Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / آصف جاہی دور کے کارناموں کو اجاگر کرنے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی ضرورت

آصف جاہی دور کے کارناموں کو اجاگر کرنے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی ضرورت

حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز)آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خان کے کارنامے بیان کرتے ہوئے مدیر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے کہاکہ چین کے ہندوستان پر حملے کے پیش نظر نظام سابع نے انڈین یونین کے ڈیفنس فنڈ میں پانچ ٹن سونا بطور عطیہ دیتے ہوئے حکومت ہند کوچین سے مقابلے کا موقع فراہم کیاتھا۔آج یہاں اُردو ہال حمایت نگر میںڈاکٹر

حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز)آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خان کے کارنامے بیان کرتے ہوئے مدیر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے کہاکہ چین کے ہندوستان پر حملے کے پیش نظر نظام سابع نے انڈین یونین کے ڈیفنس فنڈ میں پانچ ٹن سونا بطور عطیہ دیتے ہوئے حکومت ہند کوچین سے مقابلے کا موقع فراہم کیاتھا۔آج یہاں اُردو ہال حمایت نگر میںڈاکٹر سید دائو د اشرف کی تصنیف ’’ریاست حیدرآباد کے آخری حکمراں کی وسیع النظری‘‘ کی رسم اجرائی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔ اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب زاہد علی خان نے بتایا کہ سلطنت آصفیہ کے انڈین یونین میںضم ہوجانے کے بعد حکومت ہند نے ریاست حیدرآباد کے راج پرمکھ کی حیثیت سے نواب میر عثمان علی خان کا تقرر عمل میںلایاتھا اور حکومت ہندنے اس کا معاوضہ بھی مقرر کیا تھا مگر آصف جاہ سابع نے اپنی پوری تنخواہ تنگابھدرا پراجکٹ پرصرف کردی تاکہ اپنی رعایا کو اس کا فائدہ پہنچے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانی ختم ہوجانے کے بعد بھی آصف جاہ سابع کے دل سے اپنی رعایا کے متعلق جو محبت اور جذبہ تھا اُس میںکسی قسم کی کوئی کمی نہیںآئی۔انہوںنے مزیدکہاکہ اقتدار سے محرومی کے باوجود اس قدر عوام سے محبت کی مثال کسی اور حکمران یا بادشاہ میں دیکھنے کو نہیںملی۔ ایڈیٹر سیاست نے حکومت تلنگانہ کے موافق آصف جاہی حکمران رویہ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ایوا ن اسمبلی میں متعدد مرتبہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے نظام ہشتم کو اپنا بادشاہ قراردیتے ہوئے تلنگانہ کی ترقی کو نظام سابع کی مرہون منت قراردیا ہے اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد وہ نظام سابع کی مدح سرائی میںآگے ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ آصف جاہی دور حکمرانی کے متعلق پائی جانے والی بدگمانیوںکو دور کرنے کے لئے ادارے سیاست کی جانب سے حیدرآباد جو کل تھا کے عنوان سے تلنگانہ کے غیرمسلم دانشوروں کا انٹرویو شائع کیا جارہا ہے جس کا مقصد ریاست حیدرآباد کی قدیم تہذیب کے متعلق عوام کو واقف کروانا ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ جس طرح نظام سابع کے دور حکمرانی سے متاثر ہے حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ آصفیہ دور حکمرانی پر ریسرچ کے لئے ایک انسٹیٹیوٹ قائم کرے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آصف جاہی دور کے کارناموں کااحاطہ کرنے کے لئے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام نئی ریاست کے لئے وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے جگہ فراہم کرنے پر ادارۂ سیاست کی جانب سے انسٹیٹیوٹ کی عمارت تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ جناب زاہد علی خان نے عالیہ اور محبوبیہ اسکول وکالج کے قدیم تعلیمی نظام کا احیاء عمل میںلانے کے لئے مذکورہ دونوں تعلیمی اداروں کو ادارۂ سیاست کے حوالے کرنے کی بھی تجویز پیش کی تاکہ جس مقصد سے مذکورہ تعلیمی اداروں کا قیام عمل میںلایا گیا تھا اس کو برقرار رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میںجب یہ تجویز پیش کی گئی تو مجھے سینکڑوں کی تعداد میںبیرونی ممالک سے خطوط اور ای ۔میل موصول ہوئے جن میںغیرمقیم ہندوستانیوںنے اسکول کے کلاسس کو عصری بنانے کی ذمہ داری لینے کا وعدہ کیا تھا تاہم مختلف سازشوں کے سبب چندرا بابو نائیڈو حکومت اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبو ر ہوگئی تھی۔انہوں نے ریاست کی ترقی بالخصوص ریاست حیدرآباد کے قدیم گنگاجمنی تہذیب کی احیاء میںحکومت تلنگانہ کو سنجیدہ قراردیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میںسکیولر ذہن کے حامل افراد کو نئی حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں جن کو پورا کرنے میںحکومت ضرور کامیاب ہوگی۔ جناب زاہد علی خان نے ریاست حیدرآباد کے آخری حکمران کی وسیع النظری کے مصنف کو دل کی گہرائیوںسے مبارکباد پیش کرتے ہوئے مذکورہ کتاب کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ نائب وزیر اعلی الحاج محمد محمود علی نے کتاب کی رسم اجرائی انجام دینے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ وچیف منسٹر تلنگانہ ریاست مسٹر کے چندرشیکھر رائو پچھلے 14 سالوں سے ہر موقع پر نظام دکن کے کارناموں کو عوام کے سامنے پیش کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ یقینا ریاست حیدرآباد کے علاقہ تلنگانہ کے آندھرا میںانضما م کے بعد تلنگانہ کے ساتھ بہت ناانصافی کی گئی بالخصوص خاندان آصف جاہی کے متعلق بدگمانیاںپھیلاکر پائیگاہ‘ خورشید جاہ‘ سالار جنگ کی اراضیات کو ذاتی ملکیت میں تبدیل کیاگیا ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ لاکھ مخالفت اورالزام تراشیوں کے باوجود مسٹر کے سی آر نے نظام سابع کی مزار پر حاضری دیکر گلہائے عقیدت پیش کیا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ یقینا وزیراعلی تلنگانہ میںتلنگانہ کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کا احیاء چاہتے ہیں جہاں پر ریاست کے تمام طبقات او رقوموں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پہل کے طور پر ریاست کے نائب وزیراعلی کے عہدے پر ایک مسلمان کو فائز کرتے ہوئے انہوںنے نظام دکن نواب میرعثمان علی خان بہادر کے عہد کی یاد تازہ کردی۔انہوں نے ڈاکٹر سید دائود اشرف کو اس موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس قسم کے مواد کے ذریعہ نوجوان نسل کو آصف جاہی حکمرانوں کے کارناموں سے واقف کروانے پر زوردیا۔انہوں نے تعلیمی نصاب میں آصف جاہی دور حکومت کے کارناموں کو شامل کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ تلنگانہ کی نوجوان نسل کو آصف جاہی حکمرانوں کے کارناموں سے واقف کروانے میںمدد مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ آصف جاہی دور حکمرانی ساری دنیا کے لئے ایک مثال تھی جہاں پر سکھ برداری کی درخواست پر انہیں پرسکون زندگی گذارنے کے لئے اراضیات فراہم کئے گئے تھے‘ کائستھ طبقے کے لئے خصوصی رعایتیں فراہم کی گئی تھیںمگر تعصب پسند مورخین نے نظام دکن کے کارنامو ںکو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے آصف جاہی دور کی حقیقی تاریخ کو فراموش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مطلق العنان ہونے کے باوجود نظام دکن سو فیصد سکیولر حکمران تھے جن کا دور حکمرانی ایک مثال تھا۔ ڈاکٹر سید دائود اشرف‘ پروفیسر سلیمان صدیقی پروفیسر مجید بیدار‘ ڈاکٹر نسیم الدین فریس ‘ شریمتی انورادھا ریڈی‘ جناب شاہد حسین نے بھی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف جاہی دور حکومت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور نظام دکن نواب میر عثمان علی خان کے کارناموں کوبیان کیا۔ جناب ایوب علی خان نے تقریب کی کاروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT