Wednesday , December 19 2018

آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال، حکومت دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں

خسارہ پر تشویش کا اظہار ضروری، بلیک میل ناقابل قبول قبول : کے سی آر
حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے آر ٹی سی ایمپلائز کی جانب سے ہڑتال کرنے کا انتباہ دینے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکیوں اور بلیک میل سے ہرگز خوفزدہ ہونے والے نہیں ہے۔ آر ٹی سی ایمپلائز ہڑتال کرنے کے معاملے میں آزاد ہے اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی نوٹس پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی کے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرنا ان کا فریضہ ہے۔ آر ٹی سی ایمپلائز نقصانات کا محاسبہ کریں اور اس کو آمدنی کے راستہ پر گامزن کرنے مواقع تلاش کریں۔ انہوں نے آر ٹی سی ایمپلائز کی جانب سے لگائے الزام کی مذمت کی، جس میں عہدیداروں کے تعلق سے چیف منسٹر کو جھوٹی رپورٹ دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ کے سی آر نے کہا کہ عہدیدار غلط و جھوٹی رپورٹ کیوں پیش کریں گے۔ آر ٹی سی ملازمین ادارے کو فائدے پہنچانے کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات لائے اور خصوصی منصوبہ بندی کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ آج کے اجلاس میں آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات پر کوئی غور نہیں کیا گیا کیونکہ کابینی سب کمیٹی آر ٹی سی مزدور تنظیموں کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کررہی ہے۔ اگر ایمپلائز ہڑتال کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں وہ اس معاملے میں آزاد ہیں لیکن بلیک میل کی پالیسی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ آر ٹی سی پہلے ہی 2400 کروڑ روپئے کے نقصان میں ہے۔ مزید نقصانات کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد آر ٹی سی کو نقصانات سے باہر نکالنے کیلئے 3500 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ جاریہ سال بجٹ میں 500 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ آر ٹی سی کی تاریخ میں کبھی ایمپلائز کو 44 فیصد فیٹمینٹ نہیں دیا گیا ہے جو ٹی آر ایس حکومت نے دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT