Monday , December 11 2017
Home / مضامین / آصف الرحمن …شکاگو میں حیدرآبادی سپوت

آصف الرحمن …شکاگو میں حیدرآبادی سپوت

ڈپٹی بلڈنگ کمشنر کی حیثیت سے غیر معمولی مقبولیت

سیاست فیچر
اہل حیدرآباد نے دنیا بھرمیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ حیدرآباد نے کئی ایسے ہونہار سپوت تیار کئے جو آج بھی امریکہ میں سرکاری اداروں کیلئے ناگزیر بن چکے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی دیانتداری، قابلیت اور محنت ہے۔ شکاگو کے ڈپارٹمنٹ آف بلڈنگس میں ڈپٹی بلڈنگ کمشنر کی حیثیت سے گزشتہ 27 برسوں سے نمایاں خدمات انجام دینے والے جناب آصف الرحمن کا تعلق حیدرآباد سے  ہے۔ شکاگو کی تاریخ میں اپنا نام کچھ اس طرح درج کرایا کہ بعض وجوہات کے سبب انہوں نے جب ملازمت سے استعفیٰ دیدیا تو عوام کی جانب سے انہیں واپس طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ آخر کار شکاگو کے میئر RAHM Emanuel کو ان کی خدمات پر واپسی کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ جناب آصف الرحمن نے 27 برسوں کے دوران اپنی خدمات کا کچھ اس طرح لوہا منوایا کہ 500 سے زائد آرکیٹکٹس اور ڈیولپرس نے حکام سے نمائندگی کرتے ہوئے ڈپارٹمنٹ آف بلڈنگ میں انہیں واپس طلب کرنے کیلئے زبردست نمائندگی کی۔ جناب آصف الرحمن ان دنوں مختصر قیام کیلئے حیدرآباد میں ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر معین انصاری کے ہمراہ دفتر سیاست پہنچ کر جناب زاہد علی خاں اور جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی۔ سیاست کو ایک خصوصی انٹرویو میں جناب آصف الرحمن نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دیانتداری ، محنت اور لگن کے ساتھ فرائض کی انجام دہی عوام کے دلوں میں مقام پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہیکہ شکاگو کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ میں وہ اعلیٰ عہدہ پر فائز واحد مسلم عہدیدار ہیں۔ ان کے تجربے اور بلڈنگ قواعد پر عبور کے سبب وہ نہ صرف ڈپارٹمنٹ بلکہ عوام میں بھی کافی مقبول ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ کسی امتیازی سلوک سے انکار کیا اور کہا کہ اگر قابلیت ہو تو کوئی بھی شخص اپنے آپ کو منواسکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں ملازمت کے حصول کے خواہاں نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مکمل قابلیت اور صلاحیت کے ساتھ امریکہ کا رخ کریں تو انہیں کسی بھی قدم پر مایوسی نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا ہیکہ امریکہ میں کوئی بھی شخص دیانتداری، محنت و لگن ، قابلیت اور کام پر مکمل توجہ کے ذریعہ ہر شعبہ میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ جناب آصف الرحمن کے والد جناب محمد جمیل الرحمن مرحوم اے جی آفس میں عہدیدار تھے۔ انہوں نے اپنے فرزند کی تربیت مکمل اسلامی طرز پر کی اور یہ سبق دیا کہ زندگی میں ہمیشہ ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا شعار بنائیں۔ جناب آصف الرحمن نے گرامر اسکول سے ایس ا یس سی کی تعلیم مکمل کی اور پھر عالیہ جونیئر کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کی۔ 1980 ء میں امریکہ روانہ ہوئے اور میکانیکل انجنیئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے ابتداء میں شکاگو کے فائر ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی، بعد میں وہ بلڈنگ ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ہوگئے۔  اس ڈپارٹمنٹ کے تحت عمارتوں کی تعمیر اور ترمیم سے متعلق پرمٹ و لائسنس کی اجرائی ، عمارتوں میں سیفٹی اقدامات کا جائزہ لینا عمارتوں کا سالانہ معائنہ اور عوامی شکایات کی یکسوئی جیسے امور شامل ہیں۔ جناب آصف الرحمن ان تمام امور سے متعلق قوانین کو جیسے حفظ کرچکے ہیں جو کہ 600 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکاگو کا کوئی بھی آرکٹیکٹ اور ڈیولپر ان سے رجوع ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ڈپارٹمنٹ میں ان کی مقبولیت بعض اعلیٰ عہدیداروں پر گراں گزر رہی تھی جس کے نتیجہ میں انہیں اندرونی طور پر بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کی مبینہ ہراسانی سے عاجز آکر جناب آصف الرحمن نے ایک سال قبل عہدہ سے استعفیٰ کا پیشکش کیا ۔ تاہم اس وقت کے میئر شکاگو نے مداخلت کی اورانہیں استعفی سے باز رہنے کی ترغیب دی۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے محکمہ میں ان کی مقبولیت کو گھٹانے کیلئے تین نئے عہدیداروں کو ان کے کام کے ساتھ جوڑدیا ، جو اگرچہ تجربہ کار تھے لیکن بلڈنگ ڈپارٹمنٹ کے قواعد سے ناواقف تھے۔ آرکیٹکٹ اور ڈیولپرس کو اپنے مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں دشواریاں پیش آنے لگی۔ اسی دوران جناب آصف الرحمن نے یکم مئی 2015 ء کو عہدہ سے استعفیٰ دیدیا جس کے بعد تین مہینے تک وہ ہاؤزنگ اتھاریٹی آف کوک کاؤنٹی میں ڈائرکٹر آف کنسٹرکشن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

آخر کار شکاگو کے میئر نے ان کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیدار کا تبادلہ کردیا اور انہیں دوبارہ ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرلیا۔ اس طرح 16 اگست 2015 ء کو جناب آصف الرحمن دوبارہ ڈپٹی بلڈنگ کمشنر کے عہدہ پر رجوع ہوگئے۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ہفتہ کے پانچ دن میں وہ 70 تا 80 گھنٹے تک کام کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں انہیں غیر معمولی مہارت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں صلاحیتوں کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی باصلاحیت شخص اہم مقام سے محروم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھ امتیازی سلوک ہو لیکن قابلیت اور صلاحیت ترقی کی راہ میں پیشرفت کا سبب بنے گی۔ وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس شعبہ سے وابستہ نوجوانوں کو امریکہ میں مواقع فراہم کریں۔ جناب آصف الرحمن مذہبی پس منظر کے سبب غریبوں کی دادرسی کے کام انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان میں کئی غریب گھرانوں کی مدد اور ان کی ضروریات کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کی ملی خدمات کی ستائش کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی تعلیمی ، سماجی خدمات اہل حیدرآباد کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT