Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس مخالف طلباء کو ہراساں کرنے پر بغاوت کا پرچم بلند ہوجائیگا

آر ایس ایس مخالف طلباء کو ہراساں کرنے پر بغاوت کا پرچم بلند ہوجائیگا

الہ آباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین صدر کے خلاف کارروائی پر اپوزیشن کا انتباہ
نئی دہلی۔/8مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد یونیورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے بعد اب الہ آباد یونیورسٹی تنازعہ کامرکز بن گئی ہے۔ جبکہ 8اپوزیشن جماعتوں نے اسٹوڈنٹس یونین صدر کو مبینہ ہراساں کرنے پر مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ الزام عائد کیا کہ وہ اے بی وی پی کی سرپرست اعلیٰ کاکردار نبھارہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کانگریس، لیفٹ اور عاپ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم نے ان حقائق کا پتہ چلایا ہے کہ الہ آباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی پہلی خاتون صدر رچا سنگھ جوکہ پی ایچ ڈی اسکالر ہے۔ یونیورسٹی حکام کی جانب سے عمداً ہراساں کیا جارہا ہے۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے ایک علحدہ بیان میں آر ایس ایس۔ بی جے پی اتحاد سے کہا کہ وہ یونیورسٹی سے دور رہیں اور یہ الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی اب جے این یو اور ایچ سی یو کو نشانہ بنانے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش میں ہے اور یونیورسٹی کیمپس میں کشیدگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دریں اثناء جنتا دل متحدہ کے مسٹر کے سی تیاگی نے آج راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران وائس چانسلر الہ آباد یونیورسٹی کے تحکمانہ طریقہ کار پر سوال اٹھایا اور بتایا کہ اسٹوڈنٹس یونین صدر رچا سنگھ  نے صنفی بے حسیت کے بارے میں تمام ارکان پارلیمنٹ کو مکتوبات رواہ کئے ہیں، پہلے ہم نے دیکھا کہ روہیت ویمولا کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اس کے بعد کنہیا کمار کے خلاف کیچڑ اُچھالا گیا اور اب رچا سنگھ کا تنازعہ چلایا جارہا ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہیت ویمولا کی خودکشی اور جے این یو تنازعہ میں کنہیا کمار کی گرفتاری میں مشابہت پائی جانے کا دعوی کرتے ہوئے 7 جماعتوں کے قائدین نے مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کو اپنا نشانہ بنایا اور یہ یاد دہانی کروائی کہ وہ پورے ملک کی وزیر ہیں نہ کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سرپرست اعلیٰ ہیں۔

مشترکہ صحافتی بیان پر جئے رام رمیش اور راجیو شکلاء ( کانگریس ) سیتا رام یچوری ( سی پی ایم ) ڈی راجہ ( سی پی آئی) سی تپائی ( جے ڈی یو ) جاوید علی خاں ( سماجوادی پارٹی ) تروچی شیوا ( ڈی ایم کے ) بھگونت مان ( عام آدمی پارٹی ) اور جئے پرکاش یادو ( آر جے ڈی ) نے دستخط کئے ہیں۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے رچا سنگھ  اسٹوڈنٹس یونین کی صدر منتخب ہو ہوئیں جبکہ دیگر تمام عہدے ABVP کے امیدواروں نے جیتے ہیں۔ لیکن صدر یونین کے خلاف اسوقت عتاب نازل کردیا گیا جب انہوں نے بی جے پی کے شعلہ بیان رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورہ کیمپس کے خلاف احتجاج میں ستم ظریفی یہ ہے کہ اے بی وی پی کارکنوں نے احتجاجیوں پر حملہ کردیا۔ اس حملہ کی تحقیقات کروانے کی بجائے رچا سنگھ کے خلاف انکوائری کمیٹی بٹھادی گئی اور اب وائس چانسلر نے بعض تکنیکی وجوہات کی بناء ان کے داخلے کو منسوخ کردیا تاکہ اے بی وی پی کا امیدوار صدارتی عہدہ تک رسائی حاصل کرسکے۔ مذکورہ قائدین نے مزید کہا کہ یہ مرکزی وزیر کی ذمہ داری ہے کہ تمام یونیورسٹی کیمپس میں دستوری آزادیوں کا تحفظ اور حوصلہ افزائی کرے اگر روہیت ویملا اور کنہیا کمار کے بعد اے بی وی پی کی ایماء پر رچا سنگھ کو عتاب کا نشانہ بنایا گیا تو ملک  کے طلباء بغاوت کا علم بلند کردینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT