آسٹریلیا نے مغربی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا

سڈنی 15 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا نے اب مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے ۔ وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے یہ بات بتائی تاہم انہوں نے کہا کہ تل ابیب کو سفارتخانہ منتقل کرنے کے تنازعہ پر کوئی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائیگا جب تک وہاں امن قائم نہیں ہوجاتا ۔ موریسن نے یہ بھی عہد دہرایا ہے کہ وہ مستقبل کی فلسطینی مملکت کو مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ تسلیم کرینگے کیونکہ امن معاہدہ کے مسودہ میں یہی بات کہی گئی ہے۔ موریسن نے سڈنی میں اپنی ایک تقریر کے دوران کہا کہ اب آسٹریلیا مغربی یروشلم کو جہاں کئی سرکاری ادارے وغیرہ ہیں اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے ۔ اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی یروشلم کو اپنا شہر قرار دیتے ہوئے دعویٰ پیش کرتے ہیں۔ بیشتر ممالک نے اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کرنے سے گریز کیا ہوا ہے تاکہ بات چیت کے عمل کو کوئی
نقصان نہ ہوجس میں اس شہر ے قطعی موقف کے تعلق سے کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکی سفارتخانہ کو جاریہ سال یہاں منتقل کردیا ہے ۔ موریسن نے کہا کہ ہم جب کبھی ممکن ہوسکے گا اپنا سفارتخانہ مغربی یروشلم منتقل کرینگے اور اس شہر کے تعلق سے جو کچھ بھی قطعی فیصلہ ہوگا اس کی تائیدکرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ عبوری طور پر آسٹریلیا دفاعی موقف اختیار کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ شہر کے مغربی حصہ میں ہی رکھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا دو قومی نظریہ کے حل کا پابند ہے اور وہ مستقبل کی فلسطینی مملکت کی عوامی خواہش کا بھی احترام کرتا ہے اور اس کے خیال میں مشرقی یروشلم اس مملکت کا دارالحکومت ہوسکتا ہے ۔ موریسن نے سب سے پہلے ماہ اکٹوبر میں ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اسرائیل کی سمت جھکاؤ ظاہر کیا جس پر آسٹریلیا کے قریبی پڑوسی انڈونیشیا نے شدید اعتراض کیا تھا ۔ انڈونیشیا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے ۔ آسٹریلیا کے اس فیصلے کے بعد سے ان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی برسوں سے جاری باہمی تجارتی معاہدہ پر بات چیت بھی تعطل کا شکار ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT