Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / آر ایس ایس کی محاذی تنظیم کا افطار

آر ایس ایس کی محاذی تنظیم کا افطار

مسلمانوں کی شرکت افسوسناک : فرحت خاں
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں بالخصوص بی جے پی نے ہمیشہ ہندوستانی عوام کو مذہب اور ذات پات کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ۔ انہیں اپنے ملک اور عوام کی بہبود سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ اپنے ناپاک مفادات کی تکمیل ہی ان کا نصب العین ہے ۔ اگرچہ یہ مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں لیکن افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب کچھ لوگ اپنے ایمان کا سودا کرتے ہوئے اقتدار پر فائز آر ایس ایس قائدین کے تلوے چاٹنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام تو مسلمان ہیں ان میں سے کچھ تو حلیہ سے بھی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ دین سے بہت دور ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خاں فرحت خاں نے کیا ۔ انہوں نے شہر میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار اور اس میں بعض مسلمانوں کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ اگر یہ لوگ حقیقت میں مسلمان ہوتے تو ایک ایسی تنظیم کی دعوت افطار میں شرکت نہیں کرتے جو مسلمانوں اور شریعت اسلامی کی شدید مخالف ہیں ، انہیں مسلمانوں کے قتل عام پر سکون اور تباہی و بربادی پر خوشی ہوتی ہے ۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جو مختلف بہانوں سے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا سامان کرتے ہیں ۔ ذبیحہ گاؤ ، گھر واپسی ، لوجہاد کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہیں ۔ ان کا مقصد مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کرنا ہوتا ہے ۔ جناب مجید اللہ خاں فرحت نے مزید کہا کہ اندریش کمار کی دعوت افطار میں جن لوگوں نے خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے شرکت کی وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خود اپنے خاندانوں اور محلہ جات میں عزت نہیں ۔ یہ بدنام زمانہ لوگ ہیں جو صرف اور صرف سنگھ پریوار کی طرح اپنے مفادات کی تکمیل میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ حرام و حلال کی تمیز سے بھی وہ محروم ہیں ۔ صدر ایم بی ٹی کے مطابق مسلم راشٹریہ منچ کا قیام ہی مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا اور قادیانیوں کی یہ پسندیدہ تنظیم ہے اور جہاں تک اس کے صدر اندریش کمار کا سوال ہے وہ درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ میں پیش آئے بم دھماکوں میں ملوث رہا ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی دہشت گرد مسلمانوں کا دشمن دعوت افطار کا اہتمام کرتے ہوئے مسلمانوں کا دوست بن سکتا ہے ؟ ایم بی ٹی کو مسلم راشٹریہ منچ کے دعوت افطار پر افسوس نہیں بلکہ اس میں ان لوگوں کی شرکت پر افسوس ہے جو بدقسمتی سے مسلم ناموں کے حامل ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT