Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / آر ایس ایس اور بی جے پی کیرالا میں صدر راج کے مخالف

آر ایس ایس اور بی جے پی کیرالا میں صدر راج کے مخالف

ریاستی صدر آر ایس ایس پی گوپالم کُٹی ماسٹر کی پریس کانفرنس ‘ آر ایس ایس اور سی پی آئی ایم کی تشدد کیلئے ایک دوسرے پر الزام تراشی
تروننتاپورم ۔13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) آر ایس ایس اور بی جے پی کیرالا میں صدر راج کے نفاذ کے سختی سے محالف ہیں۔ آر ایس ایس اور سی پی آئی ۔ایم کارکنوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپوں کے پیش نظر ریاست میں صدر راج کے نفاذکی دونوں کبھی سفارش نہیں کریں گے ۔تاہم آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کیرالا کی جانب سے سیاسی تشدد کو روکنے کیلئے جس پارٹی کا آغاز کیا گیا ہے ‘ بائیں بازو کے کارکن اس طریقہ کار کو دوبارہ اپنی طاقت میں اضافہ اور مزید حملوں کے آغاز کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ کیرالا میں آر ایس ایس کے ریاستی صدر پی گوپالم کُٹی ماسٹر نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی صدر راج کے نفاذ کے مخالف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھگوت چاہتے ہیں کہ آر ایس ایس کارکن امن مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ تشدد کا ریاست گیر سطح پر خاتمہ ہوسکے ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر پی وجین نے کہاکہ پُرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلئے بات چیت جاری ہے ۔

چیف منسٹر نے سی پی آئی ایم اور بی جے پی ۔ آر ایس ایس ریاستی قائدین کا ایک اجلاس 31جولائی کو طلب کیا تھا ‘ تاکہ ان طریقوں اور وسائل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے جن کے ذریعہ امن کو یقینی بنایا جائے اور ایسے واقعات کے اعادہ کا انسداد ہوسکے ۔ اس اجلاس میں چند فیصلے کئے گئے ‘ ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ اس طرح کے اجلاس اضلاع میں تین طریقوں سے اپنا اثر مرتب کریں گے ۔ یہ اجلاس دونوں فریقین پر پابندی عائد کریں گے کہ تصادم سے گریز کیا جائے اور پولیس ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرسکے جو تشدد میں ملوث ہوتا ہو ۔ ماسٹر نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ آر ایس ایس کارکن پر امن مذاکرات کے دوران حملے کئے جائیں گے اور ایک آر ایس ایس کارکن کو 29جولائی کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی تبادلہ خیال ہوتا ہے یہ امن کا ایک وقفہ ہوتا ہے لیکن اسے بائیں بازو کے کارکن آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں پر ایک اور حملہ کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس بار انہوں نے ایسا ہی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کارکن اس مدت کو آئندہ حملہ کی تیاری کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی اور سی پی آئی ایم طویل مدت سے کیرالا میں ایک دوسرے کے خلاف خاص طور پر ریاست کے جنوبی علاقوں میں صف آراء ہیں جس کے نتیجہ میں بائیں بازو کا جمہوری محاذ ریاست میں گذشتہ سال برسراقتدار آیا ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نے مشترکہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اس کے 14ارکان بائیں بازو کارکنوں کے ہاتھوں اس مدت میں ہلاک کردیئے گئے جب کہ سی پی آئی ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے 13کارکنوں کی پُرتشدد واقعات میں جوبھگوا تنظیم کی کارستانی تھے ہلاک ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT