Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / آسیان کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

آسیان کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

نائی پائی تا ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور آسیان کے مابین روابط میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہے، وزیراعظم نریندر مودی نے 10 ممالک پر مشتمل اس بلاک کو ہندوستان کے نئے معاشی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے ’’میڈ ان انڈیا‘‘ کی بھرپور مدافعت کی اور انہیں اس بلاک کی تائید بھی حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے راونڈ ٹیبل پر ہندی میں تب

نائی پائی تا ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور آسیان کے مابین روابط میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہے، وزیراعظم نریندر مودی نے 10 ممالک پر مشتمل اس بلاک کو ہندوستان کے نئے معاشی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے ’’میڈ ان انڈیا‘‘ کی بھرپور مدافعت کی اور انہیں اس بلاک کی تائید بھی حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے راونڈ ٹیبل پر ہندی میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے معاشی ترقی، صنعتی فروغ اور تجارت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی پذیر ممالک اور آسیان ایک دوسرے کے پارٹنر بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ’’مشرق کی سمت دیکھو‘‘ پالیسی کو ’’مشرق کو کام کرنے دو‘‘ پالیسی میں بدل دیا گیا ہے۔ نریندر مودی نے آسیان قائدین کو یہ یقین دہانی کرائی کہ علاقائی بلاک کے ساتھ ہندوستان کے روابط کے معاملہ میں وہ شخصی طور پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں ایک نئے معاشی سفر کا آغاز کیا ہے اور

آپ تمام کو ہندوستان کے اس نئے ماحول میں مدعو کیا جاتا ہے۔ آسیان آئندہ سال کے ختم تک ایک معاشی کمیونٹی بننے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ مودی کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ہندوستان نے 10 چھوٹی اور اوسط معیشتوں پر مشتمل اس بلاک کے ساتھ باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے کا عمل شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے روابط میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں ہوگی۔ ہم دنیا بھر میں چیلنجس اور مواقع کی اسی انداز میں حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مودی نے یہ بھی کہا کہ ہند ۔ آسیان روابط کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہند ۔ آسیان تجارت تقریباً 76 بلین ڈالر کی ہے جو آسیان کی مجموعی تجارت کا صرف 3 فیصد ہے۔ 2015ء تک باہمی تجارت کو 100 بلین ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ مودی نے خاص طور پر یہ بات نوٹ کی کہ ہندوستان اور آسیان باہمی تعاون میں اضافہ کے خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ علاقہ میں توازن، امن اور استحکام بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت گذشتہ 6 ماہ سے چل رہی ہے اور مشرقی خطہ کے ساتھ جو روابط مستحکم کئے جارہے ہیں

اور باہمی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہیکہ نئی حکومت اس خطہ کو ترجیح دیتی ہے۔ وزیراعظم نے میانمار انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی اور بہتری کے ذریعہ رابطہ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ نریندر مودی نے راونڈ ٹیبل پر آسیان قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد ان سے علحدہ ملاقاتیں کیں اور ہندوستان کی ’’میڈ ان انڈیا‘‘ مہم کی بھرپور وکالت کی۔ نریندر مودی کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر تھائی لینڈ کے وزیراعظم کے حوالہ سے کہا گیا ہیکہ وہ میک ان انڈیا مہم سے متاثر ہیں اور اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہیں۔ تھائی لینڈ بھی اپنی معیشت کیلئے اسی طرح کی مہم شروع کرسکتا ہے۔ نریندر مودی نے ملیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق سے ملاقات کے دوران بھی یہی بات دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا مہم کو وہ غیرمعمولی اہمیت دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملیشیا کی کمپنیاں ہندوستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ملیشیا کیلئے کافی مواقع ہیں۔ نریندر مودی نے سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لوم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ آسیان میں ہندوستان کیلئے غیرمعمولی خیرسگالی پائی جاتی ہے۔ آسیان 10 ممالک برونی، کمبوڈیا، انڈونیشیاء، لاوس، ملیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام پر مشتمل ہے۔

TOPPOPULARRECENT