Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / آر پی آئی کارکن کے قتل کے خلاف پر تشدد احتجاج

آر پی آئی کارکن کے قتل کے خلاف پر تشدد احتجاج

بھیونڈی میں کامیاب بند ، بی جے پی حامیوں کے خلاف کیس
تھانے ۔ 16 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : بھیونڈی میں ایک دلت لیڈر کی موت پر آر پی آئی کارکنوں کے تشدد کے بعد پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرلیا جب کہ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی کے ایک قریبی رشتہ دار کے خلاف قتل کیس بھی درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ 100 سے زائد مسلح ہجوم کے خلاف فساد بھڑکانے کے الزام میں کیس درج کیا گیا جس نے سینکڑوں گاڑیوں بشمول 2 پولیس جیپ گاڑیوں کو کل نقصان پہنچایا تھا تاہم ان واقعات کے سلسلہ میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ بھیونڈی میں کل ریپبلیکن پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ایک برہم ہجوم نے کل 30 سے زائد گاڑیوں بشمول موٹر سیکلوں اور پولیس ویانس کو آگ لگادی تھی اور بی جے پی رکن اسمبلی مہیش چوگلے کے دو دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کردی گئی ۔ جن کے قریبی رشتہ دار راجو چوگلے پر حملہ کیس درج کیا گیا دریں اثناء آر پی آئی نے اپنے ایک کارکن کے قتل کے خلاف آج بھیونڈی میں مکمل بند منایا ۔ آج صبح سے ہی تمام ادارے بند رکھے گئے اور کپڑا صنعت کے اس ٹاون میں ٹریفک متاثر دیکھی گئی ۔ تھانے کے ڈی سی پی ( کرائم ) پراگ مانیرے نے بتایا آج کا بند پرامن رہا اور صورتحال مکمل قابو میں ہے ۔ تھانے سے 50 کلو میٹر دور واقع بھیونڈی میں کل گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب یہ اطلاع ملی کہ آر پی آئی کارکن دھیپے جو کہ 11 مئی کے حملہ میں شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ سینٹ جارج ہاسپٹل ممبئی میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ پولیس نے بتایا کہ دھیپے اور دیگر 5 افراد پر مسلح نوجوانوں کے ایک گروپ نے آہنی سلاخوں اور تیز دھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھا ۔ جس میں چوگھلے کے فرزند بھی ملوث ہیں ۔ حملہ آوار نوجوانوں کا تعلق بی جے پی سے بتایا گیا ۔ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلہ میں دو درجن افراد بشمول رکن اسمبلی کے رشتہ دار کے خلاف درج کیے گئے کیس کو قانونی تعزیرات ہند 302 میں تبدیل کردیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ دھیپے اور دیگر آر پی آئی کارکنوں پر سیاسی مخاصمت کا نتیجہ ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT