Monday , August 20 2018
Home / ہندوستان / آصفہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ

آصفہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ

جموں ۔ 3 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوا کے رسانہ نامی گاؤں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ضلع کٹھوا میں ہفتہ کے روز ایک بے نام تنظیم کی اپیل پر ہڑتال کی گئی۔ کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے جانے والے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گزشتہ ہفتے ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ اور بار ایسوسی ایشن کٹھوا نے اس ہڑتالی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کال دینے والی بغیر نام کی تنظیم، ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوا کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی (کرائم برانچ پولیس) ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے ۔ یہ تینوں جماعتیں کرائم برانچ کے تحقیقاتی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیکر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں اور اس کے لئے ایجی ٹیشن کررہی ہیں۔ ان جماعتوں نے ہڑتال کے دوران ہفتہ کو کٹھوا میں متعدد جگہوں پر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر احتجاجی دھرنے دیے ۔ انہیں ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ہندو ایکتا منچ کے لیڈران نے احتجاجی دھرنے کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کرائم برانچ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دباؤ میں کام کررہی ہے جبکہ کشمیری علیحدگی پسند بشمول جے کے ایل ایف چیئرمین یاسین ملک اس پر سیاست کررہے ہیں۔ منچ نے کشمیر کے میڈیا پر الزم لگایا ہے کہ وہ کیس کی منفی رپورٹنگ کررہا ہے اور اس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے ۔ منچ کے قائدین نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کیس کی سی بی آئی انکوائری پر مجبور کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز آٹو رکشا میں نصب لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ کٹھوا ٹاون اور مضافاتی علاقوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ لوگوں کو بغیر نام کی تنظیم کے افراد کو لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ یہ اعلان کرتے ہوئے سنا گیا ۔ ’’آصفہ کیس کی سی بی آئی جانچ کو لیکر کل (ہفتہ کو) کٹھوا بند کا اعلان کیا گیا ہے۔اہلیان کٹھوا سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کل اپنی دکانیں بند رکھیں اور پہیہ جام ہڑتال کریں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT