Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / آسام تشدد میں مہلوکین کی تعداد 32 ، فوج کی گشت

آسام تشدد میں مہلوکین کی تعداد 32 ، فوج کی گشت

گوہاٹی۔/3مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) آسام کے بوڈو لینڈ علاقائی انتظامی اضلاع میں این ڈی ایف بی ۔ سونگجیت عسکریت پسند کے جمعرات سے جاری ہولناک تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی آج مزید9نعشیں دستیاب ہوئیں جس کے ساتھ ہی اس تشدد میں مہلوکین کی مجموعی تعداد 32 تک پہونچ گئی۔ ریاستی حکومت نے اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ داروں کا پتہ چلانے کیلئے این آئی اے

گوہاٹی۔/3مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) آسام کے بوڈو لینڈ علاقائی انتظامی اضلاع میں این ڈی ایف بی ۔ سونگجیت عسکریت پسند کے جمعرات سے جاری ہولناک تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی آج مزید9نعشیں دستیاب ہوئیں جس کے ساتھ ہی اس تشدد میں مہلوکین کی مجموعی تعداد 32 تک پہونچ گئی۔ ریاستی حکومت نے اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ داروں کا پتہ چلانے کیلئے این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع بکسا کے مانس نیشنل پارک سے متصلہ سلباری سب ڈیویژن کے تحت کھاگرا باڑی گاؤں سے 9نعشیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں دو خواتین اور چار بچوں کی نعشیں بھی شامل ہیں۔ ایک شخص عارف الاسلام اور ایک لڑکی ایلینا خاتون کی شناخت کی جاچکی ہے۔

یہ وحشیانہ ہنگامہ آرائی جمعرات کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب این ڈی ایف بی ۔ سونگجیت کے بڑے پیمانے پر مسلح عسکریت پسندوں نے اس ضلع کے آنند بازار علاقہ میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ بعد ازاں پڑوسی ضلع کھوکرا جھار کے گاؤں بالا پاڑہ ۔I میں تخریب کاروں نے اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں آٹھ افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے۔ ضلع بکسا کے مواضعات ننکے تادر پاڑی اور نین گوڑی میں انتہاء پسندوںنے 100گھروں اور ایک لکڑی کے پُل کو نذرِ آتش کردیا تھا۔ جہاں گذشتہ شب 12نعشیں برآمد ہوئیں۔ بندوق کی گولی لگنے سے چھلنی نعشوں میں پانچ خواتین اور ایک کمسن بچہ کی نعش بھی شامل ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ضلع بکسا کے سیاری میں فارسٹ رینج آفس کو نذرِ آتش کرنے کی کوششوں میں ملوث ایک ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی۔ بعد ازاں سینکڑوں افراد اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ان میں کئی نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لی۔

چیف منسٹر ترون گوگوئی کی زیر صدارت منعقدہ کابینی اجلاس نے ان واقعات کی تحقیقات این آئی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گوگوئی نے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے ذمہ دار پائے جانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ این آئی اے ہی اپنی تحقیقات کے ذریعہ پتہ چلائے گی کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں۔‘‘ ترون گوگوئی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں پڑوسی ملک بھوٹان کے ساتھ مکمل تال میل اور ربط کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ممکن ہے کہ عسکریت پسند یہاں جرم کے ارتکاب کے بعد بھوٹان میں روپوش ہوگئے ہوں گے۔ اگر این آئی اے آئے گی تو اس کا پتہ چلایا جائے گا۔‘‘ اسی دوران آسام میں فوج کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ چائے کی پتی کے لیے مشہور ریاست آسام میں یہ فرقہ وارانہ فسادات ایسے وقت پھوٹ پڑے جب کہ انتخابات کے اہم مراحل ابھی تکمیل کو پہنچے ہیں اور مزید چند مراحل باقی ہیں ۔ انتخابات میں فرقہ وارانہ و مذہبی تقسیم کافی بڑھ گئی تھی اور بالخصوص بی جے پی نے اقتدار پر واپسی کے لیے اپنی مہم میں ان امور کو نمایاں طور پر پیش کیا ۔ آسام میں مسلمانوں میں خوف و دہشت کا عالم ہے اور وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دیہاتوں سے نقل مقام کررہے ہیں ۔

ایک مسلم شہری انور اسلام نے جو بکسا ضلع میں واقع دیہات کا ساکن ہے ۔ غذائی اشیاء کی خریداری کے لیے یہاں آئے تھے ، انہوں نے بتایا کہ رائفلز سے مسلح افراد سائیکلوں پر ان کے گاوں مشل پور پہنچے جہاں انہوں نے بلا اشتعال فائرنگ کردی اور ان کی جھونپڑیوں کو جلا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گاؤں واپسی سے خوفزدہ ہیں ۔ بوڈو نمائندوں کا کہنا ہے کہ آسام میں کئی مسلمان بنگلہ دیش سے غیر قانونی نقل مقام کئے ہوئے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر آبائی بوڈو اراضی پر قبضہ کرلیا ہے ۔ 2012 میں بھی یہاں جھڑپوں میں ہزاروں مسلمان ہلاک اور چار لاکھ سے زائد اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔

مرکزی وزیر قانون کپل سبل نے اس تشدد کے لیے بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی کو ذمہ دار قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’ مودی ہندوستان کو تقسیم کرنے والا ماڈل ‘ ہے ۔ مودی نے گذشتہ ہفتہ کہا تھا کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی نقل مقام کرنے والوں کو ان کے اقتدار پر آنے کے بعد ساز و سامان کے ساتھ واپسی کے لیے تیار رہنا ہوگا ۔ آج ضلع بکسا میں فوجیوں کے ٹرکس کو گشت کرتے دیکھا گیا ۔ مہلوکین کی نعشیں پولیس اوٹ پوسٹ پر شناخت کے لیے رکھی گئی ہیں ۔ اس تشدد کی وجہ سے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر ریلیف کیمپس میں پناہ لے رہے ہیں ۔ دہشت گردوں کی جانب سے کئی مکانات نذر آتش کرنے کی اطلاع ہے ۔ چیف منسٹر ترون گوگوئی نے کہا کہ کوکراجھار اور بکسا اضلاع میں صورتحال میں بہتری آئی ہے اور تشدد کے تازہ واقعات پیش نہیں آئے ۔ آسام کے ڈائرکٹر جنرل پولیس اے پی راوت نے بتایا کہ کوکراجھار اور چرانگ اضلاع میں کرفیو میں کچھ دیر کے لیے نرمی دی گئی لیکن سب سے زیادہ متاثرہ بکسا میں غیر معینہ مدت کا کرفیو برقرار ہے ۔ پولیس نے تشدد کے سلسلہ میں 22 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT