Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / آسٹریا میں 7 مساجد کے بند کرنے پر ترکی کی سخت تنقید

آسٹریا میں 7 مساجد کے بند کرنے پر ترکی کی سخت تنقید

انقرہ ۔ 9 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام) : ترکی نے جمعہ کو آسٹریا کے 7 مساجد کے بند کرنے اور 40 ائمہ کو برطرف کرنے پر شدید تنقید کی ۔ ان ائمہ پر الزام ہے کہ وہ بیرونی امداد ، غیر قانونی طور پر وصول کررہے تھے ۔ ’ ہم ، آسٹرین سیاست دانوں بطور خاص چانسلر ( سیبتین ) کرزکی سختی سے مخالفت کرتے ہیں کہ یہ اقدام ان کا سیاسی مقصد براری کا حامل ہے ۔ بجائے اس کے وہ ( چانسلر ) نسل پرستی ، اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا و دیگر مسائل کے خلاف لڑتے اور حکمت عملی تخلیق کرتے ‘ ۔ ترکی وزارت خارجہ کے احساسات کو ’ زن ہوا ‘ نے نقل کیا ۔ کرز نے 7 مساجد کے بند کرنے کے اپنے اقدام کی مدافعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’ سیاسی اسلام ‘ پر ان کی ضرب ہے ۔ کرز نے مزید کہا کہ تحقیقات کرنے والوں نے ان 7 مساجد کو ترکش اسلامک کلچرل اسوسی ایشن سے متعلق بتایا تھا جو یہاں ممنوعہ ہے ۔ وزارت نے آسٹریا کو انتباہ دیا کہ اُس کا یہ اقدام اسلاموفوبیا میں اضافہ کا باعث ہوگا اور نسل پرستی بھی یورپ میں بڑھے گی ۔ جس سے حالیہ در آئی اصلاحات میں کمی واقع ہوگی ۔ ترکش وزیر خارجہ میولٹ کاوسو گلو نے جمعہ کو عہد کیا کہ وہ اس نا انصافی کے خلاف ڈٹ جائیں گے اور ترکی شہریوں ، جو آسٹریا میں مقیم ہیں ، کے حق کے لیے آواز بلند کریں گے ۔ کاوسوگلو نے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے آسٹرین ہم منصب ’ کارن نیسل ‘ سے کہا کہ وہ کرز کے بیان پر اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہیں ۔
رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT