Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / آسام کو القاعدہ اور جے ایم بی کا خطرہ

آسام کو القاعدہ اور جے ایم بی کا خطرہ

نئی دہلی ۔ 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آسام ایسا لگتا ہیکہ القاعدہ اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) جیسی تنظیموں کا نشانہ بننے جارہا ہے۔ چیف منسٹر ترون گوگوئی نے آج یہ بات کہی اور وزیراعظم نریندر مودی سے خواہش کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھائیں تاکہ باہمی اقدامات کے ذریعہ نمٹا جاسکے۔ چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی نے آج وزی

نئی دہلی ۔ 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آسام ایسا لگتا ہیکہ القاعدہ اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) جیسی تنظیموں کا نشانہ بننے جارہا ہے۔ چیف منسٹر ترون گوگوئی نے آج یہ بات کہی اور وزیراعظم نریندر مودی سے خواہش کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھائیں تاکہ باہمی اقدامات کے ذریعہ نمٹا جاسکے۔ چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ ایک سرکاری بیان میں ان کے حوالہ سے کہا گیا ہیکہ آسام ایسا لگتا ہیکہ بنیاد پرست تنظیموں جیسے القاعدہ کا نشانہ بننے جارہا ہے۔ بعض افراد کے جے ایم بی سے روابط ہیں جنہیں حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ترون گوگوئی نے دہشت گردی کے مسائل اور بنیاد پرست تنظیموں سے لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی سے خواہش کی کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ انٹلیجنس اطلاعات کے تبادلے اور باہمی ربط و تعاون یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہاکہ بین ریاستی سطح پر بھی مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں کے مابین اسی طرح کا میکانزم ہونا چاہئے تاکہ بغاوت اور دہشت گردی سے نمٹنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

انہوں نے ریاست میں جہادی سرگرمیوں کا اعتراف کیا لیکن اصل اپوزیشن پارٹی اے آئی ڈی یو ایف کے مبینہ طور پر روابط یا ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بارپیٹا مقدمہ کی تحقیقات این آئی اے کے حوالہ کی جاسکتی ہے جس میں اب تک 6 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے بردوان دھماکوں سے روابط بتائے جاتے ہیں۔ ترون گوگوئی نے بعدازاں وزیرداخلہ راجہ سنگھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آئی ایس آئی اور جہادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس بارے میں کوئی شبہ نہیں۔ ہم اس کی تردید نہیں کرسکتے۔ ترون گوگوئی نے کہا کہ مخالف قوم سرگرمیوں بشمول آئی ایس آئی کی موجودگی سے نمٹنے کیلئے ان کی حکومت تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ ہم آئی ایس آئی یا کسی اور کو یہاں سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع نہیں دیں گے۔ قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کے معاملہ میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT