Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / آسٹریلیا میں آٹھ بچوں کو ہلاک کرنے والی ماں گرفتار

آسٹریلیا میں آٹھ بچوں کو ہلاک کرنے والی ماں گرفتار

کرائینس ۔ 20ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کی پولیس نے آج کہا کہ اُس نے ایک ماں کو گرفتار کرلیا ہے جس نے گزشتہ روز آٹھ بچوں کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا۔ ان میں بجز ایک تمام سات اُس کے ہی بچے تھے۔ یہ واقعہ شمالی شہر کرائینس میں پیش آیا جہاں ہر طرف سنسنی ، غم و اندوہ کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ پولیس افسران نے بچوں کی موت کی وجوہات کا انکشاف ن

کرائینس ۔ 20ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کی پولیس نے آج کہا کہ اُس نے ایک ماں کو گرفتار کرلیا ہے جس نے گزشتہ روز آٹھ بچوں کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا۔ ان میں بجز ایک تمام سات اُس کے ہی بچے تھے۔ یہ واقعہ شمالی شہر کرائینس میں پیش آیا جہاں ہر طرف سنسنی ، غم و اندوہ کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ پولیس افسران نے بچوں کی موت کی وجوہات کا انکشاف نہیں کیا۔ مقتول بچوں کی عمر میں چند ماہ سے 15 سال کے درمیان ہیں۔ نعشوں کے قریب چھریاں بھی دستیاب ہوئی ہیں۔ انسپکٹر سراغ رسانی برونو اسنیکار نے کہا کہ سیاہ فام ایمیگرنٹ 37 سالہ خاتون کئی بچوں کی ماں ہے جس کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بچوں کا قتل کرنے کے الزام کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے اور فی الحال وہ کرائینس بیس ہاسپٹل میں رکھی گئی ہے جہاں سخت پولیس پہرہ دیا جارہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد کرائینس کے سارے علاقہ میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ۔ مقام واردات پر سوگواروں نے پھول رکھتے ہوئے بے قصور مقتول بچوں کو خراج عقیدت ادا کیا ۔

جگہ جگہ چرچ سرویسس کا اہتمام کیا گیا ۔ اس دوران پولیس نے کہا کہ وہ آبنائے کے جزیرہ تویس سے تعلق رکھنے والی برادری کے ارکان سے قریبی ربط میں ہے کیونکہ اس درندہ صفت ماں کا اس برادری کے ایک خاندان سے تعلق ہے۔ پولیس نے دو سال ، 11 سال ، 12 سال اور 14 سال کی چار لڑکیوں کے علاوہ پانچ چھ، آٹھ اور 9 سال کے چار بچوں کی موت کی توثیق کی ہے ۔ گرفتار شدہ سیاہ فام عورت سات بچوں کی ماں اور اس کے ہی ہاتھوں مقتول ایک 14 سالہ لڑکی کی خالہ ہے۔ ظالم ماں کے ہاتھوں اپنے ہی سات کمسن بچوں اور ایک بھانجہ کے قتل کے اس واقعہ نے سارے آسٹریلیا کو مغموم کردیا ہے جبکہ یہ ملک 15 ڈسمبر کو سڈنی کی ایک ہوٹل پر واحد دہشت گرد کے حملے اور تین بے قصور یرغمالیوں کی موت کے صدمہ سے اُبھر رہا ہے ۔ سوگواروں میں وہ پانچ افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھی ان مہلوک بچوں میں سے چند بچوںکے باپ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT