Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / آسام میں الفا کا حملہ ، تین فوجی جوان ہلاک

آسام میں الفا کا حملہ ، تین فوجی جوان ہلاک

متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ، حملہ آور گھنے جنگلات میں فرار ہونے میں کامیاب

گوہاٹی ۔ /19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) الفا (I) اور این ایس سی این (کے) عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے بالائی آسام کے ضلع تنسکیہ پنگری میں ایک فوجی قافلہ پر گھاٹ لگاکر حملہ کیا جس میں فوج کے تین جوان ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے ۔ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ 15 عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے آج صبح کی اولین ساعتوں میں فوج کے ایک قافلہ کو گھات لگاکر حملے کانشانہ بنایا ۔ جس میں دو گاڑیوں کو نقصان پہونچا اور ایک جوان برسرموقع ہلاک اور دیگر چھ شدید زخمی ہوگئے ۔ دو زخمی دواخانہ کو منتقلی کے دوران رات میں فوت ہوگئے ۔ تنسکیہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مگدھا جیوتی مہنتا نے کہا کہ این ایس سی این (کے) اور الفا (I) کے عسکریت پسندوں نے مشترکہ طور پر یہ حملہ کیا تھا ۔ جس میں راکٹوں کے ذریعہ برسائے جانے والے گرینیڈ اے کے 47 رائفلس اور مورٹارس جیسے انتہائی عصری اسلحہ استعمال کئے گئے ۔ سکیورٹی فورسیس نے جوابی کارروائی کی تاہم عسکریت پسند حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ ان میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کا ہنوز کوئی علم نہیں ہوسکا ہے ۔ گھات لگاکر کئے گئے حملے کے مقام پر ایک گہرا کھڈ پڑگیا ہے ۔ جہاں دونوں گاڑیاں ، ایک جیپ اور ایک شکتی مان ٹرک مکمل طور پر تباہ ہوگئے ۔ اس حملے کے بعد فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف نے سارے علاقہ کا محاصرہ کرلیا ہے اور بڑے پیمانہ پر تلاشی مہم میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہیلی کاپٹر کو بھی متحرک کردیا گیا ہے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آسام کے چیف منسٹر سربانندا مونو والی سے فون پر بات چیت کے دوران صورتحال کا جائزہ لیا ۔ سونووال نے وزیر داخلہ کو اس واقعہ کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ دھماکہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے علاوہ خاطیوں کو پکڑنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ بھی کیا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’تنسکیہ کے ایک دھماکہ میں فوجی سپاہیوں کی ہلاکت پر مجھے سخت صدمہ ہوا ہے ۔ زخمیوں کی عاجلانہ صحتیابی کیلئے میں دعا گو ہوں ‘‘ ۔ آسام کے چیف منسٹر نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور ڈی جی پی مکیش سہائے کو مقام واقعہ پہونچکر صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ۔ پنگری میں تین دن کے دوران ان عسکریت پسند تنظیموں کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے ۔ /16 نومبر کو ایک شخص ہلاک اور دیگر دو شدید زخمی ہوگئے تھے جب مزدوروں کو اجرت دینے کیلئے بینک سے نئی کرنسی کے ساتھ چائے کے باغات کو روانہ ہونے والی ایک گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT