Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / آر ایس ایس کارکنوں نے آسام کے مندرمیں داخلے سے روک دیا

آر ایس ایس کارکنوں نے آسام کے مندرمیں داخلے سے روک دیا

نئی دہلی/ بارپیٹا ۔ 14 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریسی لیڈر راہول گاندھی نے آج یہ الزام عائد کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ چھیڑ دیا کہ ح الیہ دورہ آسام کے موقع پر آرایس ایس کارکنوں نے وشنیو پیٹ موناسٹری(مندر) میں انہیں داخلہ سے روک دیا ۔ تاہم مندر کے سربراہ نے اس الزام کی تردید کردی ہے۔ اگرچیکہ نائب صدر کانگریس کے الزام سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے لیکن بی جے پی نے اس الزام کو بے بنیاد اور تراشیدہ قرار دیا اور بتایا کہ آر ایس ایس مذکورہ مندر نہیں چلائی اور کسی کا نام لئے بغیر کہاکہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے غلط پیامات پھیلائے جارہے ہیں جبکہ راہول گاندھی نے یہ دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتہ دورہ آسام کے موقع پر ایک مندر میں ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اور کہا کہ آیا یہ بی جے پی کا سیاسی انداز ہے جو کہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ میں جب آسام کے دورہ پر تھا اس وقت ضلع بارپیٹا کے ایک مندر میں جانا چاہتا تھا لیکن آرایس ایس کارکنوں نے اندر داخل ہونے سے روک دیا ۔ کیا یہ بی جے پی کا طریقہ کارہے ۔ کانگریس لیڈر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میرے سامنے بعض خواتین کو کھڑا کردیا گیا اور کہا گیا کہ تم مندر میں داخل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے یہ سوال کیا کہ مجھے روکنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں۔ تاہم دوبارہ شام میں وہ مندر پہنچے تو آر ایس ایس کے مشتبہ کارکن فرار ہوگئے تھے۔ تاہم مندر کے سربراہ نے راہول کے ادعا کو مسترد کردیا اور بتایا کہ مذہبی مقام پر کوئی آر ایس ایس کارکن نہیں تھا ۔ اگرچیکہ مندر کے سربراہ نے اس الزام کو بدبختانہ قرار دیا ہے لیکن کانگریس کے چیف منسٹر ترون گوگوئی نے اپنے لیڈر کے دعویٰ کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ آر ایس ایس کے ا کسانے پر راہول گاندھی کو مندر میں داخلہ سے روکا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے سوال کیا کہ اگر وہاں آر ایس ایس نہیں تھی تو داخلہ سے کیوں روکا گیا ۔ تاہم بی جے پی نے راہول گاندھی کے الزام کو جھوٹا اور بناوٹی قرار دیا اور کہا کہ وہ جھوٹ بولنے والی مشینے کی طرح ہوگئے ہیں اور پارلیمنٹ میں خلل اندازی کیلئے اس طرح کے غیر اہم مسائل کو اٹھا رہے ہیں۔ وا ضح رہے کہ سابق میں مرکزی وزیر اور کانگریسی لیڈر کماری شلیجہ نے بھی  دوارکا (گجرات) میں ان کی ذات دریافت کر کے مندر میں داخلے سے روک دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ مرکزی وزراء مختار عباس نقوی اور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے غلط  پیامات پھیلانے کی منظم کوشش کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT