Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آر ٹی سی بسوں کی آمد و رفت کی تفصیلات کی فراہمی کیلئے اڈوانسڈ ٹکنالوجی کا استعمال

آر ٹی سی بسوں کی آمد و رفت کی تفصیلات کی فراہمی کیلئے اڈوانسڈ ٹکنالوجی کا استعمال

چیرمین آر ٹی سی کے دورہ فرانس کے بعد حیدرآباد میں اقدامات کا آغاز
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ہمیں جس بس کے ذریعہ سفر کرنا ہے وہ کہاں ہے ؟ کتنے وقت میں آئے گی ؟ بس اسٹاپ میں موجود تفصیلات سے واقفیت حاصل کرنا مسافرین کا ایک دیرینہ خواب ہے ۔ جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ آٹوز اور کیابس کی تفصیلات مسافرین کی دسترس میں ہوچکی ہیں ۔ اتنے بڑے آر ٹی سی ادارے میں یہ کیوں کرنا ہے اس بات کا جواب مسافرین کو عنقریب ملنے والا ہے کیوں کہ آر ٹی سی نے عالمی سطح کی اڈوانسڈ ٹکنالوجی کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کررہی ہے اور اس پر عمل کا آغاز سب سے پہلے حیدرآباد زون سے کیا جائے گا ۔ آر ٹی سی چیرمین اور یم ڈی نے فرانس کے دورہ کے ذریعہ وہاں کی کمپنی سے معاہدہ کیا ہے ۔ فرانس کی مشہور لومی پلان ، آئی ایکس ایکس آئی کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا ہے ۔ فرانس حکومت کے تعاون سے ان کمپنیوں نے شہر میں بسوں کو تجرباتی طور پر چلانے کا پیشکش کیا ہے ۔ آر ٹی سی کی جملہ 29 ڈپوز میں 3850 بسیں ، 42 ہزار ٹرپس ، 10 لاکھ کیلو میٹرس ، 33 لاکھ مسافر اپنا سفر طئے کرتے ہیں ۔ یہ گریٹر حیدرآباد زون کا ریکارڈ ہے ۔ ان 42 ہزار ٹرپس میں کونسی بس کہاں ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لہذا آر ٹی سی اس مسئلہ کے حل کے لیے فرانس کی تیار کردہ ٹکنالوجی کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ فرانس کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے سڑکوں کا جائزہ لیا ہے ۔ روٹ نمبر 40 اور 86 ( کوٹھی ۔ سکندرآباد ) پر تجرباتی طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاحال ان سڑکوں پر کتنی بسیں چلائی جارہی ہیں ؟ مسافرین کی تعداد کتنی ہے ؟ کتنے بس اسٹاپس ہیں ؟ کتنے بس شلٹرس ہیں ؟ ایک ٹرپ مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے ؟ اس طرح تمام بنیادی مسائل پر غور و خوص کر کے رپورٹ تیار کی گئی ہے اور فرانس کی ٹیم نے اس سے متعلق ٹی ایس آر ٹی سی عہدیداران کے ساتھ کئی مرتبہ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کئے ہیں ۔ ہفتہ دس دن کے اندر تجرباتی ٹرپس شروع کرنے کی تجویز ہے ۔ عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم فرانس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اگر یہ سسٹم وہیکل ٹراکنگ اینڈ پاسنجر انفارمیشن سسٹم پر عمل آوری ہوگی تو بس کہاں ہے ؟ کتنے وقت میں آئیگی ؟ بس مسافرین سے کس حد تک بھری ہوئی ہے ؟ جیسے سوالات کے جوابات بس سرویس نمبر کے ساتھ بآسانی دستیاب رہیں گے ۔ فی الحال یم یم ٹی ایس ایل میں یہ سسٹم جاری ہے ۔ ہائی لائٹس نامی ایپ کے ذریعہ یم یم ٹی ایس کی ریل کی تفصیلات دستیاب ہورہی ہیں اور اب آر ٹی سی بسوں کی تفصیلات بھی ایپ کے ذریعہ معلوم کی جاسکتی ہیں ۔ بس اسٹاپ کے پاس بڑے یل سی ڈی لگاکر بسوں کی تفصیلات نشر کی جائیں گی ۔ اگر کسی روٹ پر فنی خرابیوں کی وجہ سے بسوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ہو تو اس سے متعلق آر ٹی سی عہدیداران کو آگاہ کیا جائے گا ۔ اس سسٹم پر عمل آوری کی وجہ سے آر ٹی سی پر کوئی مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا ۔ 6 ماہ تک مفت سرویس فراہم کی جائے گی ۔ بعد ازاں کامیابی ملنے پر ایک اور سال کے لیے خدمات فراہم کی جائیں گی ۔ مکمل طور پر یہ سسٹم کامیاب ہونے پر تمام بس روٹس پر اس ٹکنالوجی کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی اور اس سسٹم کی تنصیب کے لیے 60 ، 70 کروڑ کا خرچ آئے گا فی الحال سکندرآباد اور کوٹھی روٹ نمبر 40 ، 86 پر تجرباتی طور پر شروع کیا جائے گا ۔ روٹ نمبر 40 کی بس کوٹھی ، عابڈس ، حیدرگوڑہ ، تلگو اکیڈیمی ، حمایت نگر ، اشوک نگر ، گاندھی نگر ، پی این ٹی کالونی ، کواڑی کوڑہ ، بائبل ہاوز ، باٹا اور سکندرآباد ہوتے ہوئے چلائی جائے گی ۔ روٹ نمبر 86 کی بس سکندرآباد ، چلکل گوڑہ ، سیتا پھل منڈی ، وارثی گوڑہ ، جامعہ عثمانیہ ، رام نگر گنڈو ، وی ایس ٹی ، باغ لنگم پلی ، نارائن گوڑہ ، کوٹھی پر سے چلائی جائے گی ۔۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT