Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آصفہ کو انصاف دلانے سرگرم ‘ پولیس عہدیدار اور وکیل دونوں ہندو

آصفہ کو انصاف دلانے سرگرم ‘ پولیس عہدیدار اور وکیل دونوں ہندو

انسانیت ابھی زندہ ہے
آصفہ کو انصاف دلانے سرگرم ‘ پولیس عہدیدار اور وکیل دونوں ہندو
ایس ایس پی رمیش جلہ نے مقررہ مہلت کے اندر چارچ شیٹ داخل کردی ۔ دپیکا سنگھ رجاوت نے دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی

حیدرآباد 15 اپریل ( سیاست نیوز) کٹھوا میں ایک آٹھ سالہ معصوم لڑکی کی عصمت ریزی اور پھر اسے قتل کرنے کے واقعہ نے سارے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ملک و سماج کا کوئی گوشہ اور طبقہ ایسا نہیں ہے جس نے اس شرمناک واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار نہ کیا ہو اور نہ متاثرہ لڑکی سے اظہار ہمدردی نہ کیا ہو۔ اس واقعہ نے ہندوستان کو اپنی قدیم روایت میں ایک بار پھر ڈھال دیا ہے جہاں سماج کے دو اہم فرقے ایک دوسرے کے رنج و غم اور خوشیوں میں برابر کے شریک ہوا کرتے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد جو قانونی اور انتظامی کارروائیاں ہوئیں اور جو احتجاج ہوا اس نے انسانیت میں یقین کو مزید مستحکم کردیا ہے ۔ ساری ہندوستانیوں نے یہ ثبوت پیش کردیا کہ فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے مفاد پرستوں کی کوششوں کے باوجود ملک میں انسانیت باقی ہے اور یہ سب سے زیادہ طاقتور ہے ۔ آصفہ کیلئے ملک بھر میں احتجاج منظم کرنے والوں کی اکثریت ہندو عوام کی ہے جو ایک معصوم مسلم لڑکی کو انصاف دلانے کیلئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور حکومتوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کیلئے سڑکوں پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور خاطیوں کو سزائے دلانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اس احتجاج اور غم و غصہ کی لہر کے علاوہ ایک پہلو ایسا ہے جو انتہائی خوش آئند کہا جاسکتا ہے ۔ معصوم آصفہ کو انصاف دلانے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کا جو قانونی پہلو تھا اسے جموں کی پولیس اور ایک خاتون وکیل نے سنبھالا ہوا ہے ۔ سب سے پہلے تو جموں رینج کے ایس ایس پی رمیش جلہ ہیں جنہوں نے مختلف گوشوں سے بہت زیادہ دباؤ کے باوجود اپنے فرض کو پس پشت نہیں ڈالا ۔ انہیں کئی طرح سے روکنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اس کیس میں تحقیقات میں مستعدی نہ دکھائیں اور نہ پیشہ ورانہ دیانت سے کام لیں۔ مستعدی اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ رمیش جلہ کی انسانیت نے سب سے اہم پیام دیا ہے اور انہوں نے خاطیوں کے خلاف پوری سرگرمی کے ساتھ تحقیقات کیں اور عدالت کی جانب سے دی گئی 90 دن کی مہلت کے ختم ہونے سے ابھی 10 پہلے ہی چارچ شیٹ عدالت میںپیش کردی ہے ۔ آج آصفہ کیلئے احتجاج کیا جا رہا ہے اور اس کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو یہ سب کچھ اسی چارچ شیٹ سے سامنے آئیں حقائق کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک خاتون وکیل ہیں۔ محترمہ دپیکا سنگھ رجاوت جو ہائیکورٹ میں آصفہ کے والدین کی وکیل ہیں۔ وہ بھی کئی گوشوں سے پڑنے والے دباؤ اورحد تو یہ ہے کہ دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر ڈٹی ہوئی ہیں اور آصفہ کو انصاف دلانا چاہتی ہیں۔ دپیکا سنگھ رجاوت کو جموں بار اسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے اس کیس کی پیروی کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ انہیں دھمکایا بھی گیا تھا اور احتجاج بھی کیا گیا تھا لیکن سلام ہے اس کشمیری پنڈت ہندوستان کی بیٹی کو جو ایک معصوم لڑکی کو انصاف دلانے کیلئے ڈٹی ہوئی ہیں۔ انہوں نے نہ دھمکیوں کی پرواہ کی اور نہ کسی دباؤ کو قبول کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ملزمین کے حامی مسلسل کوشش کر رہے تھے کہ اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی جائیں۔ فی الحال یہ تحقیقات جموں کرائم برانچ کی جانب سے کی جا رہی ہیں اور اسی نے عدالت میں چارچ شیٹ پیش کی ہے ۔ مفادات حاصلہ چاہتے تھے کہ کیس سی بی آئی کو دے کر برفدان کی نذر کردیا جائے اور ملزم درندے آزاد ہوجائیں۔ تاہم شاباش ہیں جموں و کشمیر کے ڈی جی پی ایس پی وید جنہوں نے شدت سے مزاحمت کرتے ہوئے کیس کو سی بی آئی کے سپرد کرنے سے انکار کردیا ۔ وہ بھی متوفی کو انصاف دلانا چاہتے ہیں اور انہوں نے کیس کی ذمہ داری جموں کرائم برانچ ہی پر برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کیا تھا۔آصفہ کیس کو ہندو ۔ مسلم مسئلہ بنانے فرقہ پرستوں کی کوششیں تو بہت تھیں لیکن یہ انسانیت نواز ہندو ہی ہیں جو اس معصوم کو انصاف دلانے کیلئے مذہب کو نہیں انسانیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT