Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / آروشی قتل مقدمہ : ہائیکورٹ میں تلوار والدین بری

آروشی قتل مقدمہ : ہائیکورٹ میں تلوار والدین بری

ناشتہ کے بعد رہائی کی دعا ، تلوار جوڑے کا معمول ، جیلر ، وکیل ریبیکاکا اظہار ِمسرت
الہ آباد۔ 12 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے آج راجیش اور نوپور تلوار کو ان کی کمسن دختر آروشی اور اس کے خانگی نوکر ہیمراج کو 2008ء کے قتل مقدمہ میں بری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ انہیں خاطی نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ تاحال ریکارڈ پر موجود ثبوتوں کی بنیاد پر وہ خاطی قرار نہیں دیئے نہیں جاسکتے۔ اس فیصلہ سے آروشی کے والدین کے 9 سالہ مصائب کا خاتمہ ہوگیا جنہیں سی بی آئی کی ایک عدالت نے ان کی 14 سالہ دختر آروشی کے قتل کا انہیں مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت کی ایک ڈیویژن بینچ نے جو جسٹس بی کے نارائنا اور جسٹس اے کے مشرا پر مشتمل تھی۔ تلوار والدین کی غازیٔ آباد سی بی آئی کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں میں ان کی 26 نومبر 2013ء کو سزائے عمر قید کی توثیق کردی تھی۔ یہ فیصلے کی توثیق پُرہجوم کمرۂ عدالت میں کی گئی تھی۔ بینچ نے حالات اور ثبوتوں کی بنیاد پر ڈینٹسٹ جوڑے کو بری کردیا۔ نوپور اور راجیش تلوار غازیٔ آباد داسنا جیل میں سزائے قید بھگت رہے تھے۔ آروشی تلوار خاندان کی نوئیڈا قیام گاہ میں اپنے کمرہ میں مردہ پائی گئی تھی۔ مئی 2008ء کے اس واقعہ میں اس کا گلا کاٹ دیا گیا تھا۔ ابتداء میں 45 سالہ ہیمراج پر شک کیا گیا تھا جو لاپتہ تھا، لیکن اس کی نعش 2 دن بعد مکان کی چھت پر دستیاب ہوئی تھی۔ یوپی پولیس اس مقدمہ کی سرسری تحقیقات پر برہم تھی اور یہ خبر قومی اخبارات کی سرخیوں میں آگئی تھی۔ اس وقت کی چیف منسٹر مایاوتی نے اس کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کردی تھی۔ فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی بی آئی نے کہا کہ وہ ہائیکورٹ کے حکم کا مطالعہ کرے گی اور آئندہ کے طریقہ کار کا فیصلہ کرے گی۔ غازیٔ آباد داسنا جیل کے جیلر دادھی رام موریا نے کہا کہ تلوار والدین کا احساس تھا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا چنانچہ وہ دعا کرتے تھے کہ ناشتہ کے بعد وہ عام طور پر دعا کرتے تھے کہ نوپور تلوار نے کہا کہ آج انہیں انصاف مل گیا اور اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں۔ کوئی بھی شخص اتنی مدت تک جیل میں رہنے کے بعد آزادی پر خوش ہوتا ہے بشرطیکہ اسے یہ خبر دی جائے کہ وکیل ریبیکا جان جو ان کی پیروی کرے والی وکلاء کی ٹیم میں تھی، کہا کہ اسے انصاف کا یقین تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT