونے کو ثابت کرتا ہے لیکن آدھار کے ذریعہ حکومت اور حکومتی اداروں نے عوام کو ایک طرح سے برہنہ کر کے رکھدیا ہے ۔ اس کی پرائیویسی ختم کردی ہے ۔ اس آدھار کارڈ کے نتیجہ میں ہر ہندوستانی خود کو حکومت کے سپرد کردیا ہے ۔ آدھار کے باعث ہی حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں آپ کی نقل و حرکت آزادی کو اسی طرح بند کرسکتی ہیں جس طرح آپ موبائل فون کو سوئچ آف کرسکتے ہیں ۔ آدھار کے باعث ہی آپ بینکوں سے رقم نکال سکتے ہیں ۔ لیکن بعض صورتوں میں اگر حکومت چاہی تو آپ یا ہم بینکوں سے پیسے بھی نہیں نکال سکتے ۔ بس ، ٹرین اور طیاروں کے ٹکٹ بھی بک نہیں کراسکتے ، حکومت کی کسی اسکیم سے استفادہ نہیں کرسکتے ۔ ہاں صرف سانس لے سکتے ہیں ۔ اگر وہ بھی حکومت کے اختیار میں ہوتی تو مودی حکومت ہوا اور سانس لینے کے عمل کو بھی آدھار سے مربوط کر کے ہی دم لیتی ۔ حکومت اور حکومتی ادارے آپ کی نقل و حرکت پر بآسانی روک لگا سکتے ہیں ۔ آپ کو گرفتار کیے بناء ہی قیدی بناسکتے ہیں ۔ ڈیبٹ کارڈ رکھتے ہوئے بھی آپ بینکوں سے رقم نہیں نکال سکتے ۔ اور نہ ہی کوئی رقمی معاملت کرسکتے ہیں ۔ پراپرٹی کارڈس ، ٹیکسوں کے بھرنے ، مشترکہ بینک اکاونٹس کھولنے اور اسکول و کالجس میں داخلوں کے لیے آدھار لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ آدھار کارڈ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ آپ کی اپنی ملکیت ہونے کے باوجود آپ کا نہیں ہے ۔ یہ حکومت کا ہے ۔ آپ خود اپنے ڈاٹا تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے بلکہ کوئی اور یکطرفہ طور پر آپ کے آدھار کارڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور سات یا سات برسوں سے زائد مدت تک آپ کی تمام تفصیلات جائیداد سے لے کر تعلیمی لیاقت ، کاروبار سے لے کر معاملتوں تک سب تفصیلات اپنے دامن میں رکھ لیتا ہے ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ ، آدھار کارڈ کے بارے میں کیا فیصلہ صادر کرتی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ یو آئی ڈی اے آئی نے تاحال 118,74,55,664 آدھار کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT