Tuesday , December 11 2018

آر ٹی سی ملازمین اور حکومت کا فیصلہ

تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے عوام کو گزشتہ سات دن سے جاری تکالیف سے بالآخر راحت ملی اور دونوں حکومتوں نے آر ٹی سی ملازمین کیلئے بالترتیب 44 اور 43 فیصد فٹمنٹ سے اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر ٹی سی ملازمین نے اپنی ہڑتال ختم کردی۔ توقع ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ تلنگانہ میں ایمسیٹ میں شرکت کرنے والے طلبہ کو کافی راحت ملے گی۔ اس ایک ہفتہ کے د

تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے عوام کو گزشتہ سات دن سے جاری تکالیف سے بالآخر راحت ملی اور دونوں حکومتوں نے آر ٹی سی ملازمین کیلئے بالترتیب 44 اور 43 فیصد فٹمنٹ سے اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر ٹی سی ملازمین نے اپنی ہڑتال ختم کردی۔ توقع ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ تلنگانہ میں ایمسیٹ میں شرکت کرنے والے طلبہ کو کافی راحت ملے گی۔ اس ایک ہفتہ کے دوران دونوں ریاستوں میں حالات تبدیل ہوتے رہے کیونکہ کوئی بھی حکومت اپنے خزانہ پر اضافی بوجھ کیلئے تیار نہیں تھی۔ ہائیکورٹ نے بھی ہڑتالی ملازمین پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے انہیں ڈیوٹی پر رجوع ہونے کی ہدایت دی تھی مگر مہنگائی کا شکار آر ٹی سی ملازمین نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف کھڑے رہنے کی مجبوری کو محسوس کیا۔ابتداء میں تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد کیا جو بے فیض رہا۔ کابینی سب کمیٹی رپورٹ کی بنیاد پر کوئی اہم فیصلہ کرنا حکومت کے لئے پریشان کن لمحہ تھا مگر حکومت شروع میں ہمت نہیں کرسکی۔ اگر آر ٹی سی ملازمین کے مطالبہ کے مطابق 43 فیصد فٹمنٹ اضافہ کیا جاتا ہے تو آر ٹی سی کو بس کرایوں میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔ یعنی بس کرایہ میں اضافہ کا مطلب عوام کی ناراضگی مول لینا ہے، خاص کر طلباء برادری کے لئے اضافہ قابل متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو آر ٹی سی کے خسارہ کو کم کرنے کے لئے فی کیلومیٹر 40 پیسے کرایہ کا اضافہ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو مسافرین پر زائد بوجھ ہوگا۔ حکومت تلنگانہ اپنے عوام پر زائد بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہتی تھی لیکن اس کو کوئی نہ کوئی راہ نکالنی ہی تھی۔ گزشتہ 7 دن سے جاری ہڑتال عوام کے لئے شدید دشوارکن حالات پیدا کررہی ہے۔

شادیوں کے دوران کوئی تعطیلات کے باعث عوام الناس کی سفری مصروفیات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ آر ٹی سی ملازمین کو تو مسافرین کی سہولتوں اور پریشانیوں کا کوئی خیال رہا ہوگا۔ ان کی یونین کے قائدین اپنی ضد کی پوجا کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ان کی اپنی مجبوریاں تھیں۔ تو ہڑتالوں کے کلچر کا احیاء ہونا دونوں ریاستوں کی حکومتوں کے لئے فال نیک نہیں ۔ ہائیکورٹ کی جانب سے اس ہڑتال کو غیرقانونی قرار دینے کے بعد بھی دونوں ریاستوں کی حکومتیں ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے اس لئے گریز کررہی تھیں کہ ان کی نئی حکومتوں پر کوئی ہڑتال کا داغ نہ لگ جائے۔ ایسی صورت میں ہر دو ریاستوں کی حکومتوں کو ہڑتالی یونینوں سے مذاکرات کے لئے زور دیتے ہوئے درمیانی راہ نکالنی تھی۔ آر ٹی سی ملازمین کو بھی اپنے خسارہ سے دوچار ادارہ کی مزید خرابی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ طلبہ برادری کو خاص کر ایمسیٹ جیسے اہم ٹسٹ کی تیاری کرنے والے طلبہ آر ٹی سی ہڑتال سے فکرمند تھے جبکہ دونوں ریاستوں کی سڑکوں سے 20 ہزار بسیں غائب رہیں۔

آر ٹی سی ملازمین کو اگرچیکہ یکم اپریل 2013ء سے اپنی تنخواہوں میں نظرثانی کا انتظار ہے، انہیں بھی حکومت کی کوتاہیوں کا شکار ہونا پڑا ہے۔ ماضی کی حکومت نے ان کے مطالبات کو برف دان کی نذر کردیا تھا۔ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد ان ملازمین کی امیدوں کو اس وقت تقویت حاصل ہوئی تھی جب حکومت نے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں 43 فیصد کے فٹمنٹ فوائد دینے کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت نے یہی اعلان آر ٹی سی ملازمین کے لئے نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ اب مسئلہ کا حل کیا ہونا چاہئے۔ اس سے پہلے کی ہر ہڑتال نازک رُخ اختیار کرے، دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو اس ہڑتال سے مسافروں کو درپیش بدحالی کی کیفیت کو دور کرنے میں پہل کرنی تھی، لہٰذا حکومت تلنگانہ نے اپنے تقریباً 57,000 آر ٹی سی ملازمین کے مطالبہ کو قبول کرکے 44 فیصد فٹمنٹ تنخواہ کا اضافہ کیا۔ جبکہ حکومت آندھرا پردیش نے اپنے تقریباً 70 ہزار ملازمین کیلئے 43 فیصد فٹمنٹ کا اضافہ کیا۔ حکومت تلنگانہ کے اس فیصلہ کے بعد حکومت آندھرا پردیش کو بھی جو خالی سرکاری خزانہ سے دوچار ہے، بادلخواستہ فیصلہ کرنا پڑا۔ تلنگانہ حکومت پر 800 کروڑ روپئے کا زائد بوجھ عائد ہوگا۔ بلاشبہ ساری دنیا میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام خسارہ میں ہی چلتا ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اس نظام کو منفعت بخش بنانے کیلئے حکومت کو ماہرین سے تجاویز طلب کرنی ہوں گی۔

TOPPOPULARRECENT