Monday , November 20 2017
Home / جرائم و حادثات / آصف نگر پولیس کی حراست میں سرقہ کی ملزم خاتون فوت

آصف نگر پولیس کی حراست میں سرقہ کی ملزم خاتون فوت

جاریہ مہینے حراست میں موت کا دوسرا واقعہ ۔ کمشنر پولیس نے انسپکٹر سمیت سات پولیس ملازمین کو معطل کردیا

حیدرآباد۔ 23 اگست (سیاست نیوز) پولیس کے عوام دوست ہونے کے جذبہ پر آج ایک اور ضرب پہونچانے والا واقعہ پیش آیا۔ جاریہ ماہ کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے دو واقعات پیش آئے جن میں دو افراد کی موت واقع ہوگئی۔ 3 اگست کو ماریڈپلی پولیس اسٹیشن میں پولیس کی مارپیٹ کی تاب نہ لاکر بانپافوت ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں مقامی برہم ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا تھا ۔ اندرون 20 دن ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں آج آصف نگر پولیس اسٹیشن ایک خاتون کی پولیس حراست میں موت واقع ہوگئی جس کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس کمشنر ایم مہیندر ریڈی نے کارروائی کرتے ہوئے خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری معطل کردیا۔ جن عہدیداروں کو معطل کردیا گیا ان میں انسپکٹر آصف نگر پولیس اسٹیشن مسٹر کے سریکانت، ڈیٹکٹیو سب انسپکٹر رُشی کیش، اسسٹنٹ سب انسپکٹر شیخ چاند باشا، ہیڈکانسٹیبل محمد نادر علی، کانسٹیبل ایس پرتاپ، کانسٹیبلس محمد خواجہ اور محمد منظور احمد شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھوجا گٹہ مہدی پٹنم کی ساکن خاتون 38 سالہ نکا پدما کو سرقہ کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس سے گزشتہ دو دن سے کڑی تفتیش کی جارہی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مہدی پٹنم کی ساکن دیپتی راج نے آصف نگر پولیس اسٹیشن میں 21 اگست کو سرقہ کی ایک شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ دیڑھ سالہ لڑکے کو دواخانہ میں علاج کی غرض سے گئی ہوئی تھی جہاں پر اس کا نامعلوم افراد نے ہینڈ بیاگ کا سرقہ کرلیا تھا جس میں طلائی زیورات و قیمتی اشیاء موجود تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے دواخانہ کے سی سی ٹی وی کیمرے کے ویڈیو فوٹیج کا تجزیہ کیا جس میں درخواست گذار خاتون نے بھوجا گٹہ کی ساکن منجو کی نشاندہی کی تھی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا تھا۔ منجو نے بیاگ کا سرقہ کرلیا اور مسروقہ ہینڈ بیاگ نکا پدما کے مکان میں چھپادیا۔ پولیس نے پدما کو بھی حراست میں لیتے ہوئے مسروقہ بیاگ برآمد کرلیا لیکن اس میں طلائی زیورات موجود نہیں تھے۔ ڈیٹکٹیو انسپکٹر رُشی کیش اور ان کی ٹیم نے پدما کے قبضہ سے مسروقہ طلائی زیورات برآمد کرنے کیلئے اسے کل شام پولیس اسٹیشن طلب کیا جہاں اس پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے جسمانی اذیتیں دی گئی تھیں۔ پدما پولیس کی تفتیش کی تاب نہ لاکر پولیس اسٹیشن میں گر پڑی اور پریشان پولیس ملازمین نے اسے مقامی دواخانہ منتقل کیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اسے شریک کرنے سے انکار کردیا اور پولیس فوری دواخانہ عثمانیہ میں پدما کو شریک کروانے کیلئے روانہ ہوگئی، لیکن وہ فوت ہوگئی۔ پدما کی موت کے بعد آصف نگر علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور سابق میں ماریڈپلی پولیس اسٹیشن میں ایک شخص کی موت واقع ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن پر ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔ اسی اندیشے کے پیش نظر پولیس نے آصف نگر پولیس اسٹیشن کے قریب سکیورٹی کے وسیع ترین انتظامات کئے اور دواخانہ عثمانیہ میں نعش کے پوسٹ مارٹم کیلئے بھی پولیس بندوبست کیا گیا۔ آر ڈی او اور مقامی تحصیلدار کی موجودگی میں پدما کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور اس کارروائی کی ویڈیوگرافی بھی کی گئی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ متوفی کا پوسٹ مارٹم کرنے والے فارنسک ڈاکٹرس نے ابتدائی رپورٹ میں یہ بتایا کہ پدما کے جسم پر شدید مارپیٹ کے نشانات پائے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ پدما کو حراست میں لینے کے بعد انسپکٹر آصف نگر کے سریکانت کی نگرانی میں کرائم ٹیم نے اس کی کڑی تفتیش کی تھی اور اس تفتیش کے دوران کوئی بھی خاتون کانسٹیبل وہاں موجود نہیں تھی۔ بعد پوسٹ مارٹم پدما کی نعش کو اس کے رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا اور آج شام وجئے نگر کالونی میں واقع شمشان گھاٹ میں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ کمشنر پولیس نے واقعہ کا سخت نوٹ لے کر سنگین غفلت و لاپرواہی برتنے والے سات پولیس ملازمین بشمول انسپکٹر آصف نگر کو معطل کردیا اور اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنٹرل کرائم اسٹیشن مسٹر سومیشور راؤ کو تحقیقاتی عہدیدار مقرر کیا۔ کمشنر پولیس نے معطل شدہ پولیس عہدیداروں کو سٹی آرمڈ ریزو ہیڈکوارٹرس کو رپورٹ کرنے اور جوائنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر کی اجازت کے بغیر شہر نہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ رات دیر گئے کمشنر پولیس نے پی وینکٹیشورلو کو انسپکٹر آصف نگر مقرر کرنے کے احکام جاری کئے۔

TOPPOPULARRECENT