Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / آزادی ٔ صحافت کے استحصال کے خلاف مرکز کا انتباہ

آزادی ٔ صحافت کے استحصال کے خلاف مرکز کا انتباہ

پرنٹ میڈیا کی ستائش ‘ جنگ آزادی میں اُردو کا اہم رول ‘ صحافیوں کے اورینٹیشن پروگرام سے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا خطاب

صحافتی برادری کے مسائل کی یکسوئی کا وعدہ :محمد محمود علی
عوامی مسائل کو اُجاگر کرتے رہیں گے : عامر علی خان
حیدرآباد۔6 نومبر(سیاست نیوز) مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ صحافت اور اظہار خیال کی آزادی پر حکومت سنجیدہ ہے مگر اس کا استحصال کرنے والوں کے خلاف مرکزی حکومت سخت اقدامات سے بھی گریز نہیںکریگی بالخصوص ذرائع ابلاغ کے چند گوشوں سے اظہار خیال کی آزادی کا استحصال کیاجارہاہے جو ناقابلِ برداشت ہے۔ آج یہاں سالار جنگ میوزیم میںتلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے علاوہ تلنگانہ اُردو اکیڈیمی اور مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ صحافت بالخصوص الکٹرانک میڈیا بلاتحقیق خبروں کی اشاعت کے ذریعہ سنسنی پھیلانے کاکام کررہا ہے جبکہ ایساکرنے سے شہروں میںاضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے حالانکہ سنسنی خیز خبروں کی اشاعت سے قبل اس کی صداقت پر تحقیق ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت بلاتحقیق سنسنی خیزخبروں کی اشاعت کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کاروائی سے بھی گریز نہیںکریگی۔ انہوںنے خبروں کی اشاعت میں پرنٹ میڈیاکے رول کی ستائش کی اور کہاکہ پرنٹ میڈیا میںبلاتحقیق خبروں کی اشاعت نہیں کی جاتی اسی وجہہ سے پرنٹ میڈیا سے کافی اہمیت بھی ہے۔وینکیا نائیڈو نے اُردو کے متعلق کہاکہ یہ ایک میٹھی زبان ہے جس نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں اُردو اور ہندی زبا ن کے گراں قدر تعاون کو ناقابلِ فراموش قراردیا۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ چند لوگ ہیں جو لسانی تہذیب کو مذہب سے جوڑنے کاکام کرتے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے بتایا کہ اُردو داں طبقے میںمسلمانو ںکیساتھ غیرمسلموں کی بھی اکثریت پائی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ صحافی برادری کو اورینٹیشن کی ضرورت ہے اس طرح کے پروگرامس صحافتی اقدار میںاضافے کا کام کریں گے ۔ وینکیا نائیڈونے ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کو بے مثال قراردیتے ہوئے کہاکہ ہمارے یہاں آندھرا کے ایک مقام پر ایک قدیم درگاہ ہے جہاں پر میرے تمام خاندان والے حاضری دیتے ہیں اسی طرح اس گائوں کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع سے بھی کئی غیر مسلم لوگ اس درگاہ پر حاضری دیکر اپنی منتیںاور مرادیں پوری کرتے ہیں۔ نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست الحاج محمد محمودعلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں صحافتی برداری کو درپیش مسائل کو جنگی خطوط پر حل کرنے کا وعدہ کیا۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ غیر ضروری اشتعال دلانے والی خبروں کی اشاعت او رنشریات سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ چند ٹی وی چیانلس پر عوام کو بھڑکانے والی خبریں شائع کی جاتی ہیں جو صحافتی اقدار کو متاثر کرنے والا عمل ہے۔ انہوں نے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے خبروں کی اشاعت کو بھی غیرذمہ دار صحافت قراردیا۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ کئی ایسے خبریں ہیںجو محکمہ مال کی مجھے اخباروں سے ملتی ہیں ۔ انہوں نے اگلے سال کے اوائل میںبین الاقوامی طرز کی اُردو کانفرنس حیدرآباد میںمنعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحقیقی صحافت کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ادارے میں تمام رپورٹرس کو نیوزکے متعلق مکمل آزادی دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ خبر کی تحقیق کے بعد اشاعت حقیقی معنی میںصحافت کہلائی جاتی ہے۔ جناب عامر علی خان نے بتایا کہ ادارہ سیاست میںشائع ہونے والی خبروں کو مخالف حکومت پیش کرتے ہوئے چندگوشوں کی جانب سے چیف منسٹر کو باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر میں یہاں یہ بات واضح کردیناچاہتا ہوں کہ اگر عوامی مسائل کواجاگر کرنا حکومت کی مخالفت ہے تو ہم یہ کام آگے بھی کرتے رہیں گے۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ عوامی مسائل بالخصوص مسلمانوں کودرپیش مسائل کو اخبار کے ذریعہ حکومت کے علم میںلانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ کام آگے بھی کرتے رہیں گے ۔ انہو ں نے صحافتی برادری سے خبر کی تحقیق اور پس پردہ محرکات سے آگاہی کے بعدہی خبر بنانے کا مشورہ دیا۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے اندرون ایک ہفتہ اُردو اکیڈیمی کا قیام عمل میںلانے اور ریاست کے تمام 31اضلاع میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ مائناریٹی کمیشن عابد رسول خان نے مرکزی وزیرسے اُردو کی ترقی وترویج کیلئے موثر بجٹ فراہم کرنے کی اپیل کی۔ کمشنر آئی اینڈ پی آر نوین متل نے عنقریب صحافیوں میں ہیلتھ کارڈ کی اجرائی کا وعدہ کیا۔ بعد ازاں ’’صحافت کی ذمہ داریوں‘‘ پر جناب محمد ریاض کی لکھی کتاب کی رسم اجرائی جناب محمد محمود علی نائب وزیراعلیٰ تلنگانہ کے ہاتھوں عمل میں آئی۔

TOPPOPULARRECENT