Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / آر بی آئی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں، پالیسی پر نظرثانی

آر بی آئی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں، پالیسی پر نظرثانی

ممبئی 3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بجٹ کے اشاروں کے منتظر آر بی آئی کے گورنر رگھورام راجن نے آج شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور کہاکہ فی الحال کمی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اُمید ظاہر کی کہ بینکس شرح سود میں گزشتہ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کریں گے۔ ریزرو بینک نے دوبارہ خریداری کی شرح 7.75 فیصد برقرار رکھی اور وسیع تر اشارے دیئے کہ مس

ممبئی 3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بجٹ کے اشاروں کے منتظر آر بی آئی کے گورنر رگھورام راجن نے آج شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور کہاکہ فی الحال کمی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اُمید ظاہر کی کہ بینکس شرح سود میں گزشتہ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کریں گے۔ ریزرو بینک نے دوبارہ خریداری کی شرح 7.75 فیصد برقرار رکھی اور وسیع تر اشارے دیئے کہ مستقبل میں تخفیف کا انحصار مالی ارتکاز کے راستے پر ہوگا جو مرکزی وزیر فینانس اپنے پہلے مکمل بجٹ میں جاریہ ماہ کے اواخر میں مقرر کریں گے۔ افراط زر اور بڑے پیمانہ پر معاشی اطلاعات بھی اِس کا اہم عنصر ہوں گی۔ آر بی آئی نے 15 جنوری کو اچانک شرح سود میں 0.25 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔ راجن نے کہاکہ اِس کے بعد کوئی نئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مالی موقف میں مزید نرمی پیدا کی جائے۔ اسٹاک ایکس چینج کے بازار میں آر بی آئی کے فیصلوں سے گراوٹ پیدا ہوئی۔ بینک کاروں اور ماہرین معاشیات نے اُمید ظاہر کی ہے کہ شرح سود میں کمی کا تازہ دور بجٹ کے بعد شروع ہوگا اور 2015 کے باقی مہینوں میں موجودہ شرح سود میں ایک فیصد کمی ممکن ہے۔ آر بی آئی نے اُمید ظاہر کی کہ بینکس زیادہ مقدار میں کم شرح سود پر قرض جاری کریں گے۔ اِس اقدام سے اِس نظام میں 45 ہزار کروڑ روپئے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ امکان ہے کہ شرح سود میں مزید کمی کا انحصار مالیاتی خسارہ میں کمی کی حکومت کی کوششوں اور افراط زر کے دباؤ کا تعین کرنے پر ہوگا۔ مالیاتی پالیسی پر اگلی نظرثانی 7 اپریل کو کی جائے گی۔

چھٹویں دو ماہی پالیسی نظرثانی پر تبصرہ کرتے ہوئے بینک کاروں نے کہاکہ آر بی آئی کی پالیسی بازار کی جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کی توقعات کے مطابق ہے۔ انڈسٹری چیمبرس نے کہاکہ شرح سود میں تخفیف کی تجویز پیش کی جانی چاہئے تھی لیکن اُمید ظاہر کی کہ آر بی آئی بجٹ کے بعد شرح سود میں کمی کرے گا۔ آئندہ ماہ ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کا اندیشہ ہے جس سے افراط زر پر جزوی اثر مرتب ہوگا اور قابل استعمال آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ افراط زر ایندھن اور غذائی اجناس کے سوائے ڈسمبر میں مسلسل دوسرے مہینے میں کم ہوا ہے۔ اِس کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ اور ترسیل کی قیمتوں میں اگسٹ سے کمی کی۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمگیر سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر اندرون ملک معیشت اور بحیثیت عمومی تمام اشیاء کی قیمتوں پر مرتب ہورہا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) ایک تخمینہ کے بموجب مارچ میں ختم ہونے والے مالیاتی سال جی ڈی پی کا 1.3 فیصد کم ہوجائے گا۔ اِس کو اعتدال پر لانے میں پٹرول اور سونے کی اعتدال پسند درآمد ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے غیر ملکی زر تبادلہ کی سطحیں ریکارڈ سطح کو چھولینے سے حوصلہ پاکر سالانہ بیرون ملک سرمایہ کاری کی انفرادی حد میں اضافہ کرتے ہوئے اِسے دو لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر کردیا۔ رگھورام راجن نے مالی پالیسی پر دو ماہی نظرثانی کے سلسلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بینکوں کو شرح سود کم کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اُنھیں یقین ہے کہ مسابقت بینکس کو مجبور کردے گی کہ وہ اپنی شرح سود میں اپنے طور پر کمی کردیں۔

TOPPOPULARRECENT