Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / آسام میں غیر ملکی قرار دئیے گئے 32 لاکھ مسلمانوں کے لیے تیستا کی لڑائی

آسام میں غیر ملکی قرار دئیے گئے 32 لاکھ مسلمانوں کے لیے تیستا کی لڑائی

l مسلمانوں اور ہندؤں کو انصاف دلانے سٹیزنس فار جسٹس اینڈپیس کی مہم
l قانونی لڑائی کے لیے عطیات بھی اہم ، مالی مدد ہم سب کا فریضہ
حیدرآباد ۔11 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : آسام میں مسلمانوں کی آبادی 35 تا 40 فیصد ہے ۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کو یہ خوف لاحق ہے کہ یہ ریاست مسلم اکثریتی ریاست میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آسام کے مسلمانوں کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی ثابت کرنے کے لیے برسوں سے کوششیں کی جارہی ہیں ۔ مثال کے طور پر ریاست میں 33 اضلاع ہیں جن میں 10 اضلاع ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 50 فیصد سے زائد ہے ۔ مسلمانوں کی یہ آبادی سنگھ پریوار کی نظروں میں مسلسل کھٹکتی رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ریاست میں مسلمانوں کو تعلیمی معاشی اور سیاسی لحاظ سے انتہائی پسماندہ رکھا گیا ہے ۔ آج آسام میں اگر مسلمان آبادی تعلیم یافتہ ہوتی تو کسی بھی حکومت یا تنظیم میں انہیں غیر ملکی قرار دینے کی جرات نہیں ہوتی اور مسلمان کسی بھی قسم کے استحصال کا شکار نہیں ہوتے ۔ جاریہ سال مسلمانوں اور قبائیلوں کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی قرار دینے کے لیے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس سے ایک ہزار ، دو ہزار یا دس ہزار مسلمانوں کے نام حذف نہیں کئے گئے بلکہ 40,07,707 ( چالیس لاکھ سات ہزار سات سو سات ) آسامی باشندوں کے نام نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس کے منظر عام پر لائے گئے مسودہ میں شامل نہیں تھے ۔ ان 40 لاکھ آسامی باشندوں میں 32 لاکھ سے زائد مسلمان اور 8 لاکھ ہندو یا غیر مسلم ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سنگھ پریوار اور اس کی قبیل کی تنظیموں نے کافی عرصہ قبل ہی ’ علی ، قلی ، بنگال اور نیپال ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے انہیں غیر ملکی قرار دینا شروع کیا تھا ۔ ان کی نظروں میں ’ علی ‘ سے مراد مسلمان ، قلی سے مراد قبائلی ، بنگال سے مراد بنگالی زبان بولنے والے اور نیپالی سے مراد وہ آسامی باشندے جن کی ناک چپٹی ہوتی ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ آسام میں بی جے پی اقتدار میں ہے اور بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ کے بارے میں سب جانتے ہیں ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ آسام میں ہندوستان کے 5 ویں صدرجمہوریہ فخر الدین علی احمد کے کئی ارکان خاندان بشمول بھانجے ضیا الدین علی احمد کے نام بھی شامل نہیں ہیں بلکہ حکومت انہیں بنگلہ دیشی قرار دے رہی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ضیا الدین علی احمد کے دادا لیفٹننٹ کرنل ذوالنور علی احمد کو آسام میں سب سے پہلے ایم بی بی ایس کی تکمیل اور میڈیکل پریکٹس کرنے کا اعزاز حاصل تھا ۔ ایسی شخصیتوں کے بھانجے اور پوتے کو ہندوستانی ماننے سے انکار کرنا ایک خطرناک سازش کے سوا کچھ نہیں ۔ این آر سی کے مسودہ فہرست میں آسام قانون ساز اسمبلی کے پہلے ڈپٹی اسپیکر مولوی محمد امیر الدین ( انہوں نے 1946 ۔ 1937 ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ) کے کم از کم 14 ارکان خاندان کے نام شامل نہیں ہیں ۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جانب سے تشکیل دی گئی آزاد ہند فوج کے بہادر سپاہی پورن بہادر چھتری کے ارکان خاندان کے ناموں کو بھی یہ کہتے ہوئے حذف کردیا گیا کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں مسلمانوں اور ہندوؤں سے اس نا انصافی کے خلاف کسی نے آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے تعصب و جانبداری پر بدر الدین اجمل جیسے سیاستداں بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ممتاز سماجی جہد کار و انسانی حقوق کی علمبردار تیستاسیتلواد کی قیادت میں سٹیزنس فار جسٹس اینڈ پیس (CTP) نے آواز اٹھائی ہے اور باضابطہ طور پر اپنے ہمدردوں ارکان اور انسانیت نواز افراد کے تعاون و اشتراک سے ہندوستانیوں کو غیر ملکی قرار دینے کے خلاف نہ صرف لوگوں میں شعور بیدار کررہی ہے بلکہ انہیں قانونی امداد فراہم کررہی ہیں ۔ قارئین آپ کو بتادیں کہ یہ وہی تیستاسیتلواد ہیں جن سے وزیراعظم نریندر مودی ، صدر بی جے پی امیت شاہ ، مایا کوڈنانی اور بابو بجرنگی جیسا قاتل بھی گھبراتے ہیں ۔ تسیتاسیتلواد کی جدوجہد کے نتیجہ میں گجرات فسادات میں نہتے مسلمانوں کے 172 قاتلوں و حملہ آواروں کو مختلف عدالت نے سزا سنائی ۔ ان میں سے 124 کو عمر قید کی سزا دی گئی ۔ کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کو انصاف دلانے میں بھی وہ مصروف ہیں ۔ تسیتاسیتلواد کا نام سنتے ہی فرقہ پرستوں پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے چاہے وہ سنتری ہو یا منتری یا کوئی پولیس عہدیدار راقم الحروف سے بات چیت کرتے ہوئے تیستاسیتلواد نے بتایا کہ ان کے خلاف کم از کم 16 جھوٹے مقدمات عائد کئے گئے انہیں جھوٹے و فرضی مقدمات میں ماخوذ کیا گیا اور 5 مرتبہ قاتلانہ حملے کئے گئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک بے قصور انسانوں کے خلاف نا انصافی کو برداشت نہیں کریں گی اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گی ۔ تیستا نے آسام میں لاکھوں مسلمانوں اور ہندوؤں کے نام شامل نہ کئے جانے کے بارے میں کہا کہ CJP تمام ضرورت مندوں کی ہر لحاظ سے مدد کررہی ہے انہیں قانونی امداد پہنچا رہی ہے ۔ اس کے لیے ماہرین قانون اور جہدکاروں کی اور شعور بیدار کرنے والوں کی بہت بڑی ٹیم تیار کی ہے جس پر کافی مصارف بھی آرہے ہیں ۔ بہر حال آسام میں مسلمانوں کی جو حالت زار ہے اس کی لڑائی مسلم سیاستدانوں کو لڑنی چاہئے تھی ۔ گجرات میں مسلمانوں کو انصاف دلانے کے لیے مسلم تنظیموں کو آگے آنا چاہئے تھا لیکن مسلمانوں کی لڑائی گجرات میں بھی تیستاسیتلواد نے لڑی ہے ۔ ایسے میں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ تیستا سیتلواد اور ان کی تنظیم CJP کی اپنے عطیات کے ذریعہ مدد کریں ماہانہ 200 ، 250 ، 300 اور 500 روپئے بطور عطیہ CJP کے اکاونٹ میں جمع کروائیں تو اس سے آسام میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے والوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ آپ CJP.org.in کلک کرسکتے ہیں اور اکاونٹ نمبر 50100035940810 آئی ایف ایس سی کوڈ HDFC0000079 میں بھی عطیات جمع کرواسکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT