Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال ختم، اہم مطالبات قبول

آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال ختم، اہم مطالبات قبول

٭4300 کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنایا جائیگا: کے سی آر ٭ ہڑتال کی مدت کا ڈیوٹی میں شمار، معطل ملازمین بحال

٭4300 کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنایا جائیگا: کے سی آر
٭ ہڑتال کی مدت کا ڈیوٹی میں شمار، معطل ملازمین بحال
حیدرآباد۔/13مئی، ( سیاست نیوز) آر ٹی سی ملازمین نے اپنی 8 روزہ ہڑتال آج ختم کردی۔ دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں نے ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین کی یونینوں کے تمام بڑے مطالبات کو قبول کرلیا ہے۔ آندھرا پردیش حکومت نے 43فیصد فٹمنٹ الاؤنس کا مطالبہ قبول کیا جبکہ حکومت تلنگانہ نے اپنی طرف سے 44فیصد فٹمنٹ الاؤنس کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر مسٹرچندر شیکھر راؤ کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کیلئے 44فیصد فٹمنٹ فراہم کرنے کے فراخدلانہ اعلان کئے جانے کے فوری بعد آر ٹی سی ملازمین تلنگانہ نے اپنی ہڑتال ختم کرنے اور فوری ڈیوٹی پر رجوع ہوجانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں کابینی سب کمیٹی کے وزراء کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں آر ٹی سی ملازمین کو 44فیصد فٹمنٹ فراہم کرنے سے حکومت نے اتفاق کیا

جس کی روشنی میں آر ٹی سی ملازمین یونین قائدین نے تمام ملازمین کے ڈیوٹی پر رجوع ہونے کا اعلان کیا۔ ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین یونین قائدین کے ساتھ حکومت کی بات چیت کامیاب ہونے کے فوری بعد شام میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے مقصد سے حکومت نے 43فیصد کے بجائے اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 44فیصد فٹمنٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ واقعی طور پر ملازمین آر ٹی سی کی تنخواہیں بہت کم ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آر ٹی سی بھی خسارہ سے دوچار ہے اس کے باوجود حکومت آر ٹی سی ملازمین کو ان کی محنت کا مناسب پھل دینے سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اضافہ شدہ تنخواہیں آر ٹی سی ملازمین کو ماہ جون کی تنخواہ ( یعنی یکم جولائی کو دی جانے والی تنخواہ ) سے ادا کی جائیں گی۔ جبکہ تنخواہوں میں اضافہ کیلئے حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کی روشنی میں ریاستی حکومت پر ( یعنی آر ٹی سی پر ) سالانہ 1387 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ عائد ہوگا اور اس طرح آر ٹی سی کو آئندہ دنوں میں نفع بخش ادارہ میں تبدیل کرنے کیلئے حکومت خود ذمہ داری لیتے ہوئے مثبت اقدامات کرے گی اور ان اقدامات کے ایک حصہ کے طور پر حکومت سالانہ بجٹ میں آر ٹی سی کیلئے خصوصی گرانٹس فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں چلائی جانے والی 3800 آر ٹی سی بسوں کے باعث آر ٹی سی کو ہونے والے نقصان کی پابجائی جی ایچ ایم سی کے ذریعہ کروانے کے حکومت اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں چلنے والی بسوںکو رعایت کے طور پر 200 کروڑ روپئے جی ایچ ایم سی فراہم کرے گی بلکہ برداشت کرے گی۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر جی ایچ ایم سی کے موجودہ بعض قوانین میں مناسب ترمیم کیلئے بھی اقدامات کرکے 200کروڑ روپئے آر ٹی سی کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ آر ٹی سی میں خدمات انجام دینے والے 4300کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو کسی تاخیر کے بغیر کل سے ہی باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور کہا کہ اس سلسلہ میں عہدیداران آر ٹی سی کو ضروری ہدایات بھی دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی مدت کو ڈیوٹی تصور کیا جائے گا اور ہڑتال کے دوران ملازمین کے خلاف درج کردہ کسی بھی نوعیت کے مقدمات سے فوری طور پر دستبرداری اختیار کرلینے کا بھی اعلان کیا، اور جن ملازمین و عہدیداران کو خدمات سے معطل کیا گیا تھا انہیں فوری خدمات پر بحال کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی 1900 کروڑ روپئے کے خسارہ سے دوچار ہے اور 1385کروڑ روپئے کے قرض بقایا جات پائے جاتے ہیں اور ان بقایا جات کے عوض سالانہ 186کروڑ روپئے سود ادا کیا جارہا ہے۔ (سلسلہ صفحہ 6 پر)
انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کی مکمل صورتحال کا جائزہ لینے اور نفع بخش ادارہ بنانے کیلئے جاریہ ماہ مئی کے اختتام سے قبل اعلیٰ عہدیداران آر ٹی سی اور آر ٹی سی ملازمین یونینوں کے قائدین کے ساتھ ایک اہم اجلاس طلب کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ آر ٹی سی میں جملہ 56740 ملازمین پائے جاتے ہیں اور ان ملازمین پر لاکھوں افراد کا انحصار رہتا ہے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محض سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج آر ٹی سی کو حکومت پر انحصار کرنے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اخباری نمائندوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین آر ٹی سی کو اکسپریس بس سرویسس میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں اضافہ شدہ تنخواہوں کے بقایا جات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 50فیصد رقومات پانچ سال بعد بانڈز کے ذریعہ دی جائیں گی اور ماباقی 50فیصد اضافہ شدہ رقومات تین مرحلوں میں اقساط کی شکل میں یعنی آنے والے دسہرہ تہوار، اُگادی اور پھر دسہرہ تہوار کے موقع پر رقومات کی شکل میں ادا کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ شدہ بقایا جات 13اپریل 2013ء سے ادا کئے جائیں گے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کے اس سوال کو مسترد کردیا کہ الیکٹریسٹی کے کنٹراکٹ ملازمین کی ہڑتال جاری ہے لیکن حکومت صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹریسٹی کے جو ملازمین ہڑتال کررہے ہیں وہ ہرگز کنٹراکٹ ملازمین نہیں ہیں بلکہ آؤٹ سورسنگ ملازمین ہیں جبکہ حکومت تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے تمام تر اقدامات کرے گی اور کسی بھی صورت میں حکومت اپنے اس وعدے سے انحراف نہیں کرے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حسین ساگر کی صفائی، سکریٹریٹ کی منتقلی، کلچر سنٹر کی تعمیر جیسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ انہوں نے ادعا کیا کہ آئندہ دنوں میں تلنگانہ میں برقی کٹوتی ہرگز نہیں رہے گی بلکہ شہر حیدرآباد کے سابقہ وقار کو بحال کرنے کیلئے حکومت کمر بستہ ہوچکی ہے اور اس ضمن میں تنقیدوں اور رکاوٹوں کی کوششوں کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔اس موقع پر این نرسمہا ریڈی وزیر لیبر ای راجندر، وزیر فینانس جگدیش ریڈی وزیر برقی و دیگر وزراء موجود تھے۔قبل ازیں آندھرا پردیش کے وزیر ٹرانسپورٹ کے چیمبر میں اے پی ایس آر ٹی سی یونین لیڈرس کے ساتھ آج صبح بات چیت کے بعدریاستی وزیر ٹرانسپورٹ راگھوا راؤ اور وزیر لیبر کے اچن نائیڈو نے مشترکہ پریس کانفرنس میں 43فیصد فٹمنٹ کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT