Thursday , July 19 2018
Home / ہندوستان / آسام چیف سکریٹری ، ڈی جی پی پر آر ایس ایس کا کنٹرول

آسام چیف سکریٹری ، ڈی جی پی پر آر ایس ایس کا کنٹرول

چیف سکریٹری کے تقرر میں انٹلیجنس نے آر ایس ایس سے تعلق کی اطلاع نہیں دی:گوگوئی

گوہاٹی ۔ 6 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی نے آج الزام عائد کیا کہ ریاست کے چیف سکریٹری وی کے پیپرسینیااور ڈائرکٹر جنرل پولیس مکیش سہائے پوری طرح آر ایس ایس کے کنٹرول میں ہیں ، جو موجودہ طورپر حکومت چلارہے ہیں۔ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی نے 2015 ء میں جائزہ حاصل کیا تھا جب گوگوئی چیف منسٹر تھے ۔ گوگوئی نے آسام اسمبلی احاطہ کے اندرون پریس کانفرنس میں کہاکہ حکومت موجودہ طورپر چیف سکریٹری ، ڈی جی پی اور چند دیگر عہدیدار چلارہے ہیں ۔ پیپرسینیا اور ڈی جی پی پر آر ایس ایس کا مکمل کنٹرول قائم ہوچکا ہے ۔ ورنہ کیوں چیف سکریٹری جاکر آر ایس ایس والوں سے ملاقات کرتے ؟ تاہم انھوں نے چیف سکریٹری اور آر ایس ایس قائدین کے درمیان کوئی مخصوص میٹنگ کا ذکر نہیں کیا۔ سینئر کانگریس لیڈر نے کہاکہ انٹلیجنس نے اس بیوروکریٹ کی آر ایس ایس سے قربت کے تعلق سے انھیں مطلع نہیں کیا تھا جب انھوں نے اس اعلیٰ عہدہ پر اُن کا تقرر کیا تھا۔ حتیٰ کہ ہمانتا (بسوا شرما) نے میری موجودگی میں راہول گاندھی کو بتایا تھا کہ میں نے آر ایس ایس کے آدمی کو چیف سکریٹری مقرر کردیا۔ مجھے تب اندازہ نہیں ہوا تھا ۔ جس طرح ہمانتا نے مجھے دھوکہ دیا ، پیپر سینیا نے بھی اُسی طرح کا کام کیا ہے ۔ بسوا سرما نے کانگریس چھوڑ کر 2016 ء میں اسمبلی الیکشن سے قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ گوگوئی نے کہا کہ پیپر سینیا قابل اور مستحق عہدیدار ہیں ، اسی وجہ سے اُنھیں ایک اور آفیسر پر ترجیح دیتے ہوئے چیف سکریٹری بنایا گیا ۔ لیکن ہم نے تب آر ایس ایس سے اُن کے تعلق یا قربت پر غور نہیں کیا تھا۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے عمل میں پیشرفت کے تعلق سے بات کرتے ہوئے گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو پہلے مسودے سے بڑی تعداد میں خارج رکھا گیا ہے جو حکومتی سازش کا اشارہ دیتا ہے ۔
اپوزیشن کی نعرے بازی ،گورنر آسام نے تقریر مختصر کردی
اس دوران گوہاٹی میں آج اپوزیشن نے گورنر آسام جگدیش مکھی کو بجٹ سیشن کے پہلے روز اپنی تقریر مختصر کرنے پر مجبور کیا کیونکہ وہ مختلف مسائل پر پلے کارڈس لہراتے ہوئے شوروغل کررہے تھے ۔ 51 صفحات پر مشتمل اپنی تقریر کو شروع کئے گورنر کو پانچ منٹ ہوئے تھے کہ اپوزیشن نے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان میں اُن کے خطبہ کو درھم برہم کردیا ۔ جیسے ہی گورنر نے صاف ستھرے اور شفاف ریاستی نظم و نسق کی بات کہی کانگریس اور دیگر اپوزیشن ارکان نے خود اپنی نشستوں سے اُٹھ کر پرشور نعرے لگائے ۔

TOPPOPULARRECENT