آصف جاہی دور کی ترقی ، ساری دنیا کے لیے مثال

حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) متحدہ ریاست آندھراپردیش کے قیام کو علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑانقصان قراردیتے ہوئے فضل علی کمیشن نے تلنگانہ اور آندھراکے جبراً انضمام کو علاقہ تلنگانہ کی عوام کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفیوں کے خدشات کاواضح اشارہ دیا تھا جس کو انڈین یونین یکسر نظر انداز کرتے ہوئے لسانی بنیاد پر متحدہ ریاست

حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) متحدہ ریاست آندھراپردیش کے قیام کو علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑانقصان قراردیتے ہوئے فضل علی کمیشن نے تلنگانہ اور آندھراکے جبراً انضمام کو علاقہ تلنگانہ کی عوام کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفیوں کے خدشات کاواضح اشارہ دیا تھا جس کو انڈین یونین یکسر نظر انداز کرتے ہوئے لسانی بنیاد پر متحدہ ریاست آندھرا پردیش کا قیام عمل میں لایا جس کا راست نقصان علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو ہوا ۔انضمام کے بعد تلنگانہ کے مسلمانوں کو پیش آئے مشکلات اور علیحدہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف پر تبادلہ خیال کے دوران تلنگانہ راشٹریہ لوک دل قائد ورکن قانون ساز کونسل مسٹر دلیپ کمار نے یہ بات کہی۔

انہوں نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل سرکاری محکموں ‘ ریاستی انتظامیہ اور خانگی شعبوں میں مسلمانوں کی حصہ داری چالیس فیصد کے قریب تھی مگر انگریزی زبان سے عدم واقفیت کی بنیاد پر آندھرائی قائدین نے مسلمانوں کو تلنگانہ کے تمام شعبہ حیات سے بیدخل کرنے کاکام کیا ۔ انہوں نے حیدرآباد کی مشترکہ تہذیب کے خلاف بھی سازشوں کا آندھرائی قائدین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ آندھراپردیش ریاست قائم ہونے سے قبل ریاست حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کا مرکز تھا۔انہوں نے تاریخی واقعات کو غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے علاقہ تلنگانہ کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کا بھی آندھرا ئی قائدین پر الزام عائد کیا اور کہاکہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل اور تلنگانہ کے فرقہ وارانہ بھائی چارے کو متاثر کرنے کے لئے آندھرائی قائدین نے تاریخ کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔مسٹر دلیپ کمار نے آصف جاہی دور کی ترقی کو ساری دنیا کے لئے ایک مثال قراردیتے ہوئے کہاکہ حکمران ہونے کے باوجود اپنی رعایہ کو جمہوری حقوق فراہم کرنے کاکام صرف آصف جاہی حکمرانوں نے انجام دیا ہے ۔

انہو ں نے علاقہ تلنگانہ میں اُردو اور تلگو کے ساتھ آصف جاہی حکمرانوں کے یکساں رویہ کو آندھرائی حکمرانوں کے لئے ایک مثال قراردیتے ہوئے کہاکہ حکمران کا کام ہی تمام اقوام‘ طبقات اور زبانو ں کے ساتھ انصاف ہوتا ہے جس کو بہ خوبی آصف جاہی حکمرانوں نے انجام دیا ۔ مسٹر دلیپ کمار نے پچھلے ساٹھ سالوں میںمسلمانوں کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کو ختم کرنے کے لئے نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمانو ںکو آبادی کے تناسب سے تحفظات کو لازمی قراردیا اور کہاکہ ریاست کی تمام علاقائی اور قومی جماعتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کی پہل 2014کے عام انتخابات سے کریں ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے علاوہ دلت‘ پچھڑے اور پسماندہ طبقات کی ایوانوں میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہ صرف علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں اور مذکورہ طبقات کی حالت زار میںتبدیلی ہوگی بلکہ تلنگانہ میں سماجی مساوات کیلئے پہل کا اقدام بھی ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT