Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس ’پاک بھارت‘ کیلئے ہمخیال جماعتوں کا اتحاد ناگزیر

آر ایس ایس ’پاک بھارت‘ کیلئے ہمخیال جماعتوں کا اتحاد ناگزیر

سماج میں انتشار اور تفرقہ کے سنگین نتائج، صدر جنتا دل متحدہ نتیش کمار کا انتباہ
پٹنہ ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج آر ایس ایس ’مکت بھارت‘ (آرایس ایس سے پاک ہندوستان) کیلئے ان کی اپیل کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ ان کا ایقان ہے کہ یہ تنظیم ذات پات اور مذہبی خطوط پر ملک کو تقسیم اور افواہوں کے ذریعہ عوام میں الجھن پیدا کررہی ہے ۔ نتیش کمار نے حال ہی میں تمام غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں سے پر زور اپیل کی ہے کہ آرا یس ایس کے خلاف نظریاتی اور سیاسی طور پر مقابلہ کیلئے متحد ہوجائیں۔ میڈیا کے نمائندوں نے جب نتیش کمار کا تقابل سی پی ایم لیڈر ہرکشن سنگھ سرجیت سے کیا جنہوں نے متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) میقات اول کی تشکیل میں کلیدی رول ادا کیا تھا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میں نہیں جانتا ۔ میں نے سیاسی جماعتوں کے روبرو صرف یہ تجویز پیش کی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف نظریاتی اور سیاسی لڑائی کیلئے باہم متحد ہوجائیں۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ 2019 ء کے عام انتخاات میں بی جے پی کے خلاف ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کون کریں گے ۔ انہوں نے وزارت عظمیٰ کے دوڑ میں اپنے آپ کو شامل کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے پاس کئی ایک باصلاحیت قائدین ہیں اور سیاسی صف بندی کے مرحلہ میں قیادت کا مسئلہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔ مسٹر نتیش کمار نے آج جنتا کے دربار میں مکھیہ منتری پروگرام کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس کے نظریات سے ہمارا سماج ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی سمت گامزن ہے اور تنظیم کی شرانگیز افواہوں سے عوام تذبذب کا شکار ہیں جو کہ ملک کے مفاد میں تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔ جنتا دل متحدہ کے نئے صدر جنہوں نے حال ہی میں شرد یادو سے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے ۔ آج پھر ایک بار بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف کانگریس ، لیفٹ اور علاقائی جماعتوں کے ایک وسیع تر اتحادکی تشکیل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ تاہم نتیش کمار نے اس سوال کا جواب ٹال دیا کہ سنگھ مکت بھارت کیلئے متحارب جماعتوں کانگریس ، عام آدمی پارٹی ، سماج وادی پارٹی ، بی ایس پی ، انا ڈی ایم کے ، ڈی ایم کے کو واحد پلیٹ فارم پر متحد کرنا کیسے ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میری ان تمام جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ بی جے پی ، آر ایس ایس کے سیاسی نظریات کے خلاف مقابلہ کیلئے باہمی اختلافات فراموش کردیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض پارٹیوں کے انضمام اور دیگر پارٹیوں کے درمیان مفاہمت کے ذریعہ اتحاد تشکیل دینے کے امکانات روشن ہیں، ان کے خلاف بی جے پی کے ردعمل کے بارے میں استفسار پر نتیش کمار نے کہا کہ بی جے پی کے شدید ردعمل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قومی اتحاد کی تجویز پر وہ حواس باختہ ہوگئی ہے ۔ تاہم جون 2013 ء میں بی جے پی کے ساتھ ترک تعلقات سے قبل 13 سال تک ساجھیداری نبھانے کی مدافعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی حکمت عملی کا تسلسل تھا جس کے باعث متنازعہ مسائل ایودھیا ، مشترکہ سیول کوڈ ، جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے نفا ذ سے بی جے پی کو باز رکھا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT