Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آر ٹی سی یونین قائدین کے ساتھ آج اجلاس

آر ٹی سی یونین قائدین کے ساتھ آج اجلاس

چیف منسٹر کی برہمی کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ کا یونین قائدین کے ساتھ بات چیت کا آغاز
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر کی برہمی کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے آج سکریٹریٹ میں آر ٹی سی یونین قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے ہڑتال سے دستبردار ہوجانے کا مشورہ دیا ۔ یونین کے قائدین نے 9 جون بروز ہفتہ یونین کے قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کرنے کا تیقن دیا ۔ واضح رہے کہ کل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہڑتال منظم کرنے کی نوٹس دینے والی یونین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت انتباہ دیا تھا ۔ ہڑتال کا آغاز کرنا خود کشی کے مترادف قرار دیا تھا ۔ آج ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے سکریٹریٹ میں آر ٹی سی ایمپلائز یونین کا اجلاس طلب کیا ۔ جس میں صدر نشین آر ٹی سی ستیہ نارائنا ، پرنسپل سکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ سنیل شرما ، ایم ڈی ، آر ٹی سی رمنا راؤ مزدور یونین کے قائدین ، راجی ریڈی ( ای یو ) ، ہنمنت ( ٹی جے ایم یو ) اے وی ایس راؤ ( ایس ڈبلیو ایف ) ابراہم ( آئی این ٹی یو سی ) رمیش کمار ( بی ایم ایس ) یادیا ( ٹی این ٹی یو سی ) ایس سریش ( بی ڈبلیو ایل ) یادگیری ( بی کے یو ) نے شرکت کی ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی خسارہ میں ہے لہذا 11 جون سے شروع کی جانے والی ہڑتال پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا ۔ آر ٹی سی کو فائدے میں پہونچانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی پر تقریبا 3 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ہے ۔ سالانہ آر ٹی سی کو 700 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ 250 کروڑ روپئے سالانہ سود ادا کیا جارہا ہے ۔ تنخواہوں میں اضافہ سے آر ٹی سی پر مزید 1400 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔ 53 ہزار مزدوروں کے علاوہ 4.5 کروڑ عوام کے مفادات پر غور کرنا لازمی ہے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آر ٹی سی یونین کے قائدین نے کہا کہ اجلاس میں ہڑتال کی نوٹس پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے ہڑتال سے دستبردار ہوجانے کی اپیل کی ۔ ہم نے چیف منسٹر یا کابینہ وزراء کی کمیٹی سے واضح تیقن دینے کا مطالبہ کیا جس پر مہیندر ریڈی نے ہڑتال کی نوٹس واپس لینے تک کوئی بات چیت کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ آر ٹی سی کی تمام یونین کے ذمہ داروں کے ساتھ 9 جون کو دوپہر میں ایک اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ حکومت سے جو بقایا جات ادا شدنی ہے ۔ اس کی اجرائی عمل میں لانے پر بڑی حد تک مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ مزدور قائدین نے یونین کے انتخابات کے لیے ہڑتال کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کئے گئے ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتیں کرنا چیف منسٹر کو زیب نہیں دیتا ۔ آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کی سازش کرنے کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ ہورہا ہے ۔ اس کا بوجھ حکومت برداشت کرے ۔ چیف منسٹر کے ڈرانے دھمکانے سے ہم خوفزدہ ہونے والے نہیں ہے ۔ بلکہ بطور احتجاج کل تمام آر ٹی سی بس ڈپوز کے سامنے سیاہ بیاچ لگاتے ہوئے احتجاج کیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT