Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / آسام میں فرید خان کی تدفین ، ہزاروں سوگواران شریک

آسام میں فرید خان کی تدفین ، ہزاروں سوگواران شریک

کوہیما ؍گوہاٹی۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ناگالینڈ کے شہر دیماپور کو جنوبی احتجاجیوں کی طرف سے جیل پر ہلہ بولتے ہوئے وہاں قید مبینہ عصمت ریزی کے ایک ملزم ڈرائیور کو زبردستی باہر نکال کر سڑک پر گھسیٹتے ہوئے زدوکوب میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ کے ضمن میں 22افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور امن و قانون کی برقراری کیلئے سہ پہر 3 بجے سے رات 12 بجے تک

کوہیما ؍گوہاٹی۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ناگالینڈ کے شہر دیماپور کو جنوبی احتجاجیوں کی طرف سے جیل پر ہلہ بولتے ہوئے وہاں قید مبینہ عصمت ریزی کے ایک ملزم ڈرائیور کو زبردستی باہر نکال کر سڑک پر گھسیٹتے ہوئے زدوکوب میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ کے ضمن میں 22افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور امن و قانون کی برقراری کیلئے سہ پہر 3 بجے سے رات 12 بجے تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔دیما پور میں تقریباً ایک ہزار بنگالی مسلم خاندانوںکے تقریباً 4 ہزار افر اد ریاست چھوڑکر چلے گئے ہیں۔مسلم کونسل دیماپور نے بتایا کہ مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر نقل مقام جاری ہے ۔ اس دوران کریم گنج میں فرید خان کی تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر ہزاروں سوگواران شریک تھے ۔ جن میں سابق وزیراور کریم گنج (ساؤتھ) رکن اسمبلی صدیق احمد بھی شامل ہیں ۔

اس ڈرائیور کو وحشیانہ انداز میں ہلاک کئے جانے کے خلاف اس کی ریاست آسام کے کئی حصوں میں احتجاج جاری ہے۔ پولیس نے کہا کہ اس واقعہ کے موبائل ویڈیو کلپس کی بنیاد پر یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہے۔ آسام کے کریم گنج اور دیگر کئی علاقوں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت آسام نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کیلئے غیرمعمولی چوکسی اختیار کی ہے۔ مبینہ عصمت ریزی کے ملزم سید فرید خان کی نعش کو ناگالینڈ حکام کی طرف سے حوالگی کے بعد اس کے آبائی مقام آسام کے کریم گنج کو منتقل کردی گئی۔ فرید خان کو دیماپور میں ایک عدالت کی عصمت ریزی کے الزام میں 23 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا اور دوسرے دن عدالتی تحویل کے حکم پر دیماپور سنٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا،

لیکن ایک جنونی ہجوم نے 5 مارچ کو سخت پولیس پہرہ کے باوجود جیل توڑ کر فرید خان کو باہر نکال لیا تھا اور برہنہ کرنے کے بعد بری طرح زدوکوب کیا گیا تھا اور شدید سنگباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ چند جنونیوں نے اس کو موٹر سائیکل سے باندھ کر 7 کیلومیٹر تک گھسیٹا تھا اور وہ دیماپور ٹاؤن کے وسط میں شدید زخموں کے سبب راستہ میں ہی فوت ہوگیا تھا اور جنونی ہجوم نے اس کی نعش کو کلاک ٹاور پر لٹکا دیا تھا۔ اس واقعہ کے خلاف آسام کی وادی براک کے تین اضلاع میں آج 12 گھنٹوں کا بند منایا گیا۔

س دوران مہلوک سید فرید خان کی کریم گنج کے بوسلا گاؤں میں آج صبح سخت ترین سکیورٹی کے درمیان تدفین عمل میں آئی۔ ناگالینڈ کے دیماپور میں جنونی ہجوم کے ساتھ فرید خان کی بہیمانہ ہلاکت کے خلاف مختلف سیاسی، سماجی اور تجارتی تنظیموں نے بند منایا جس کے نتیجہ میں تمام دوکانات اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہیں دیکھی گئی۔ کریم گنج کے ڈپٹی کمشنر سنجیو گوہیان بروا نے کہا کہ فرید خان کی نعش کل شام ذریعہ طیارہ لائی گئی تھی۔ تدفین کے موقع پر کریم گنج (جنوبی) کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر صدیق احمد کے بشمول ہزاروں افراد موجود تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دیماپور میں فرید خان کی موٹر پارٹس کی ایک دُوکان ہے۔ اس دوران حکومت ناگالینڈ نے دیماپور میں عصمت ریزی کے ایک مشتبہ ملزم کو جنونی ہجوم کی طرف سے سڑک پر گھسیٹنے کے واقعہ پر مبنی ویڈیوز کی گشت کے پیش نظر اس ریاست میں 48 گھنٹوں کے لئے انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سرویس مسدود کی ہے۔ سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
اس دوران دیماپور میں گزشتہ دو دن سے جاری امتناعی احکام میں یہ آج نرمی پیدا کی گئی تاکہ مقامی شہریوں کو گرجا گھر میں حاضری کا موقع فراہم ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT