Wednesday , December 19 2018

آسام میں ’’غیرقانونی‘‘ مسلم تارکین وطن

عرفان جابری

شمال مشرقی ہند کی بڑی ریاست آسام کی مسلم آبادی میں نمایاں اضافہ ، وہاں مسلمانوں کی بڑھتی سیاسی اہمیت حتیٰ کہ بدرالدین اجمل کی قیادت میں نوخیز سیاسی پارٹی کو قابل لحاظ کامیابی نے فرقہ پرستوں کے بے چین کردیا اور وہاں مسلسل تین میعاد یا پندرہ سال (2001-16ء) ترون گوگوئی کی زیرقیادت کانگریس حکمرانی کے بعد بی جے پی آخرکار پہلی بار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ مئی 2016ء میں ریاستی حکمرانی سنبھالنے کے بعد سے بی جے پی چیف منسٹر سرب نند سونوال کی حکومت ِ آسام ریاست میں ’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس‘ کی تیاری میں جٹ گئی جو آسام میں 1951ء سے اپنی نوعیت کی پہلی سرگرمی ہے۔
فرقہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ آسام میں موجود بہت سارے مسلم یا تو بنگلہ دیش سے گھس آئے ہیں یا میانمار سے نقل مقام پر مجبور روہنگیا آبادی ہے۔ روہنگیا مسئلہ مسلمہ ہے اور وہاں سے ہندوستان کے مختلف حصوں میں پناہ گزیں آئے ہیں۔ ہوسکتا ہے چند افراد بنگلہ دیش سے بھی آئے ہوں گے لیکن فرقہ پرستوں کی اصل تشویش کا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم آبادی انھیں پسند نہیں کرتی اور آسام میں لگاتار 15 سال کانگریس حکمرانی میں اُن کا رول بھی ہے۔ اتنا ہی نہیں ، 2013ء سے اجمل کی سیاسی پارٹی اُبھر آنا اور نمایاں کامیابی حاصل کرلینا بھی وہ سیاسی طور پر اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ چنانچہ جیسے ہی آسام میں بی جے پی کا اقتدار آیا، سب سے زیادہ زور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (NRC) کو تازہ ترین بنانے پر دیا جارہا ہے۔ چنانچہ 31 ڈسمبر کو تازہ این آر سی شائع کیا جانا طئے ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں یہ عمل جاری ہے جو آسام میں تمام ہندوستانی شہریوں کی گنتی کرتے ہوئے اُن کے نام پیش کرے گا۔ جن کو غیرشہری قرار دیا جائے گا وہ کسی بھی مملکت سے عاری لوگ ہوجائیں گے۔ ہندوستان چاہے گا کہ انھیں ملک بدر کردے، لیکن بنگلہ دیش کی اس معاملے میں مختلف رائے ہوسکتی ہے۔
این آر سی 1951ء کی اساس اُس سال کی مردم شماری پر مبنی تھی۔ موجودہ طور پر یہ عمل آسام تک محدود رکھا گیا ہے اور دونوں کے درمیان فرق مختلف مراحل کی تصدیق میں مضمر ہے جو رجسٹر آف سٹیزنس کی تیاری میں بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ تصدیق و توثیق کے نئے طریقوں سے توقع کی جارہی ہے زیادہ معتبر او ردیرپا مواد حاصل ہوسکے گا جو اب تک کے طریقوں سے حاصل نہیں ہورہا تھا۔ فوری طور پر تشویش کا معاملہ یہ ہے کہ ظاہر طور پر غیرشہری افراد سامنے آئیں گے جن سے ہندوستان کس طرح نمٹے گا۔ وہ جدید دور کے مثالی بے مملکت لوگ ہوں گے۔ کیا ان کی پوری طرح بازآبادکاری کی جاسکتی ہے؟ کیا انھیں ملک بدر کیا جاسکتاہے؟ ہندوستان نے ضرور انھیں ملک سے واپس بھیج دینا چاہے گا لیکن بنگلہ دیش کی یقینا کچھ اور سوچ ہوگی۔ تب کیا نھیں ’معرض التواء‘ معاملہ کے طور پر یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ لاکھوں افراد لیت و لعل میں پڑجائیں گے، ایسی ریاست میں جو انھیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ان کی تعداد اتنی ہے کہ جملہ روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد کے مساوی ہے۔

بہرحال آسام میں تازہ این آر سی کی اشاعت کے بعد شمال مشرقی ریاست میں کتنے لوگ غیرشہری نامزد کئے جاتے ہیں، اس پر تجسس غیرواجبی نہیں ہے کیونکہ اس کیلئے کسوٹی مختلف نوعیت کی ہوسکتی ہے۔ شہریت کی قانونی تشریح میں تبدیلی ہوسکتی ہے، نسل اور نقل مکانی سے متعلق صدیوں سے جاری جھگڑوں کا دخل بھی ہوسکتا ہے۔ اور پھر مذہبی طور پر منقسم سیاسی وابستگی کا بھی بڑا رول ہوسکتا ہے۔ آسام میں جہاں اب نئی ہندوتوا سرپرستی والی حکومت ہے، وہاں کے کئی گوشوں میں کٹرپسندی ہے ۔ آسام ڈی جی پی مکیش سہائے کا کہنا ہے، ’’ہم کسی بھی صورتحال کیلئے تیار ہیں۔ مرکز نے سنٹرل فورسیس کے 50 اضافی کمپنیاں تعینات کئے ہیں، جس کے علاوہ انٹلیجنس کے معاملے میں بھی تعاون پیش کیا ہے۔ ہم افواہیں پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر نظر رکھ رہے ہیں اور بعض تنظیموں اور اسٹوڈنٹس یونینس پر بھی نظریں ہیں۔ یکم ڈسمبر سے شہریوں کی تصدیق کیلئے ہزاروں ٹیمیں آسام میں گھوم رہی ہیں۔ عوام کو واقف کرایا جارہا ہے کہ یہ صرف پہلا مسودہ ہے اور انھیں اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے مواقع دستیاب رہیں گے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کوئی بھی شہری کو رجسٹر میں اندراج سے محروم نہیں کیا جائے گا اور عوام تعاون کررہے ہیں۔‘‘
این آر سی کا عمل بھلے ہی حالات کو آخرکار قابو میں لانے کا موجب ہوگا لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ آسام تحریک کے 40 سال ہورہے ہیں۔ 1978ء میں ایک ضمنی چناؤ نے جو منگولدوئی لوک سبھا ممبر کی انتخاب کے اندرون ایک سال موت کے بعد منعقد کیا گیا تھا، تمام تر پیچیدہ تنازعہ شروع ہوا تھا۔ مبصرین نے نوٹ کیا کہ رائے دہندوں کی تعداد ایک سال کے اندرون تقریباً 40,000 بڑھ گئی۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین اور دیگر نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ چناؤ کو روک دیا جائے تاوقتیکہ غیرقانونی تارکین وطن کا پتہ چلاتے ہوئے انھیں ووٹرس لسٹ سے خارج نہیں کردیا جاتا۔

بعدازاں آسام میں تشدد اور شورش پسندی کا دَور دورہ رہا جیسا کہ 1983ء کا نیلی قتل عام جس میں زائد از 2,000 بنگالی داں مسلمانوں کو ضلع ناگاؤں کے 14 دیہات میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اسی سال غیرقانونی تارکین وطن کا پتہ چلانے کیلئے قانون ’IMDT‘ بنایا گیا۔ اس پوری تحریک کے نتیجے میں آسام معاہدہ 1985ء وجود میں آیا جس کے تحت مرکز نے ایسے تمام ’’غیرقانونی تارکین وطن‘‘ کو ملک سے واپس بھیج دینے پر اتفاق کیا، جو 25 مارچ 1971ء کے بعد سرحدات عبور کرکے آئے تھے۔ یہ وہی تاریخ ہے جب حکومت پاکستان نے ’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ شروع کیا تھا جو بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے تحریک کے خلاف کارروائی تھی۔ وہ لوگ جو 1966-71ء کے دوران آگئے انھیں شہری سمجھا جانا ہے، لیکن حق رائے دہی سے محروم۔
اس کے بعد والے برسوں میں غیرقانونی تارکین کے خلاف مہم کچھ دھیمی رفتار سے چلتی رہی لیکن یہ مسئلہ ہمیشہ موضوع بنا رہا۔ 1985ء سے 2012ء تک صرف 40,000 افراد کا پتہ چلا کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن ہیں اور 2,442 کو باقاعدہ ملک سے نکالا گیا۔ دریں اثناء سرکاری ڈاٹا سے اشارہ ملا کہ ایمگریشن کا عمل جاری ہے۔ 1981ء اور 1991ء کے درمیان تین سرحدی اضلاع کریم گنج، کچار اور ڈھوبری میں آبادی کا اضافہ ترتیب وار 42، 48 اور 57 فیصد دیکھنے میں آیا اور مسلمانوں کی تعداد میں اسی طرح کا اضافہ ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔ بہ الفاظ دیگر آبادی میں اضافہ غیرقانونی تارکین وطن کا شاخسانہ ہے۔ 1997ء میں الیکشن کمیشن نے 3.5 لاکھ افراد کی ’’مشکوک ووٹرس‘‘ کے طور پر نشاندہی کی۔

اس سارے معاملے میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے ردعمل پر سب کی نظریں ہیں۔ یہ کٹرپسند مسلم تنظیم ہے جس کا تعلق کیرالا سے ہے۔ اور اس نے آسام میں کافی پیشرفت کرلی ہے۔ اگرچہ اس نے این آر سی عمل کی حمایت کی ہے لیکن جب بڑی تعداد میں ملک بدری کی بات آئے گی تو پی ایف آئی کی سیاست منظر پر آسکتی ہے۔ اور تعداد پر بھی بہت کچھ منحصر ہے۔ موجودہ طور پر چھ محروس رکھے جانے والے چھ کیمپس ہیں جو گول پاڑہ، کوکراجھار، سلچار، دبروگڑھ، جورہاٹ اور تیج پور کی ڈسٹرکٹ جیلوں کے اندرون بنائے گئے ہیں۔ ان کی مجموعی گنجائش چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ تب کیا ہوگا اگر ’’غیرقانونی‘‘ قرار دیئے جانے والوں کی تعداد دسیوں ہزار سے تجاوز ہوگی یا لاکھوں میں پہنچ جائے گی؟ کون انھیں پکڑ لائے گا؟ انھیں کہاںلایا جائے گا؟ اس طرح کے کئی سوالات ہیں جن کا جواب ہندوستان کو تلاش کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT