Monday , December 18 2017
Home / مضامین / آر ایس ایس نے پہلے ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل کریپا کے قتل کیلئے اکسایا تھا ‘ سی آئی اے انکشاف

آر ایس ایس نے پہلے ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل کریپا کے قتل کیلئے اکسایا تھا ‘ سی آئی اے انکشاف

New Delhi: File photo of RSS Chief Mohan Bhagwat (C) during the RSS function. Khaki shorts, the trademark RSS dress for 91 years, is on its way out, making way for brown trousers, the significant makeover decision was taken here at an RSS conclave in Nagaur, Rajasthan on Sunday. PTI Photo (PTI3_13_2016_000268B)

کروڑوں ہندوستانیوں کیلئے ایک سنسنی خیز انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج ملک میں حب الوطنی کا درس دینے میں پیش پیش راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) نے ملک کے پہلے فوجی کمانڈر جنرل کے ایم کریپا کے قتل کا منصوبہ بنانے اکسایا تھا ۔ جنرل کے ایم کریپا جنوبی علاقہ کورگ سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ انکشاف مرکز کی نریندرمودی حکومت کیلئے الجھن کا باعث بن سکتا ہے ۔ یہ انکشاف سب سے پہلے ایک ہندی روزنامہ جن ستہ میں شائع ہوا تھا ۔ تاہم بعد میں اس میں مزْد تحقیقات بھی کی گئیں۔ اس سلسلہ میں امریکی سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی کی فائیلوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جنہیں حال ہی میں سابق صدر بارک اوباما کے احکام پر جاری کیا گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں ایک فائیل دستیاب ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ ہندوستانی فوج کے آفیسر کور میں اختلافات ‘‘ ۔ اس پر 12 جون 1950 کی تاریخ درج تھی ۔
اس فائیل میں انکشاف کیا گیا کہ ہندوستانی فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل کے ایم کریپا کے قتل کا منصوبہ جنرل کے حالیہ مشرقی پنجاب کے مشاہدہ کے دورہ کے موقع پر تیار کیا گیا تھا ۔ اس وقت چھ افراد کو اس منصوبہ کے سلسلہ میں سزائے موت دی جاچکی تھی ۔ کئی اعلی فوجی عہدیدار بھی سمجھا جاتا ہے کہ اس منصوبے کا حصہ رہے ہیں۔ سی آئی اے نے اپنی فائیل میں یہ بات تحریر کی تھی ۔ یہ ادعا کیا جا رہا تھا کہ جنرل کریپا جنوبی ہند سے تعلق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ہندوستانی فوج کے سکھ عہدیدار ان سے ناراض تھے ۔ آر ایس ایس کی جانب سے فوج کے عہدیداروں میں شمال ۔ جنوب اختلافات کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ اس کام کیلئے ایسے عہدیداروں سے کام لیا گیا جو مخبر بھی تھے اور انہیں غذار یا ناقابل بھروسہ کہا جاتا تھا اور انہیں سے ناراضگی پھیلانے کا کام لیا جا رہا تھا ۔ ٹرانکور ‘ مہاراشٹرا اور مدراس سے تعلق رکھنے والے عہدیدار عمومی طور پر جنرل کریپا کے وفادار تھے ۔
سی آئی اے کی ایک اور فائیل کو بھی عام کردیا گیا تھا تاہم اس کی تاریخ کو حذف کردیا گیا ہے ۔ اس میں بمبئی سے شائع ہونے والے ایک ہفتہ وار بلٹز Blitz کی تصویر بھی موجود تھی ۔ یہ ہفتہ وار اپنے دور کا مقبول عام تھا اور اسے سابق سوویت یونین کا حلیف سمجھا جاتا تھا ۔ اس میں سی آئی اے کے ایک ریسرچ عہدیدار کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین کشمیر پر تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ وہ اس بات پر فکرمند تھا کہ آیا ہندوستان کو عارضی فوجی حکومت اختیار کرنی چاہئے یا نہیں جس کی تجویز جنرل کریپا نے پیش کی تھی ۔ جنرل کریپا 1965 میں فیلڈ مارشل تھے اور انہوں نے یہ ریمارکس اس وقت کئے تھے ۔ دونوں ہی ملکوں کے کئی عہدیدار ایسے تھے جو ایک ساتھ اسکول گئے تھے اور پھر انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں ایک ساتھ حصہ بھی لیا تھا ۔ رپورٹ میں یہ ادعا کیا گیا ہے ۔ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ یہ عہدیدار مسائل کو بہتر انداز میں حل کرسکتے ہیں۔ بلٹز کی اسٹوری کے بموجب جو سی آئی اے ریسرچر کے حوالے سے شائع کی گئی تھی جنرل کریپا کا تاثر یہ تھا کہ ہندوستان میں ایک مختصر مدت کیلئے فوجی حکومت کمیونسٹوں کے خطرہ سے نمٹ سکتی ہے اور وہ علاقائی مسائل کو بھی ختم کرسکتی ہے ۔ علاقائی مسائل جو تھے وہ پنجاب کے تجربہ سے محسوس کئے جا رہے تھے جہاں وہ ایک منصوبہ کے تحت تقریبا قتل کردئے جاسکتے تھے ۔ یہ منصوبہ سی آئی اے کے بموجب ان کے ساتھی عہدیداروں نے ہی تیار کیا تھا ۔
جنرل کریپا کورگ علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور قابل فخر فوجی تھے ۔ یہ علاقہ اب جنوبی ریاست کرناٹک کا حصہ ہے ۔ جنرل کریپا کو اس علاقہ میں آج بھی ایک عظیم قومی ہیرو کے طور پر مانا جاتا ہے ۔ یہ انکشاف وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے الجھن کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اپنے سیاسی سفر کو آر ایس ایس سے مربوط کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کی تربیت کی وجہ سے ہی وہ ملک کے وزْراعظم بنے ہیں۔ انہوں نے پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں شدت سے مہم چلائی ۔ اس مہم میں وہ پنجاب بھی گئے تھے ۔ پنجاب میں کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سابق فوجی عہدیداروں کو امیدوار کے طور پر میدان میںاتارا گیا ہے ۔ ایک سابق سکھ فوجی سربراہ بھی بی جے پی اور اکالی دل کے امیدوار کی حیثیت سے یہاں انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ۔ آر ایس ایس کا جہاں تک تعلق ہے وہ بی جے پی کا نظریاتی سرچشمہ ہے ۔ اس پر گاندھی جی کے قتل میں ملوث رہنے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں لیکن آر ایس ایس اکثر اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT