Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / آر ایس ایس سربراہ ہندوستانی تہذیب سے نابلد

آر ایس ایس سربراہ ہندوستانی تہذیب سے نابلد

فیض محمد اصغر
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے دسہرہ کے موقع پر ناگپور میں واقع آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بڑی عجیب و غریب باتیں کی۔ ویسے بھی آر ایس ایس قائدین اور اس کی ملحقہ تنظیموں کے رہنماؤں سے عجیب و غریب باتوں اور بیانات کی اُمید ہی کی جاسکتی ہے۔ ان قائدین کے بیانات سے ان کی منفی ذہنیت کا اظہار ہوتا ہے۔ موہن بھاگوت کے پچھلے تین چار برسوں کے جو بیانات منظر عام پر آئے ہیں ان بیانات میں قوم پرستی کے نام پر قوم دشمنی اور انسانیت دشمنی کا برملا اظہار کیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی راپ الاپنے والے بھاگوت خود ہندوستانی تہذیب، اس کی ثقافت، دریادلی، مہمان نوازی، علم دوستی اور انسانیت نوازی سے واقف ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے دسہرہ خطاب میں روہنگیائی پناہ گزینوں کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان پہلے ہی غیرقانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی ملک میں موجودگی کا سامنا کررہا ہے اور اب روہنگیائی باشندوں نے ملک میں دراندازی کی ہے۔ موہن بھاگوت کا سوال ہے کہ وہ وہاں سے یہاں کیوں آئے؟ وہاں کیوں نہیں رہ سکے۔ موہن بھاگوت نے مودی حکومت کو یہ بھی مشورہ دے ڈالا کہ ان غیر قانونی روہنگیائی پناہ گزینوں کے معاملہ میں جو بھی فیصلہ کریں۔ قومی سلامتی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کریں۔ بھاگوت کے خیال میں روہنگیائی مسلمانوں کو مائنمار سے اس لئے نکالا گیا کیونکہ وہ دہشت گردی میں ملوث تھے۔ انہوں نے تو ان پناہ گزینوں کو بوجھ قرار دیا۔اب یہاں موہن بھاگوت سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آیا ان کی نظر میں وہ لوگ دہشت گرد ہیں جن کے گاؤں نذر آتش کردیئے گئے، جن کی بیٹی، بہوؤں کی مائنمار فوج نے اجتماعی عصمت ریزی کی، ان کی کمسن لڑکیوں کو مائنمار فوج میں تقسیم کیا گیا تاکہ ظالم فوج انھیں اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناسکے، جن کے نوجوانوں کو ایک قطار میں ٹھہرا کر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں اور ان کے تڑپتے وجود پر کیروسین آئیل اور پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی۔ اگر کوئی ان مظلوم و بے بس اور بے سہارا نہتے روہنگیائی باشندوں کو دہشت گرد کہتا ہے تو وہ خود ہماری نظر میں دنیا کا بدترین دہشت گرد ہے۔

موہن بھاگوت اور ان کی قبیل کے قائدین کو چاہیئے کہ پہلے دہشت گرد اور عام انسانوں، ظالموں اور مظلوموں میں تمیز کرنا سیکھیں۔ صرف قوم پرستی کے نعرے بلند کرنے یا خود کو ہی محب وطن ہندوستانی کہنے سے کچھ نہیں ہوگا اس لئے کہ دعوؤں سے حقیقت نہیں بدلتی۔ انسان انسان ہی ہوتا ہے اور جانور جانور ہی ہوتا ہے۔ موہن بھاگوت کو سب سے پہلے ہندوستانی تہذیب کا گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرنا چاہیئے، تب انھیں اندازہ ہوگا کہ حقیقی ہندوستانی اور سچے محب وطن و قوم پرست جھوٹے نہیں ہوتے، ان کے ہونٹوں پر سچائی ہوتی ہے ان کے دل میں صفائی رہتی ہے اور وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم اُس دیش کے واسی ہیں جس دیش میں گنگا بہتی ہے۔ ایک اچھے اور سچے ہندوستانی کی نظر میں اس کا مہمان جان سے پیارا ہوتا ہے اور اس میں دوسروں کا حق مارنے، لوٹ مار کرنے کی چاہ نہیں رہتی، وہ لالچی یا حریص نہیں ہوتا، وہ تھوڑے میں ہی اپنا گذارا کرلیتا ہے۔ بھارت ماتا کی جئے کے نعرے بلند کرنے والے موہن بھاگوت کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ سرزمین ہند نے صدیوں سے مصیبت زدہ انسانوں کو اپنے دامن میں پناہ دی ہے۔ آزادی سے اب تک 4 کروڑ سے زائد پناہ گزینوں نے ہماری سرزمین پر پناہ لی ہے جس میں بدھسٹ مذہبی رہنما دلائی لامہ بھی شامل ہیں۔ آج اقتدار کے نشہ میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے قائدین و کارکن آپے سے باہر ہوگئے ہیں ان میں انسانوں اور انسانیت کی کوئی قدر ہی باقی نہیں رہی۔ وہ ہر چیز کو مذہب کی بنیاد پر دیکھنے لگے ہیں۔ انسان اور انسانیت کو وہ جانتے اور پہچانتے ہی نہیں۔ حالانکہ مشرق اور مشرق والے تو ایسے ہوتے ہیں جنھیں انسانی جانوں کی قدرو قیمت کا بخوبی اندازہ ہے ، وہ انسان تو انسان جانوروں سے بھی پیار کرتے ہیں ۔ 1960 میں فلم ’’ جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘‘ آئی تھی جس میں شلیندر اور حسرت جئے پوری کا لکھا ہوا ایک نغمہ کافی مشہور ہوا تھا ، اس نغمہ میں غیر معمولی طور پر ہندوستانیوں کی خوبیوں کو اُجاگر کیا گیا تھا۔ کاش موہن بھاگوت اور دوسرے نام نہاد قوم پرست اُس نغمہ سے ہی ہندوستانی تہذیب سے متعلق جانکاری حاصل کرتے تو کتنا بہتر ہوتا۔

 

TOPPOPULARRECENT