Sunday , July 22 2018
Home / شہر کی خبریں / آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری اور عوامی خدمات کی ستائش

آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری اور عوامی خدمات کی ستائش

آندھرائی حکمرانوں کا غیر منصفانہ رویہ ، چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا بیان
حیدرآباد ۔9۔ نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری اور عوامی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ آندھرائی حکمرانوں نے سلطنت آصفیہ کے ولیعہد نواب مکرم جاہ بہادر کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا جس کے باعث وہ ناراض ہوکر ملک سے چلے گئے۔ اسمبلی میں اقلیتی بہبود پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ مخالفین انہیں تلنگانہ کا نیا نظام کہہ کر پکارتے ہیں، یہ لوگ دراصل نظام حیدرآباد کی تاریخ اور خدمات سے واقف نہیں۔ تلنگانہ کے نام کے ساتھ ہی رضاکاروں کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ نظام حیدرآباد کی مزار پر حاضری کیلئے پہنچے تو آندھرائی قائدین اور میڈیا نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے انہیں جواب دیا تھا کہ ہندوستان کو لوٹنے والے برطانوی سامراج کے انجنیئرس آرتھر کارٹن کو آج بھی آندھراپردیش میں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے تو پھر نظام ساگر اور دیگر رفاہی کام انجام دینے والے نظام حیدرآباد کو کس طرح بھلایا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ نظام تلنگانہ کی تاریخ اور میرے بادشاہ تھے ۔ نظام ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔ انہوں نے نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کے قیام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نظام حیدرآباد جب راج پرمکھ تھے تو ان کے ایک ملازم کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ ملازم جب ایک ڈاکٹر سے رجوع ہوا تھا اس ڈاکٹر نے کہا کہ تمہارے مالک بڑے آدمی ہے لیکن ایک دواخانہ قائم نہیں کیا۔ یہ اطلاع ملتے ہی نواب میر عثمان علی خاں نے اس وقت کے چیف منسٹر بورگل رام کرشنا راؤ سے ربط قائم کرتے ہوئے نمس کیلئے اراضی اور فنڈس فراہم کئے۔ کے سی آر نے کہا کہ نظام کے بارے میں عوام میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے حکومت تلنگانہ کی تاریخ رقم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے جنگ کے موقع پر نظام حیدرآباد سے مدد کیلئے وزیراعظم لال بہادر شاستری رجوع ہوئے تھے۔ نظام نے 6 ٹن سونا ملک کے تحفظ کیلئے فراہم کیا اور کہا کہ ملک کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام دور حکومت کی طرح بھائی چارہ اور محبت کا ماحول تلنگانہ میں برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ نظام جیولری کو حاصل کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت ہر مساعی کرے گی۔ دہلی میں موجود یہ جیولری دراصل تلنگانہ کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھوٹان کے ولیعہد ہندوستان آئے تو وزیراعظم نے جھک کر سلام کیا لیکن سطنت آصفیہ کے ولیعہد مکرم جاہ بہادر سے آندھرائی حکمرانوں نے بہتر سلوک نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT