Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / آر ایس ایس کے داخلی سروے میں بھی بی جے پی شکست کی پیش قیاسی

آر ایس ایس کے داخلی سروے میں بھی بی جے پی شکست کی پیش قیاسی

نئی دہلی 9 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے ان ادعا جات کے برخلاف کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے کل نتائج کے وقت ایگزٹ پولس غلط ثابت ہونگے اور پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگی ‘ آر ایس ایس کی جانب سے کروائے گئے داخلی سروے میں کہا گیا ہے کہ یہاں بی جے پی کو شکست ہو رہی ہے اور اقتدار عام آدمی پارٹی کے ہاتھ جائیگا ۔ آر ایس ایس کے ذرائع کا کہنا

نئی دہلی 9 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے ان ادعا جات کے برخلاف کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے کل نتائج کے وقت ایگزٹ پولس غلط ثابت ہونگے اور پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگی ‘ آر ایس ایس کی جانب سے کروائے گئے داخلی سروے میں کہا گیا ہے کہ یہاں بی جے پی کو شکست ہو رہی ہے اور اقتدار عام آدمی پارٹی کے ہاتھ جائیگا ۔ آر ایس ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی کی 70 رکنی اسمبلی کیلئے ہوئی پولنگ میں اگر بی جے پی کو بہت زیادہ نشستیں بھی ملتی ہیں تب بھی وہ 34 سے آگے نہیں جا پائیگی ۔ کہا گیا ہے کہ مابقی نشستوں میں 20 پر بی جے پی کو عام آدمی پارٹی سے کراری شکست کا سامنا ہے جبکہ 16 حلقوں میں اس کا مقابلہ سخت ہوا ہے ۔ بی جے پی نے اپنے طور پر بھی ایک سروے کروایا ہے جس میں یہ پیش قیاسی کی گئی ہے کہ پارٹی کو زیادہ سے زیادہ 30 – 33 نشستیں مل سکتی ہیں۔ جبکہ عام آدمی پارٹی کو 32 – 34 نشستیں ملیں گی ۔ اس سروے میں کانگریس کو دو تا چار نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ابھی سے اپنی شکست کو قبول کرلیا ہے اور وہ نتائج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی سربراہ امیت شاہ کو بچانے کیلئے حکمت عملی تیار کر رہی ہے کیونکہ دونوں نے ہی دہلی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر مہم چلائی تھی ۔ آر ایس ایس نے اپنے سروے میں کہا ہے کہ بی جے پی کو شکست ہونے کی تین وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ کرن بیدی کو چیف منسٹر امیدوار کے طور پر پیش کردیا گیا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے کنوینر اروند کجریوال پر غیر ضروری تنقیدیں کی گئیں اور منفی مہم چلائی گئی جبکہ تیسری وجہ یہ ہے کہ دہلی بی جے پی یونٹ ان انتخابات کیلئے تیار نہیں تھی ۔ بی جے پی کے بوتھ سطح کے ورکرس کی ستائش کرتے ہوئے آر ایس ایس نے کہا ہے کہ دہلی بی جے پی انتخابات میں مقابلہ کیلئے پوری طرح تیار نہیں تھی تاہم بوتھ سطح کے ورکرس نے زبردست کام کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو 30 کے آس پاس نشستیں مل سکتی ہیں۔ بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے اتوار کو ایک جائزہ اجلاس منعقد کرکے ایگزٹ پولس کے نتائج اور مستقبل کی حکمت عملی کے تعلق سے غور کیا ہے ۔ اجلاس میں دہلی بی جے پی کے صدر ستیش اپادھیائے ‘ پارٹی انچارچ پربھات جھا ‘ وزارت اعلی امیدوار کرن بیدی اور دوسروں نے شرکت کی ۔ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی بھی طرح کے تبصرہ سے قبل باضابطہ نتائج کے اعلان کا انتظار کریگی ۔ ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں یہ بھی غور کیا گیا کہ شکست کی صورت میں نریندر مودی اور امیت شاہ کی مدافعت کس طرح کی جائے ۔ کرن بیدی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پارٹی کو شکست ہوتی ہو یا کامیابی وہ پوری ذمہ داری قبول کرینگی ۔ ان کے اس ریمارک کے تعلق سے سمجھا جارہا ہے کہ انہوںنے بی جے پی کی شکست کا ذمہ دار مودی کو قرار دئے جانے سے بچانے کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی لیڈر و مرکزی وزیر نرملا سیتارمن نے کل بیدی کی قیامگاہ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ اوپینین پول اور ایگزٹ پولس کی اپنی اہمیت ضرور ہے لیکن ان کی پارٹی قطعی نتائج تک انتظار کریگی ۔

TOPPOPULARRECENT