Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / آر ٹی سی کو مستحکم کرنا حکومت کی ذمہ داری

آر ٹی سی کو مستحکم کرنا حکومت کی ذمہ داری

جگتیال۔/15مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کانگریس ڈپٹی فلور لیڈر رکن اسمبلی جگتیال مسٹر ٹی جیون ریڈی نے آج اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے تجربہ کے مطابق سرکاری یا کنٹراکٹ ملازمین میں اگربدعنوانیوں سے پاک آر ٹی سی محکمہ ہے ، آر ٹی سی جو کہ ایک کارپوریشن خانگ

جگتیال۔/15مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کانگریس ڈپٹی فلور لیڈر رکن اسمبلی جگتیال مسٹر ٹی جیون ریڈی نے آج اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے تجربہ کے مطابق سرکاری یا کنٹراکٹ ملازمین میں اگربدعنوانیوں سے پاک آر ٹی سی محکمہ ہے ، آر ٹی سی جو کہ ایک کارپوریشن خانگی شعبہ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ڈرائیور سرکاری محکموں کی بہ نسبت روزآنہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی انجام دیتے ہیں جبکہ دیگر ڈرائیورس بڑی مشکل سے 4گھنٹے بھی خدمات انجام نہیں دیتے اور ان کی تنخواہیں ان کی بہ نسبت نصف سے بھی کم ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ جبکہ ٹی آر ایس پارٹی کے سی آر نے انتخابات سے قبل سرکاری ملازمین اور کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور فٹمنٹ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا ایک سال کے عرصہ کے باوجود وعدہ …… نہ ہوسکا۔ آر ٹی سی ملازمین کو 44فیصد فیٹمنٹ میں اضافہ کے بجائے بس چارجس میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جائے تو عوام کی جانب سے آنے والے حالات کی بھی حکومت ہی ذمہ دار ہوگی۔ چارجس میں اضافہ مناسب اقدام نہیں ہے کیونکہ آر ٹی سی کو ویاٹ اور سیل ٹیکس سے استثنیٰ ہے اور ڈیزل کی قیمت بھی کم ہے۔کے سی آر نے آر ٹی سی عہدیداروں کو عوام کے سامنے قصور وار ٹہرانے کیلئے ہڑتال کو جاری رکھنے دیا جبکہ انہیں تجربہ ہے سابق میں وہ ٹرانسپورٹ منسٹر رہ چکے ہیں جبکہ آر ٹی سی کے ذریعہ حکومت کو موٹر ٹیکس کے ذریعہ آمدنی حاصل ہے۔ آج آر ٹی سی کو نقصان میں بتایا جارہا ہے جبکہ سابق میں آر ٹی سی فائدہ میں بھی تھی، آر ٹی سی غیر ضروری لکثرری؍ اے سی بسیں خرید کر اپنے اوپر بوجھ بنارہی ہے جو غیر ضروری ہے اور ایک سال سے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ فی لیٹر 10روپئے تک کمی ہوئی ہے۔ آر ٹی سی چارجس میں اضافہ نہ کیا جائے ۔آر ٹی سی کو مستحکم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور انہوں نے کے سی آر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آندھرا والوں کے خلاف زبانی تو بہت کہتے ہیں لیکن عملی اقدام کچھ بھی نہیں ہے۔ متحدہ ریاست میں 108سرویس، JVK کے آندھرا کے سرمایہ کار کے تحت ہے جو آج تک جاری ہے اور اس کو فنڈس جاری کرنا کہاں تک درست ہے۔ آج تک 108 کیلئے اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی نہ لگانے کی بات کہی۔ جبکہ 108 سرویس ملازمین کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں۔ محض 108 سرویس اسکیم کانگریس دور حکومت کی وجہ سے اس کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ 108سرویس کو JVKسے رد کرتے ہوئے تلنگانہ کے تحت لے کر مصیبت زدہ 108ملازمین کو راحت پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر سابق بلدیہ چیرمین گری ناگا بھوشنم، سابق سرپنچ رام ریڈی، چلکل سرپنچ رامنا، دیویندر ریڈی اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT