Tuesday , October 23 2018
Home / اداریہ / آدھار کا لزوم اور شہری حق رازداری

آدھار کا لزوم اور شہری حق رازداری

اجنبی بن کے تم نے خوب کیا
آسرا اجنبی سے ملتا ہے
آدھار کا لزوم اور شہری حق رازداری
ہندوستانی عوام کی شہری شناخت کے لئے حکومت نے ایک منفرد ڈاٹا کے ذریعہ ریکارڈ اکھٹا کرنے کا منصوبہ بنایا جس کو آدھار کارڈ نمبر سے مربوط کیا گیا۔ یہ آدھار نمبر اب سارے ملک میں ایک شہری کی شناخت کا اہم دستاویز بن گیا ہے۔ مگر سرکاری اسکیمات سے استفادہ کے لئے حکومت کے شرائط کے علاوہ ہر معاملہ میں آدھار نمبر کو لنک کرنے کی شرط نے شہریوں کو فکرمندی سے دوچار کردیا ہے خاص کر غریب عوام کو سرکاری اسکیمات سے استفادہ کیلئے آدھار نمبر کا حاصل کرنا ضروری ہے مگر ملک میں ایسے کئی غریب افراد ہیں جن کو آدھار نمبر حاصل نہیں ہوا ہے۔ بعض تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو شہریوں کی رازدارانہ زندگی پر حملہ قرار دیا ہے۔ اس بحث کو لیکر ملک کی عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو سپریم کورٹ نے بھی اس اہم عوامی مسئلہ پر اپنی رائے دینے کے بجائے اس میں تاخیر کا پہلو تلاش کرنے لگا ہے۔ جمعہ کے دن سپریم کورٹ میں آدھار معاملہ کی سماعت کے دوران خود جسٹس اے کے سکری نے کہا کہ آج ہی انہیں موبائیل فون پر سرویس فراہم کرنے والوں کے پیام آئے ہیں جس میں اپنے آدھار نمبر کو فون نمبر سے لنک کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ بنچ نے بنکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا کہ وہ اس طرح کے پیامات روانہ کرکے عوام خاص کر صارفین کو خوفزدہ نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے بنک اکاؤنٹس اور موبائیل نمبرس کے ساتھ آدھار کو مربوط کرنے کے فیصلہ پر حکم التواء دینے سے انکار کیا۔ آدھار کے اس الجھن زدہ معاملہ کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے والوں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے مایوسی ہوئی اگر عدالت کی جانب سے حکم التواء دیا جاتا تو عوام میں پایا جانے والا خوف اور بے چینی کسی حد تک دور ہوجاتی۔ درخواست گذار نے عوام کی ترجمانی و نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے یہی بات رکھنے کی کوشش کی کہ آدھار کے تعلق سے حکومت کے ضوابط نے بے چین کردیا ہے کیونکہ بنکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہیکہ اگر کسی نے اپنا آدھار نمبر لنک نہیں کیا تو ان کا اکاؤنٹ اور موبائیل نمبر مسدود کردیا جائے گا۔ حکومت نے بنک اکاؤنٹس کو آدھار سے مربوط کرنے کی آخری تاریخ 31 ڈسمبر مقرر کی ہے جبکہ موبائیل سے آدھار کو مربوط کرنے کی مہلت 6 فبروری 2018ء تک دی گئی ہے۔ ان تواریخ کے جیسے جیسے دن قریب آرہے ہیں آدھار نہ رکھنے والوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔ آدھار کو لازمی قرار دینے مرکزی حکومت کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے اب تک کئی درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں۔ آدھار قانون کی دستوری افادیت کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس قانون نے عوام کے حق رازداری کو ہی سلب کردیا ہے جبکہ آدھار کے لئے شہریوں کے انگلیوں کے نشان بائیومیٹرک مشینوں کے ذریعہ لئے جارہے ہیں جو مناسب طور پر کام بھی نہیں کرتے ہیں۔ خاص کر سینئر شہریوں، ضعیف افراد کیلئے بائیومیٹرک کا مسئلہ نازک ہوتا جارہا ہے کیونکہ ان کے انگلیوں کے نشان درست طور پر بائیو میٹرک مشینوں میں قبول نہیں کئے جارہے ہیں۔ ایسے میں وظیفہ یابوں، غریب، ضعیف افراد کو حکومت کی اسکیمات سے استفادہ سے محروم ہونا پڑے گا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی ایک 9 رکنی ججس کی دستوری بنچ نے حق رازداری کے بنیادی حقوق کی حمایت کی تھی۔ دستور کے تحت شہریوں کو جو حق رازداری کا بنیادی حق دیا گیا ہے اگر اس کو حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے ذریعہ چھین لینے کی کوشش کرے گی تو عوام کو قانون کا سہارا لینا پڑے گا مگر افسوس اس بات کا ہیکہ سپریم کورٹ بھی اس معاملہ میں اپنی قطعی رائے دینے میں دیر کرنے کا سہارا لیا ہے۔ سپریم کورٹ کو اس کے سامنے پیش کردہ درخواستوں کا جائزہ لے کر عبوری احکام دینے کی ضرورت تھی۔ بعض درخواست گذاروں نے آدھار نمبر کو بنک اکاؤنٹس اور موبائیل نمبرس سے مربوط کرنے کی شرط کو غیرقانونی اور غیردستوری قرار دیا ہے۔ عدالت کو اس مسئلہ کا دستوری نقطہ نظر سے جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت اپنی من مانی کے ذریعہ شہریوں کو ہراساں و پریشان کرنے سے باز آجائے۔ عوام کو بھی حکومت کے اس فیصلہ سے بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہے جن کے پاس آدھار نمبر ہے وہ اپنا نمبر آسانی سے بینکوں اور موبائیل نمبرس سے لنک کرسکتے ہیں۔ جن شہریوں نے اب تک آدھار نمبر حاصل نہیں کیا ہے ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سنٹرس قائم کرکے آدھار نمبر کے حصول میں آسانی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ آدھار جیسے اہم شناختی نمبر کی تیاری میں بھی کئی کوتاہیاں پائی جاریہ ہیں اس میں حکومت نے اب تک شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ ہر شہری کیلئے پیدائش سے لیکر موت تک تعاقب کرتا رہے گا۔
داعش کے حملے اور دعوے
نیویارک میں گذشتہ منگل کو ہوئے ایک ٹرک حملہ میں داعش کے ملوث ہونے یا دولت اسلامیہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلینے کے پس پردہ وجوہات پر امریکی حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حملہ آور کا تعلق ازبکستان سے بتایا گیا ہے۔ اس نوجوان نے داعش کے منصوبوں سے حوصلہ پاکر حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے کا ادعا کیا۔ القاعدہ کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والا امریکی نظم و نسق اب نئے گروپ کے حملوں کا شکار ہورہا ہے تو یہ ایک ایسی لامتناہی کارروائی ہے جو خود امریکہ کی مخالف اقوام پالیسیوں کی کوکھ سے جنم لے رہی ہے۔ عراق میں سرگرم دولت اسلامیہ کا صفایا کرنے کا ادعا کرنے والی امریکی فوج کو اپنے ملک میں داعش کے پھیلے ہوئے خلافت کے سپاہیوں کو روکنے سے قاصر ہونے کا غم ہے تو پھر اس کی کارروائیاں مزید خون ریزی کی جانب لے جائیں گی۔ شام اور عراق میں اپنی جنگجوانہ سرگرمیوں سے دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت بنانے والی داعش کے حوالے سے اسلام کو بدنام کرنے والوں کو دن بہ دن یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے منصوبوں کو مزید سخت اور مضبوط بنائیں۔ اس طرح نیویارک حملہ کے بعد صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نظم و نسق نے ازبکستان کو بھی سفری امتناع پالیسی کے تحت لانے پر غور کرنا شروع کیا ہے۔ ٹرمپ نے جن 7 اسلامی ملکوں کے باشندوں پر سفری پابندی عائد کی ہے اس کا سلسلہ بڑھ کر تمام اسلامی ممالک کے اطراف و اکناف حصار مضبوط بنایا جائے تو پھر اس دنیا میں سفری ماحول کا توازن بگڑ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT